خان پور میں “ریڈیو پاکستان کے سنہرے دن” کے عنوان سے لوک چوپال کا انعقاد

0
814

خان پور میں “ریڈیو پاکستان کے سنہرے دن” کے عنوان سے لوک چوپال کا انعقاد

خان پور (نامہ نگار) : شہر خان پور میں سماجی و ثقافتی کارکن جناب ایاز کیانی کی زیر اہتمام ایک پر وقار لوک چوپال کا انعقاد کیا گیا، جس کا مرکزی موضوع “ریڈیو پاکستان کے سنہرے دن” تھا۔ اس دلچسپ تقریب میں معروف براڈکاسٹر محمد فیاض کیانی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکا کو ریڈیو پاکستان کے سنہری دور سے روشناس کرایا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محمد فیاض کیانی نے کہا کہ ریڈیو پاکستان نے نہ صرف عوام کے لیے تفریح اور معلومات کا سامان مہیا کیا بلکہ ملکی و قومی یکجہتی، تہذیب و ثقافت اور ادب و موسیقی کے فروغ میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ریڈیو کے ان پروگراموں پر روشنی ڈالی جو آج بھی بزرگ شہریوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔

انہوں نے اس دور کی معروف شخصیات، پروگراموں کی تیاری کے پیچھے محنت، اور براڈکاسٹنگ کے انمول تجربات کو نئی نسل سے شیئر کیا۔ فیاض کیانی نے کہا کہ ریڈیو کی آواز ہر گھر کی ترجمان تھی جس نے معاشرے کو مثبت سمت دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان وہ واحد ادارہ ہےجب 13اور 14 اگست 1947 کی درمیانی رات کو ریڈیو لاہور سے معروف شاعر اور براڈکاسٹر سید مصطفی علی ہمدانی نے قوم کو طلوع صبح آزادی کی نوید سنائی تھی
فیاض کیانی نے ریڈیو پاکستان کے سنہری دور کے مشہور پروگراموں کا ذکر کیا جن میں تلقین شاہ، حامد میاں کے ہاں ، جیدی کے مہمان اور اسٹو ڈیو نمبر 9 شامل ہیں
انہوں نے بتایا کہ 1965 کی پاکستان بھارت کی جنگ کے دوران میں ریڈیو پاکستان نے اپنے لازوال ملی نغموں سے افواج پاکستان اور عوام میں ایک نیا ولولہ پیدا کیا

فیاض کیانی نے اس موقع پر خاص طور پر علاقائی زبان و ثقافت کی ترویج میں ریڈیو پاکستان کے کردار کی وضاحت کی۔ انہوں نے پوٹھوہاری زبان و ادب اور ثقافت کے فروغ میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے مشہور پروگراموں اور نامور شخصیات کی خدمات کو اجاگر کیا جن میں “پوٹھوہاری ڈائری”، ” جمہور نی واز۔ راول رویل ۔پوٹھوہار رنگ ۔اور پروگراموں کے کمپئررز سید اختر جعفری المعروف راجہ صاحب ۔ارشد محمود، ا فضل پرویز، طارق ملک، اور ادیبوں اور شاعروں جن میں باقی صدیقی جیسی ہستیاں شامل ہیں، کی خدمات کا ذکر کیا ،فیاض کیانی نے کہا کہ اس دور کے پروڈیوسرز سید اختر امام رضوی ، شریف شاد ، خالد محمود چوہان اور دیگر کے پیش کردہ پروگراموں نے نہ صرف پوٹھوہاری ثقافت کو محفوظ کیا بلکہ اسے ملک بھر میں متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریڈیو پاکستان نے مقامی زبانوں میں خبروں، ڈراموں، اور تعلیمی پروگراموں کے ذریعے عوامی بیداری پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ریڈیو کے سنہری دور کی ثقافتی و ادبی میراث کو محفوظ کرنے اور نئی نسل تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے

SHARE

LEAVE A REPLY