اٰسلام کو سمجھئے(2)۔۔۔ شمس جیلانی

0
874

ہم نےگز شتہ مضمون میں اسلام کی ابتدا اور انتہا بتائی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا تھا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار فرمایا ہے کہ ً جو کوئی کچھ کر تا ہے وہ اپنے لیئے کرتا ہے۔ میں تو بے نیاز ہوں کوئی عبادت کرے یا نہ کرے اس سے نہ کوئی مجھے فا ئدہ ہے نہ نقصان ہے۔اگر وہ متقی بننا چاہتا ہے جو اسلام کی بنیاد ہے تو دوسرا قدم اٹھائے کہ عمل صالح کرے یا نام کا مسلمان رہے یا منافق ہوجا ئے جو کہ کافر سے بھی زیادہ بد تر درجہ ہے۔لیکن وہ سزا کے طور پرجہنم میں بھی جائیگا جوکہ کافرسے بھی زیادہ برا مقام ہے۔ایمان لانے کے بعد اسلام کے دائرے سے ہی بالکل نکل جائے اور مرتد ہوجا ئے تو اس کی سزا جہنم میں جلانے کے علا وہ تو ہین آمیز بھی ہوگی۔اس معاملہ میں بندہ خود مختار ہے وہ جس طرف جا ئے گا وہ اسی کام میں اس کے لیئے آسانیاں پیدا کردیگا۔ کیونکہ اس نے دنیا بنا نے کا مقصد ہی یہ بتا یا ہے کہ وہ جیسا کرے اس کا فیصلہ قیامت کے دن فرمادے جو جہاں جانے کا مستحق وہا ں بھیج دے ا۔ دنیا میں تو اس نے سہولت رکھی ہے کہ تم توبہ کر کے پہاڑ کے برابر بھی گناہ لیکر آؤ تو بھی میں معاف کردونگا؟ بشرطِ تمہارے ذمہ حقوق العباد نہ ہوں؟اگر وہ ہوئے تو انہیں کے پاس جاکر انہیں مطمعن کرنا ہوگا جبھی میں توبہ قبول کرونگا ورنہ نہیں۔ یہ سب کچھ بندے کی ہدایت کے لیئے قرآن اور احادیث میں موجود ہے۔کچھ بہانے کے طور کہہ دیتے ہیں کہ بہت سی حدیثیں ضعیف ہیں یا ان میں نکارت ہے۔ تو حضور ﷺ نے یہ فرماکر بات ختم کردی ہے کہ جو حدیث قر آن سے ٹکراتی ہو تو کہنے والے کے منہ پر ماردو؟جھوٹی حدیثیں بنا نے والوں کو یہ فرماکر خبر دار کردیا ہے کہ جو بات میں ﷺنے نہیں کہی اور کوئی مجھﷺ سے منسوب کر دے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے؟لہذا کسی مسلمان سے یہ امید رکھنا کہ وہ حضور ﷺ کے نام سے منسوب کردے گا ناممکن ہے۔ان لوگوں کے لیئے بڑی سخت آیتیں آئیں ہیں جو کوئی ایسی حرکت کر ے جو کہ حضورﷺ کو شاق گزرے۔ ۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کی اطاعت کا تمام مسلمانوں کو پابند قرآن میں یہ فرماکر حکم دیتا ہے کہ تمﷺ ان سے کہدو جو مجھ سے محبت کے دعویدار ہیں تو وہ آپ ﷺکی اطاعت کر یں تواللہ تعالیٰ تم سے خوش ہوجا ئے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دیگا۔ یہ بھی قر آن میں نفرمایا کہ تمہارے نبیﷺ میں تمہارے لیئے بہتریں نمونہ ہے۔ مزید یہ بھی فر مادیا کہ یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے وہی فرماتے ہیں جو میری طرف سے وحی کیاجاتاہے۔ یہ صرف حضور ﷺ کے لیئے ہی فرمان ِ خدا وندی ہے اور کسی کے لیئے نہین۔ اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ حضورﷺ کےاسوہ حسنہ کو تلاش کیجئے ان ﷺ کااتباع کرنے والوں کے لیئے وہاں موجود ہے اس میں سب کچھ مل جائے گا۔ البتہ عمل نہ کرنے والوں کے لیئے بہانے بہت ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے اور کسی کا اتباع کرنے کا حکم بھی نہیں دیا ہے؟ ان ﷺکے علاوہ کسی اور کا اتباع کرنے کو نہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہ حضور ﷺ نے خود فرمایا کہ ان کا اتباع کرو۔ہاں یہ فرمایا ہے میرے ان صحابہ کرام ؓ اتباع کرو جوآج میرے راستہ پر ہیں یا جو لوگ آئندہ میرے راستہ پر چلیں اور میراﷺ ہی راستہ صحیح راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرمادیا ہےکہ ہر ایک پیچھے بلا سوچے سمجھے لگ جاؤ اور ہاں میں ہاں ملانے لگو؟ سورہ مدثر کی آیت نمبر41 -سے 56تک ایک پورا مستقبل کا منظر دے کر اللہ تعالیٰ خبر دار فرمادیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ والے جب جنت میں پہنچ جائیں گے تو وہ جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچے؟تو وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ عاقبت پر یقین نہیں رکھتے تھے قرآن کے سلسلہ میں بحث اور مباحثہ پر لگے رہتے تھے جو ہمیں بلاتا اس کے پیچھے چل پڑتے تھے۔ اس لیئے ہم شفاعت سے بھی محروم رہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY