نواز شریف,جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ ہے جو ناقابل قبول شہادت ہے

0
62

سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے سپریم کورٹ کے 28جولائی کے حکم اور ایم آئی و آئی ایس آئی افسران کے جے آئی ٹی کا حصہ بننےکو کونامناسب اور غیرضروری قراردے دیا۔

نوازشریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سوالات کے جوابات پڑھ کر سنائے،پہلے سوال میں نوازشریف نے اپنے عوامی عہدوں کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔

نوازشریف نے عدالت کو بتایا کہ میری عمر 68سال ہے،میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان رہ چکا ہوں۔

نوازشریف کی جانب سے جے آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق جواب دیا گیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی، مجھے جے آئی ٹی کے ممبران پر اعتراض تھا،یہ اعتراض پہلے بھی ریکارڈ کرایا، آئین کا آرٹیکل 10 اے مجھے یہ حق دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر ہے، جے آئی ٹی ممبر بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کےبھانجے ہیں، میاں اظہر کے بیٹے حماد اظہر کی پی ٹی آئی چیئرمین کے ساتھ 24ستمبر 2017ء کو تصاویر لی گئیں، عمران خان کےساتھ یہ تصاویر ان کی رہائش گاہ بنی گالا میں لی گئیں

نوازشریف کا کہنا ہے کہ بلال رسول خود پی ایم ایل این حکومت کےخلاف تنقیدی بیانات دے چکے ہیں، ان کی اہلیہ بھی پاکستان تحریک انصاف کی سرگرم کارکن ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبر عامر عزیز بھی جانبدار ہیں، سرکاری ملازم ہوتے ہوئے سیاسی جماعت سے وابستگی ہے، عامرعزیزمشرف دورمیں میرے اور فیملی کے خلاف نیب ریفرنس نمبر5کی تحقیقات میں شامل رہے۔

انہوں نے کہا کہ واجد ضیاء نے اپنے کزن کے ذریعے جے آئی ٹی تحقیقات کرائیں، تحقیقات میں واجد ضیاءکی جانبداری عیاں ہے ۔

نوازشریف نے مزید کہا کہ موجودہ سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کے اثرات جے آئی ٹی رپورٹ پر پڑے، ایم آئی اور آئی ایس آئی افسران کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا غیر مناسب تھا،میری اطلاعات کےمطابق بریگیڈیئرنعمان سعیدڈان لیکس انکوائری کمیٹی کا حصہ تھے،ڈان لیکس کی وجہ سے سول ملٹری تناؤمیں اضافہ ہوا، جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ سول ملٹری تناؤپاکستان کی تاریخ کے 70سال کے زائد عرصے پر محیط ہے، پرویز مشرف کی مجھ سے رقابت 1999ء سے بھی پہلے کی ہے، عامرعزیزمشرف دورمیں میرےاورفیملی کیخلاف نیب ریفرنسزکی تحقیقات میں بھی شامل رہے، پرویز مشرف نے عامر عزیز سے حدیبیہ پیپر ریفرنس میں ہمارے خلاف تحقیقات کرائیں، جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اس وقت خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں،وہ علاج کے بہانے بیرون ملک گئے تھے، پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے بعد تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوا۔

نوازشریف نےسپریم کورٹ کے28جولائی کےحکم اور جے آئی ٹی رپورٹ کو نامناسب اور غیر ضروری قراردیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے میرا فیئر ٹرائل کا حق متاثرہوا، جے آئی ٹی کی طرف سے لکھے گئے ایم ایل ایزعدالت پیش نہیں کیےگئے، ان ایم ایل ایز کی بنیاد پرفیصلہ نہ دیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا ہے ، عرفان منگی کو بھی جے آئی ٹی میں شامل کر دیا گیا ، جے آئی ٹی کی دس والیم پر مشتمل خود ساختہ رپورٹ غیر متعلقہ تھی،جےآئی ٹی کی خود ساختہ حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں درخواستیں نمٹانے کیلئے تھی، ان درخواستوں کو بطور شواہد پیش نہیں کیا جا سکتا۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ ہے جو ناقابل قبول شہادت ہے، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کےاکٹھے کیے گئے شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائرکرنےکاکہا، سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY