ملائیشیا نے بھارت کی در خواست مسترد کر تے ہو ئےمعروف اسکالرڈاکٹر ذاکرنائیک کی بھارت کو حوالگی کے امکانات کو ختم کر دیا ہے ۔

پورے بھارت میں میڈیا کے پروپگنڈہ سے ایسا تاثر قائم ہورہا تھا کہ ملائیشیا کی جانب سے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی حوالگی کے بعدانہیں کسی بھی وقت بھارت پہنچادیا جائے گا ،تاہم بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی کے ترجمان الوک متل نے کہا کہ ان کے پاس اس سلسلے میں ابھی کوئی معلومات نہیں ۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک 2016 سے ملا ئیشیا میں مقیم ہیں اور وہاں مستقل سکونیت اختیار کر چکے ہیں ۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ذاکر نائیک کو بھارت کے حوالے کرنے کیلئے جنوری میں باضابطہ درخواست دی تھی۔

ملا ئیشیا کے وزیر اعظم نے بھارت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کو ملا ئیشیا کی شہریت حاصل ہے جب تک وہ ہمارے ملک کیلئے کسی پریشانی کا باعث نہیں بنتے اس وقت تک نائیک کو کسی ملک کے حوالے نہیں کیا جائےگا۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک بھارت میں مودی حکومت کے قیام کےبعدانتہائی مصائب کا شکار تھے ،پہلے ان کی اسلامک ریسرچ فائونڈیشن پر پابندی عائد کی گئی اور بھارت کے نام نہادجمہوری معاشرے میں ان کےٹی وی چینل کو بند کردیا گیا۔

انتہا پسند ہندوئوں کی طرف سے مصائب ناقابل برداشت ہو گئے توذاکر نائیک پہلے سعودی عرب منتقل ہو ئے اور بعد ازاں ملائیشیا نےان کو اپنے ہاں مستقل قیام کی اجازت دے دی اور انہوں نے وہاں مستقل رہائش اختیار کر لی تھی ۔

انتہا پسندوں کو ڈاکٹر ذاکر نائیک کا بھارت سے چلے جانا ہضم نہیں ہوا اورانتہا پسند بھارتی میڈیا بھی ذاکر نائیک کی کردار کشی میں ملوث ہوگیا اور ان کے خلاف طرح طرح کی الزام تراشیاں شروع کر دیں ۔

گجرات کی ذ ہنیت مودی کی شکل میں دہلی منتقل ہوچکی تھی اوراسی سوچ کے تحت بھارت کی مرکزی حکومت نے ملائیشیاکی حکومت سے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک کی حوالگی کا مطالبہ کردیا تھا۔

بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی(NIA) نے ذاکر نائیک کیخلاف الزامات کی فہرست بھی ملائیشیا کی وزارت خارجہ کی توسط سےکوالالمپورکی ایک عدالت میں جمع کرادئی جس میں ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ، دہشت گردی اور تقریروں کے ذریعے بھارتی نوجوانوں کو انتہا پسندی پر اکسانے کے الزامات عائد کئے گئے۔

بھارتی میڈیا نے اس موضوع پر حسب روایت بھر پور پر وپیگنڈہ کیا جس پر ملائیشیا کے اس وقت کے ڈپٹی وزیر اعظم احمد زاہد حمیدی نے ملائیشین ایوان زیریں کو بتایاکہ بھارت سے ابھی تک باقاعدہ اور رسمی طور پر ذاکر نائیک کی حوالگی کی درخواست نہیں ملی ہےتاہم بھارت کی طرف سے اس نوعیت کی در خواست ملی تواس کا جائزہ لیا جائے گا،الزامات درست اور ثابت ہوئے تو انہیں بھارت کے حوالے بھی کیا جاسکتا ہے۔

حمیدی نے یہ بھی واضح کیا تھاکہ بھارتی حکومت کی جانب سے ذاکرنائیک کا پاسپورٹ منسوخ کئے جانے کے باوجود ملائیشیا کی جانب سے دی گئی مستقل رہائش گاہ کی حیثیت کو منسوخ نہیں کیا جائے گاکیوں کہ نائیک نے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

ملا ئیشیا کے موجودہ وزیر اعظم مہاتر محمد نے بھارت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملا ئیشیا کی شہریت حاصل ہے جب تک وہ ہمارے ملک کیلئے کسی پریشانی کا باعث نہیں بنتے اس وقت تک نائیک کو کسی ملک کے حوالے نہیں کیا جائےگا۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے میڈیا سے مختصراً گفتگو میں اپنے اوپر عائد الزامات کو ایک مرتبہ پھر مسترد کیا اورہندوستان واپسی کی خبروں کو بے بنیاد قراردیا۔ان کا کہنا ہے کہ جب میں خود حالات کو ساز گار سمجھیں گے بھارت ضرور جائیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY