ضمنی الیکشن سے پہلے ہی ٹینشن، لاہور کے حلقہ پی پی 167 میں پی ٹی آئی اور ن لیگی کارکنوں کا تصادم، حکومتی امیدوار نذیر چوہان اور تحریک انصاف کے خالد گجر کے بیٹے زخمی، فریقین نے ایک دوسرے پر فائرنگ کے الزامات عائد کردیئے، واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ پولیس نے شبیر گجر گروپ کے 16 اور نذیر چوہان گروپ کے 6 افراد کو گرفتار کرلیا۔
لاہور کے علاقہ جوہر ٹاؤن میں دو سیاسی گروپوں کے درمیان لڑائی جھگڑے اور فائرنگ کا معاملہ، پولیس نے شبیر گجر گروپ کے 10 افراد جبکہ نذیر چوہان گروپ کے 6 افراد کو حراست میں لے لیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز محمد سہیل چودھری نے کہا کہ ضمنی انتخابات کی الیکشن مہم میں ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
ن لیگی رہنما نذیر چوہان نے کہا کہ رات پونے تین بجے گھر جارہا تھا، نامعلوم افراد نے روک کر بد تمیزی کی، سنگین نتائج کی دھمکیاں گئیں، حملہ باقاعدہ سازش کے تحت کیا گیا۔
انہوں نے سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے قبضہ مافیا کو ٹکٹ دیا، پی ٹی آئی کو شکست سامنے نظر آرہی ہے، ضمنی الیکشن کے موقع پر رینجرز تعینات کی جائے۔
مقدمہ درج
قبل ازیں جوہر ٹاؤن میں ن لیگی اور پی ٹی آئی کارکنوں میں تصادم کا مقدمہ امین اے ایس آئی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ہنگامہ آرائی کی اطلاع پر موقع پر پہنچے تو ملزمان فائرنگ کر کے فرار ہو چکے تھے، موقع سے 12 گولیوں کے خول برآمد کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔
پولیس کی ایف آئی آر میں حقائق چھپانے کی کوشش، ایف آئی آر میں زخمیوں کا بھی ذکر نہیں کیا گیا، فائرنگ کرنے والے ملزموں کی فوٹیج موجود ہونے کے باوجود نامعلوم افراد پر مقدمہ درج کیا گیا، پولیس نے دونوں فریقین شبیر گجر اور نذیر چوہان کے بجائے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔













