میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں سورہ النساء کی آیت نمبر 13پیش کی تھی جس میں بخشش کی خوشخبری تھی اس کے بعد اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مزید رحم کھایا اور سورہ النساء کی ہی آیات26 سے لیکر28نازل فرمائیں۔ جن کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ ًاللہ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے خوب کھول کر بیان کرے اور تم سے پہلے کے (نیک) لوگوں کی راہ پر تمہیں چلا ئے اور تم پر اپنی رحمت لوٹائے اللہ تعالیٰ پورے علم اور حکمت والا ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے اور جو لوگ خواہشات کے پیرو ہیں وہ چاہتے ہیں تم اس سے بہت دور ہٹ جا ؤ،اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے با لکل تخفیف کردے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیاہے ً
اس میں بہت سے لوگ جب یہ پڑھیں گے تو ان کی سمجھ میں یہ بات مشکل سے آئیگی کہ ہمیں تو پہلی قوموں سے ممتاز کیاگیا ہے یہاں ان جیسا بنانے کے لئے اللہ سبحانہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں؟ المیہ یہ ہے کہ ہم قرآن عربی میں پڑھتے ہیں مگر معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے اس سے پوری طرح فیض یاب نہیں پاتے ۔ورنہ ذہن میں یہ بات نہ آتی کیونکہ ہم جب بھی نماز پڑھتے ہیں تو سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں اس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ ً“ ہمیں تو ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تیری نعمتیں نازل ہو ئیں ان پر نہیں جن پر تیرا غضب نازل ہوا “ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پہلی امتوں میں بھی اچھے اور برے لوگ موجود تھے جبھی تو اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں ان کا ذکر کیا ہے اور ہمارے سامنے رکھا کہ چاہو تو ان میں سے نیک لوگوں کا راستہ اختیار کرو جن پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں نازل ہوئیں اور تم بھی نعمتیں حاصل کرو اور ان سے بچو جن پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ا کچھ امتیں پوری کی پوری تباہ کردی گئیں لیکن ان کو بچا لیا جو راہ راست پر تھے۔والدین اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کو گھر یا ٹی وی پر تشریف لاکر کوئی صاحب قرآن شریف پڑھادیں اور بس۔ جبکہ زیادہ ترحفاظ بھی قرآن شریف کے معنوں کو سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر ہیں؟ تو پھریہ خلا ء کس طرح پر ہوسکتا ہے؟پہلے تو اس کا نعم البدل یہ تھا کہ اردو میں اتنا کچھ مواد اسلام پرموجود تھا کہ ترجمہ پڑھ کر لوگ کام چلا لیتے تھے۔ اب اردو بھی دم ٹوڑرہی زیادہ تر بچے انگریزی اسکول میں پڑھتے ہیں ان کو اردو آتی ہی نہیں ہے۔ دوسرا ذریعہ جو سیرت رسول ﷺ کا ہے ماں باپ نے خود پڑھنے کی کبھی زحمت ہی نہیں کی پھر بچے کیسے پڑھتے اور بچے کس طرح حضوﷺکے راستے پر چلیں گے؟اللہ کی کتاب ان پرنازل ہوئی جبکہ قرون اولیٰ میں بقول حضرت امام زین العابدین جن کا ارشادِ گرامی ہے کہ ہم سیرت کو بھی قرآن کی طرح پڑھتے تھے۔ جبکہ اسلام نام ہے قر آن اور صاحب ِ قرآن ﷺکے ارشادات کے مجموعہ کا جن ﷺکی تفسیر کے بغیر اس کو سمجھنا اور سمجھانا ناممکن ہے چونکہ بہت سی باتیں جن میں ارکان اسلام بھی شامل ہیں حضورﷺ نے عملی طور پرکر کے دکھا ئیں ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ عامل ہیں وہ اپنے آپ کو افضل سمجھتے ہیں اور ان کو حقارت کی نگاہ دیکھتے ہیں جو عمل نہیں کرتے ہیں جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو یہ رویہ ناپسند ہے اس لیئے کہ یہ تکبر میں آتا ہےاور کسی کو حق حاصل نہیں ہےسوائے اسلامی ملک میں اسلامی عدالت کےیا کسی کو حقارت کی نگاہ دیکھنے کی۔ زیر بحث آیتوں کی تفسیر کے سلسلہ میں علامہ ابن ِ کثیر ؒ نے بہت کچھ لکھا ہے ؟ تفسیر وہیں جاکر پڑھئے یہ چھوٹا سا مضموں ہمیں پوری تفسیر پیش کر نے کی اجازت نہیں دیتا؟البتہ میں یہ کہونگا ہم نے اردو کو چھوڑ کر بہت بڑے اسلامی معلوماتی کے ذخٰیرے سے بچوں کومحروم کردیا ہے جبکہ کوئی متبادل نہیں دیا تو آئندہ نسلیں اچھی مسلمان کیسے بنیں گی جب تک آپ انہیں ساتھ میں اردو یا عربی نہیں پڑھا ئیں گے۔اور وہ روزِ قیامت اپنی صفائی میں آپ کی کوتائی پیش کریں گے تو ٓآپ جواب کیا دیں گے؟ میں یہ آپکے سوچنے کے لیئے چھوڑتا ہوں۔
بخشش کے سلسلہ میں اللہ کی مزید مہربانیاں۔۔۔ شمس جیلانی
754
0












