طارق بٹ ۔ فیصلے کا فیصلہ

0
70

برسوں پہلے ایک فیصلہ ہوا اور وقت کے مقبول ترین رہنما کو پھانسی کے پھندے سے لٹکا کر منوں مٹی کے نیچے دفن کر دیا گیا ۔ فیصلہ ملک کی اعلی ترین عدالت کا تھا اور بینچ ملک کے ذہین ترین ججوں پر مشتمل تھا آج اگر آپ پیارے پاکستان کے باسیوں سے ان محترم ججوں کے نام پوچھیں تو ننانوے اشاریہ نو فیصد کو ایک بھی جج کا نام معلوم نہیں ہو گا مگر اس متنازعہ فیصلے کی بھینٹ چڑھنے والے کو سالوں بیت جانے کے باوجود بھی ملک کا بچہ بچہ ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے جانتا ہے ۔ شدید ترین مخالفین نے بھی اس متنازعہ فیصلے کو نہ اس وقت تسلیم کیا تھا اور نہ آج ماننے کو تیار ہیں حتی کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ فیصلہ سنانے والے محترم جج صاحبان کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں تھا۔ اس فیصلے کے ملکی سیاست اور معیشت پر جو اثرات پڑے وہ آپ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں اسکے ساتھ جو سوالات ہمارے نظام عدل کے حوالے سے اٹھے ان کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے مداوے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اس حوالے سے جو ریفرنس عدالت عظمی میں زیر التواء ہے اس کو جلد از جلد منتقی انجام تک پہنچایا جائے ۔

سالوں بعد ایک اور فیصلہ اپنے وقت کے مقبول رہنما نواز شریف کے خلاف آیا جس میں انہیں 14 سال قید 2 کروڑ روپے جرمانہ اور 21 سال سیاست سے نا اہلی کی سزا سنائی گئی وہ تو بھلا ہو بعد میں آنے والی فحال عدلیہ کا کہ افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں انہوں نے عدلیہ کے ماتھے پر لگنے والے اس داغ کو دھو دیا ۔ پاناما کیس تمام تر اختلافات کے باوجود چونکہ منتقی انجام کو پہنچ چکا ہے کہ اس کی نظر ثانی اپیل بھی مسترد ہو چکی اس لئے اس پر اس وقت بحث سے کچھ حاصل ہونا ممکن نہیں البتہ حال ہی میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جو فیصلہ صادر فرمایا ہے اس نے ایک بار پھر بہت سارے سوالات کو جنم دے دیا ہے اور پاکستان بھر کے وکلاء واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم دکھائی دیتے ہیں اکثریت ان وکلاء کی ہے جو مذکورہ فیصلے کو نہ صرف انتہائی کمزور بلکہ دلیل اور شواہد سے عاری فیصلہ قرار دیتے ہیں ۔ طویل عرصہ عدالتی نظام سے منسلک رہنے اور بلند ترین منصب چیف جسٹس تک پہنچنے والے جناب افتخار محمد چوہدری بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ فیصلہ انتہائی کمزور ہے جج نے بطور وزیر خزانہ پنجاب ، بطور وزیر اعلی پنجاب اور بحثیت وزیر اعظم پاکستان و ممبر قومی اسمبلی ہر قسم کی کرپشن سے عدم ثبوت کی بنا پر نواز شریف کو بری کر دیا ہے تو پھر ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پر صرف بےنامی جائیداد کے حوالے سے سزا سنا دینا حیران کن ہے ۔ اس لئے کہ ثبوت نیب کے پاس بھی اس حوالے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ نواز شریف اور ان کے بچے وہاں رہتے ہیں اور یہ تسلیم بھی کرتے ہیں کہ اپارٹمنٹس ہمارے ہیں اس لئے بار ثبوت ان پر ڈالا گیا ہے۔

فیصلے کے بعد جتنے بھی اچھے اور قابل وکلاء سے اس قلم کار کی بات ہوئی ان سب کا ماننا ہے کہ عدالت کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ ملکیت تسلیم کر لینے کے بعد ملکیت کا ثبوت فراہم کرنا نواز شریف اور ان کے بچوں کی ذمہ داری تھا مگر ساتھ ہی ان محترم وکلاء کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف کا براہ راست اس پراپرٹی سے کوئی تعلق نہ ہے اور نہ ہی کبھی انہوں نے اسے تسلیم کیا ہے ہاں وہ یہ ضرور مانتے ہیں کہ ان کے والد مرحوم میاں محمد شریف کا جو قطری شہزادوں کے ساتھ مشترکہ کاروبار تھا اس میں سے ان کے حصے کے بدلے ان کے والد مرحوم کو یہ اپارٹمنٹس ملے تھے جو انہوں نے اپنے پوتے کو دے دئیے تھے اور اس کے ثبوت کے طور پر وہ قطری شہزادے کے تین خطوط JIT، عدالت عظمی اور احتساب عدالت میں پیش کر چکے ہیں مگر ان خطوط کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔ قطری شہزادے اپنے پہلے خط کی ایک ایک بات کی دیگر دو خطوط میں تصدیق کر چکے اور اپنا بیان ریکارڈ کروانے کو بھی تیار ہیں مگر JIT اور عدالت نے بھی وڈیو لنک پر ان کا بیان ریکارڈ کرنے سے انکار کیا جب کہ کئی دیگر کو یہ سہولت فراہم کی گئی۔ حالیہ عدالتی تاریخ کو ہی اگر دیکھا جائے تو میمو گیٹ میں منصور اعجاز کا بیان اسی طرح ریکارڈ ہوا اور اس پر جرح بھی وڈیو لنک کے ذریعے ہی کی گئی ۔ مزید نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والی اسی احتساب عدالت نے فرانزک ایکسپرٹ رابرٹ ریڈ لے کا بیان بھی وڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا اور وکلاء کی جرح بھی اسی ذریعے سے ہوئی ۔ پھر کونسی ایسی قانونی شق آڑے آئی کہ سچ اور ثبوت کی تلاش میں شہزادے کے بیان کا پیچھا نہیں کیا گیا حالانکہ اس طرح بہت آسانی کے ساتھ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جا سکتا تھا۔

مزید آگے بڑھنے سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کہ درویش کو قانونی موشگافیوں کے حوالے سے شد بد بالکل بھی نہ ہے اور نہ ہی کبھی اس حوالے سے کورٹ کچہری کے ساتھ کوئی پالا پڑا ہے مختلف کیسوں کے حوالے سے جو معروضات پیش کی ہیں وہ قانونی ماہرین کی رائے ہے جس سے دیگر قانونی ماہرین اختلاف کا حق رکھتے ہیں میرے دوستوں کی رائے کے مطابق احتساب عدالت کے حالیہ فیصلے میں جس ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی قرار دیتے ہوئے مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر کو سزا سنائی گئی ہے وہ ٹرسٹ ڈیڈ جس ملک (برطانیہ) میں تیار ہوئی وہاں قابل قبول ہے باقی رہا معاملہ نواز شریف کی سزا کا تو ابھی ان کے پاس ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ یعنی دو اپیلوں کا قانونی حق موجود ہے اور وہ اپنے قانونی مشیروں سے مشاورت کے بعد اس حق کو ضرور استعمال کریں گے قانونی ماہرین کی غالب اکثریت حالیہ فیصلے کا مستقل مقام عدالت عالیہ میں موجود ردی کی ٹوکری کو قرار دے رہے ہیں اب دیکھئے مستقبل میں کیا ظہور پذیر ہوتا ہے کہ اس فیصلے کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY