میرے بچپن کے دن۔۔۔ نصرت نسیم

0
115

جاڑے کی یخ بستہ رات، گرم لحاف، اوربچپنے کی پکی نیند اوراایسےمیں دورسےآتی ہوئی پرسوز آواز اورخوبصورت لے میں نعت کی آواز سماعت میں رس گھولتی دل میں اترجاتی پھر دھیرے دھیرے آواز قریب آکر گھر کی دہلیز تک آجاتی
اٹھو روزہ دارو سحر ہو گئ اس کے ساتھ ہی گہری نیند سے بیدار ہو کر لحاف کی جھری سی بنا کر صورت حال کاجائزہ لیتے دور سےپراٹھے بننے کی ٹپھاٹھپ آوازیں ،اور توے پر سےاصلی گھی کےپراٹھوں کی خوشبو بستر چھوڑنے پر مجبور کر دیتی تولحاف ایک طرف پھینک کر چولہے کے پاس رکھی پیڑھی پر بیٹھ کر اعلان کرتے کہ ہم نے بھی روزہ رکھنا ہے توگھروالے منع کرتے کہ جاو جاکر سوجاو
مگر ہم ضدکرتےکہ نہیں ہم روزہ ضرور رکھیں گے یوں سحری کھانے کے شوق میں پتہ نہیں کس عمر سےروزے رکھنے شروع کیے

خیر وہ تھے بھی سردیوں کے روزے
،آدھا دن تو سکول میں گزر جاتا گھر آتے ہی افطاری کا اہتمام وانتظار شروع ہو جاتا اس وقت پکوڑے روزوں کا جزوینفک نہیں بنے تھے ایک دو لذیذ سالن،طرح طرح کی چٹنیاں، اچار،مربےپھپھواماں گھر میں بناتیں مردوں کے لیے الگ کھانا لگایا جاتا گول چنگیر میں پھولی ہوئی خمیری روٹی کے ساتھ خوش ذائقہ سالن اچار،مربے،چٹنیاں پروس دیے جاتے جو گھر کی خواتین مل جل کر کھاتیں اس کے بعد گرما گرم چائے کا دور چلتا جوزیادہ تر چینی کے گول پیالوں میں پی جاتی
گھر کے سربراہ میرے رشتے کے نانا جان جنہیں سب ڈیڈی کہہ کر پکارتے ہم ان کے منظور نظر تھےاللہ سبحان و تعالٰی انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے سہ پہر کے وقت ہمیں پیسے دے کر کہتے کہ اپنی پسند کی چیزیں لے آئیں گھر کے قریب ہی بیکری تھی جہاں سے میں کریم رول، پیسٹری اور کوکونٹ ہے کر آتی اور انتظار رہتا کہ کب چاے بنے اور چائے کے ساتھ انہیں نوش جان کیا جائے بچپن کے ذائقے اورعادتوں میں کیسی پائیداری پائی جاتی ہے کہ آج بھی چاے اور چاے کے ساتھ لوازمات اچھے لگتے ہیں یہ اوربات کہ اب وہ مزے اور ذائقے کہاں
مسجد حاجی بہادر صاحب گھر کے قریب تھی لہذا آخری عشرے میں رونقیں بڑھ جاتیں خصوصا”27ویں شب گھر اور باہر جشن کا سماں ہوتا 27ویں کو کچھڑی اوراس کے اوپر دہی ڈال کر کھانے کا رواج تھا ایک دوسرے کو بھی حصے بخرے بھجواے جاتے
اب سحری میں جگانے والے الوداع اےماہ رمضان الوداع جیسے پرسوز نعتیں اورپر درد اشعار ایسے درددل کے ساتھ خوش الحانی سے پڑھتے گویا محبوب کو رخصت کررہے ہوں چولہے میں انگاروں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے پھپھو اماں آبدیدہ ہو جاتیں اور آہ بھر کر کہتیں ہاے ایسا مہمان رخصت ہو رہا ہے
پھر کیا پتہ یازندگی یا نصیب
عید کے تصور میں مگن ہمیں تب اس اداسی کی سمجھ نہ آتی جیسے اب ہمارے بچوں کو سمجھانا مشکل ہوتا کہ عمر کے اس سنگ میل پر ایسے ماہ مبارک ماہ کریم کارخصت ہونا کیسے من کو اداسی سے بھر دیتا ہے

بہرحال آخری راتوں میں مسجدوں میں رونقیں بڑھ جاتیں گھروں میں بھی ساری ساری رات جاگ کر نوافل پڑھے جاتے ڈیڈی جب قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو پاس ہی تکیے پر لیٹ کراں کے گھٹنے سے لگی ان کی تلاوت سنتی رہتی ان کی بھاری اور پرسوز آواز میں تلاوت اور پر نور چہرہ آج بھی یادوں کے افق پر جگمگاتا ہے
پھپھو اماں دودن پیشتر ہی مہندی کا کٹورا گھول رکھتیں تاکہ رنگ اچھا آے تب ابھی جلی ہوئی بدبو والی کون مہندی کا نام و نشان بھی نہیں تھا سوندھی سوندھی خوشبو والی مہندی کے لیے بےچینی وانتظار بڑھتا چلا جاتا ہماری خالہ کومہندی سے چڑتھی اسلئے پھپھو اماں ہی ہمارے دونوں ہاتھوں پر “مٹھی “والی مہندی
)مٹھی والی یعنی ہتھیلی پر مہندی کا گولہ سارکھ کر مٹھی بند کر لیتے)لگا کر رومال سے ہمارے ہاتھ باندھ دیتیں تاکہ رنگ بھی اچھا آے اورکپڑے بھی گندے نہ ہوں
29واں روزہ افطار کرتے ہی ماموں بندوق لے کر چھت کی طرف بھاگتے چاند دیکھنے کے لئے، اور چاند نظر آتے ہی بندوق سے فائرنگ شروع کر دیتے یہ سن کر سب ننگے پاؤں چھت کی طرف دوڑ لگاتے کدھر کدھر ہے چاند اورپھر چاند دیکھ کر سب ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے اتنے میں تڑا تڑ فائرنگ کی آوازیں آنی شروع ہو جاتیں عورتیں، بچے سب لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر اپنی آنکھ سے چاند دیکھتے
اور آجکل توپ نمادوربینوں سے بھی چاند دکھائی نہیں دیتا

نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY