ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کی دہائی
تحریر:ظفر معین بلے جعفری
عالمی شہرت یافتہ براڈ کاسٹر،ادیب، شاعر اور دانشور محترم صفدر ھمدانی کا تازہ خطاب فیس بک لائیو پر گھنٹہ بھر سنا ۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے حوالے سے جوتفصیلات بیان کیں ،وہ ہوش اڑادینے اور تڑپادینے والی ہیں۔ اس حوالے سے تو آپ سے بعد میں بات ہوگی ، پہلے میں حکومت کےاس اقدام کو خراج ِ تحسین پیش کرنا چاہتاہوں کہ مہنگائی کے اس دور میں غریب اور مفلوک الحال کروڑوں افراد کو مفت آٹا تقسیم کیاجارہا ہے اور کیاگیا ہے۔جہاں یہ صورت حال اطمینان بخش اورحوصلہ افزا ہے ،وہیں دوسری طرف کربناک صورت حال یہ ہے کہ ریڈیو پاکستان کےموجودہ جزوقتی ملازمین اورریٹائرڈ ملازمین کےلئے جسم و جاں کا رشتہ برقراررکھنا محال ہے۔
کچھ کے گھروں میں چولہے سرد پڑچکے ہیں اور ان کے تمام گھر والے روٹی کوترس رہے ہیں ۔ مخیر حضرات تو اس مہینے میں سحری اورافطاری کےوقت مستحقین کیلئے دسترخوان سجاتے ہیں اور ان کی بھوک مٹانے اور پیاس بجھانے کاسامان بہم پہنچاتے ہیں ۔لیکن حکومتی کنٹرول میں ایک ایسا نشریاتی ادارہ بھی ہے، جس نے اپنے ملازمین کو تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کو پنیشن سے محروم کررکھاہے ۔
ان کے لئے آواز بھی ایک ایسی ہستی نے اٹھائی ہے ،جنہیں ریڈیو پاکستان کی محبت ورثے میں ملی ہے۔ جی ہاں یہ اسی عظیم المرتبت ہستی مصطفیٰ علی ہمدانی کے فرزند ِ ارجمند ہیں کہ جنہوں نے 14اگست 1947 کی شب 12بجے ریڈیو پاکستان لاہور سے پاکستان کی آزادی کا اعلان کیاتھا طلوع صبح آزادی ۔ان کے بعد محترم صفدر ھمدانی نے ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیارکرلی ۔پھر جاپان کے بعد بی بی سی لندن چلے گئے لیکن ریڈیوپاکستان سے محبت کااظہار وقتاً فوقتاً کرتے رہے۔جب بھی ریڈیوپاکستان سے متعلق کوئی اچھی خبر آتی ،یہ جی اُٹھتے اور جب کوئی اچھی نہیں ،بری خبر ملتی تو یہ دُکھی ہوجاتے اور درد ان کے لب و لہجے میں دکھائی اور سنائی دیتا۔
فیس بک پر ان کا حالیہ لائیو خطاب میرے موقف کی گواہی کیلئے کافی ہے۔ انہوں نے ریڈیو ملازمین اور پینشنرز کی تکلیف کواپنی تکلیف سمجھا ۔باتیں تو انہوں نے بہت سی کیں ،جن چند اہم نکات کواپنی گفتگو کامرکز اور محور بنائے رکھا ،وہ درج ذیل ہیں ۔
(1) ریڈیو پاکستان کے ساڑھے چار ہزار ریٹائرڈ ملازمین اور بہت سے جز ووقتی ملازمین اپنی اجرت سے اکتوبر 2022 کے بعد سے اپنی پینشن سے محروم ہیں۔
(2) بائیس اکتوبر 2022 کو نئے ڈائریکٹر جنرل طاہر حسن صاحب نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد پہلا جملہ یہ فرمایا کہ ریڈیو پاکستان کے پینشنرز میری ذمہ داری نہیں ہیں۔
(3) سونے جیسا ادارہ مٹی بنا دیا گیا۔
(4) دوستوں کی جانب سے مشورہ دیا گیآ کہ مقدمہ نہ کیجیے گا ، عدالت نہ جائیے گا آئندہ بیس سال تک عدالتوں کے دھکے کھاتے رہیں گے۔
(5)ریڈیو پاکستان کو کہا جاتا ہے کہ کما کر لاؤ تو عالمی شہرت کے حامل نشریاتی ادارے جیسے کہ وائس آف امریکہ ، بی بی سی اور جاپان ریڈیو ایک پیسہ کما کر نہیں دیتے لیکن یہ ادارے نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا اہم کام انجام دیتے ہیں کہ جو فوج کی خدمات سے بھی زیادہ ہیں۔
(6)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اتنا خطرہ ہمیں پاکستانی فوج سے نہیں ہے کہ جتنا ریڈیو پاکستان سےہے ۔
(7) قیام پاکستان کا اعلان سب سے پہلے ریڈیو پاکستان ڈھاکہ ،لاہوراور پشاور سے ہوا تھا۔
(8) قیام پاکستان کے وقت یہ تین ہی سینٹرز تھے جبکہ ریڈیو پاکستان کراچی کا قیام 1948 میں عمل میں آیا تھا۔
(9) ساڑھے چار ہزار پینشنرز کا مطلب ہے کہ ان کے اہل خانہ کو ملا کر متاثرین کی تعداد دس بارہ ہزار بنتی ہے۔
یہ تو تھیں وہ باتیں ، جن کی نشان دہی محترم صفدر ہمدانی صاحب نے فرمائی۔
اس گفتگو کے تناظر میں ذرا سوچئیے کہ کیایہ بات زیادہ پریشانی کا باعث نہیں کہ ریڈیو پاکستان کے پاس ریڈیو کادن منانے کیلئے لاکھوں اور کروڑوں روپے ہیں ،افسران کی گاڑیوں کے پیٹرول کیلئے بھی وسائل کی کمی نہیں لیکن ضعیف اور عمررسیدہ ملازمین کوپینشن دینے کیلئے فنڈز نہیں ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے اپنے دور حکومت میں کہا تھا کہ فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا اور پیاسا مرگیا تو مجھے آخرت میں اس کاحساب دینا پڑے گا ، یہ کیسے حکمران ؟ کیسے ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان؟ ، کیسے سیکریٹری اطلاعات و نشریات ہیں ؟ جنہیں یہ احساس ہی نہیں کہ ان کے دور حکمرانی میں ریڈیو پاکستان کےموجودہ ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین پر کیا گزررہی ہے؟
کتنے بچے فیس ادا نہ کرنے کے باعث اسکول یا کالجز نہیں جا پارہے ؟
کتنے ریٹائرڈ پنشنرز کے گھروں میں بیماریاں ہیں اور وہ خود یاان کے پیارے علاج کی سہولت سے محروم ہیں ؟
کتنے ہی ایسے ہیں جو مالکان مکان مستقل تنگ کر رہے ہیں کرائے کے لیئے
وزیراعظم صاحب ۔ غریبوں کو مفت آٹا ضرور دیں ، لیکن جن پنشرز کے گھروں میں پینشن نہ ملنے کی وجہ سے چولہے سردپڑ گئے ہیں یا پڑرہے ہیں ،ان کا بھی احساس کریں ۔اگر آپ نے آج احساس نہ کیا تو قیامت کے دن آپ کو اس مجرمانہ غفلت کاحساب دینا پڑے گا اور کوئی دلیل ،وکیل اور اپیل آپ کے کام نہیں آئے گی
ظفر معین بلے جعفری














اللہ ذمہ داران کو غارت کرے اور نشانِ عبرت بنائے
ہزاروں پینشنرز اپنے خاندان کے ساتھ 2 ماہ سے منتظر ہیں