نیلسن منڈیلا کی سوویں سالگرہ اٹھارہ جولائی دوہزار اٹھارہ

0
104

رنگ اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والے جنوبی افریقا کے سابق صدر نیلسن منڈیلا
اس عظیم رہنما کی سالگرہ پر منڈیلا ڈے منایاجاتا ہے۔

جسے منانے کا فیصلہ اقوام متحدہ نے2009 میں کیا ۔اس دن کا مقصد اپنے ارد گرد موجود افراد کی مدد کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔

امن کا نوبل انعام پانے والے نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کےکئی سال قید میں گزارے۔ان کی سنچری سالگرہ پر انہیں خراج عقیدت پیش کیاگیا۔

سابق امریکی صدر براک اوباما نے تقریب سے خطاب میں ان کی خدمات کو سراہا ۔

برطانوی شہزادہ ہیری اور اہلیہ میگن مرکل لندن میں منڈیلا کی یاد میں منعقدہ نمائش کا حصہ بنے۔

آزادی اور حقوق کی علامت اور 20ویں صدی کی قد آور سیاسی شخصیت نیلسن منڈیلا پانچ دسمبر2013 کو95سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔

نیلسن روہیلا منڈیلا، (پیدائش: 18 جولائی 1918ء ترانسکی، جنوبی افریقا) جنوبی افریقا کے سابق اور پہلے جمہوری منتخب صدر ہیں جو 99-1994 تک منتخب رہے۔ صدر منتخب ہونے سے پہلے تک نیلسن منڈیلا جنوبی افریقا میں نسلی امتیاز کے کٹر مخالف اور افریقی نیشنل کانگریس کی فوجی ٹکڑی کے سربراہ بھی رہے۔ جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں سے برتے جانے والے نسلی امتیاز کے خلاف انھوں نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے ان کو مختلف جرائم جیسے توڑ پھوڑ، سول نافرمانی، نقض امن اور دوسرے جرائم کی پاداش میں قید با مشقت کی سزا سنائی۔ نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال پابند سلاسل رہے، انھیں جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔ 11 فروری 1990ء کو جب وہ رہا ہوئے تو انھوں نے پر تشدد تحریک کو خیر باد کہہ کہ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔
نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے خاتمے کے بعد نیلسن منڈیلا کی تمام دنیا میں پزیرائی ہوئی جس میں ان کے مخالفین بھی شامل تھے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو “ماڈیبا“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو منڈیلا خاندان کے لیے اعزازی خطاب ہے۔

آج نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ اور تمام دنیا میں ایک تحریک کا نام ہے جو اپنے طور پر بہتری کی آواز اٹھانے میں مشہور ہے۔ نیلسن منڈیلا کو ان کی چار دہائیوں پر مشتمل تحریک و خدمات کی بنیاد پر 250 سے زائد انعامات سے نوازا گیا جن میں سب سے قابل ذکر 1993ء کا نوبل انعام برائے امن ہے۔ نومبر 2009ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 18 جولائی (نیلسن منڈیلا کا تاریخ پیدائش) کو نیلسن منڈیلا کی دنیا میں امن و آزادی کے پرچار کے صلے میں “یوم منڈیلا“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔

آزادی کا طویل سفر، نیلن مینڈیلا کی خود نوشت سوانح حیات ہے، جو 995 میں شائع ہوئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY