کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیے جانے والے نقیب اللہ کے والد نے سابق ایس ایس پی ملیر راو انوار کے گھر کو سب جیل قرار دینے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔
نقیب اللہ قتل کیس میں مقتول کے والد محمد خان نے سندھ ہائیکورٹ میں دائرکی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ راو انوار کے سب جیل میں رکھے جانے کو کالعدم قرار دے کر ملزم کو جیل منتقل کیا جائے۔
دوسری طرف نقیب اللہ محسود کے والد نے راؤ انوار کے خلاف قومی احتساب بیورو نیب میں بھی درخواست دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نیب راو انوار کی پُرتعیش زندگی، اربوں روپے کے اثاثےاور گذشتہ کئی سالوں میں دبئی کے 74 دوروں کی تحقیقات کرائے۔
بیرسٹر فیصل صدیقی کی تواسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ راو انوار کی پُرتعیش زندگی اور اثاثے ان کی سرکاری تنخواہ سے میل نہیں کھاتےجبکہ درخواست میں مزید کہا گیا کہ ایک پولیس افسر کی تنخواہ ایک لاکھ تیرہ ہزار کے قریب بنتی ہے تاہم اس تنخواہ میں اتنے غیر ملکی دورے ممکن نہیں۔












