عمران خان گھبراؤ نہیں اللہ تمہارے ساتھ ہے۔۔شمس جیلانی

0
181

ہم نے 25اگست 2018 کے انتخا بات سے پہلے کئی متواتر کالم ملک کی بگڑتی ہوئی صورتِ دیکھ کر لکھے تھے، جوکہ جانے والے حکمرانوں نے قصداً بگاڑی تھی ان کا خیال تھا کہ ہمارے سوااسے کوئی چلا نہیں سکے گا؟ صورتِ حال یہ تھی کہ جوپاکستان کے ہمسایہ اور دوست تھے ان میں سے زیادہ ترکو انہوں نے اپنے جھوٹ اور ہیر پھیر کی سیاست کی بنا پر دشمن بنا لیاتھا۔ جبکہ انہیں غلط فہمی یہ تھی کہ ہم نے اپنے تیس سالہ دور اقتدار میں ہر اینٹ اپنے مطلب کی لگالی ہے اب یہ نظام ایک ایسا قلعہ بن چکا ہے جس کو کوئی توڑ نہیں سکے گا؟ اور نہ ہی اسے درست کرنا کسی کے بس کی بات ہوگی؟ مگروہ اس بات کو بھول گئے تھے کہ ایک طاقت اور بھی ہے جس کے ہاتھ میں فتح اور شکست۔ عزت اور ذلت ہے؟ تاریخ دیکھ جائیے اسے جو بھی بھولا ، اسے بھول ہمیشہ مہنگی پڑی ؟ حالانکہ وہ ایک حد تک ڈھیل دیتا ہے کیونکہ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کرلی ہے مگر جب وہ پکڑتا ہے تو موجودہ مثال آپ کے سامنے ہے؟ اپنے خیال سے حکومت سے نکالے جانے والوں نے ملک کو اس حالت میں چھوڑا تھا کہ اسے دیکھ کر بڑوں بڑوں پتہ پانی ہوجا نا چاہیئے؟ مگر آفریں ہے عمران خان اور ان ٹیم کو کہ اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری؟ اور انشاء اللہ وہ کامیاب بھی ضرور ہونگے، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے؟
آپ مجھ سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ وہ حکومت کامیاب ہوگی جو ابھی آئی بھی نہیں ہے؟ بات آپ کی واقعی درست ہے کیونکہ نہ میں نجومی ہوں نہ ہی روشن ضمیر ۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی اپنے اسی کالم میں عرض کیا تھا ۔کہ یہ دونوں صفتیں تو مجھ میں نہیں ہیں۔ البتہ اس سے ملتی جھلتی ایک صفت ہے کہ میں ا للہ سبحانہ تعالیٰ کے فضل سے باضمیر ضرور ہوں؟اور جب وہ کسی کو اس صفت سے نوازتا ہے تو وہ پھر چشم بینا بھی عطا کر دیدیتا ہے۔ جبکہ عینک یا کھڑکی ایک ہی ہوتی مگر ہر دیکھنے ولا چیزیں اسی کو استعمال کرکے اپنے مرضی کی دیکھتا ہے؟ یہ بہت وسیع مضمون ہے جو میں آپ کو سمجھا نہیں سکتا، مگر ایک مثال دیدیتا ہوں؟ کہ حضور (ص)کے دور میں تو ایسی صحابیاتؓ بے شمار تھیں مگرا ن(ص) کے بعد بھی ایک خاتون ایسی ہو گزری ہیں جو کہ بہت مشہور ہیں اور جن کا ابھی تک خواتین میں کوئی ثانی پیدا ہوکر ان جیسا مشہور نہیں ہوا؟ا ن کا نام تھا حضرت رابعہؓ بصری۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ سے اللہ تعالیٰ راضی ہے یا نا راض ؟تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ“ وہ راضی ہے“ اس نے پھر سوال کیا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ “وہ روزانہ مجھے تہجد کی نماز کے لیے سوتے سے اٹھاکر اپنے سامنے کھڑا کرلیتا ہے“
اب میں اس کی روشنی میں آپکو سوال کا جواب دیتا ہوں کہ مجھے یہ کیسے پتاچلا کہ اللہ ان کے ساتھ ہے؟ وہ اس طرح کے ابھی وہ بر سرِ اقتدار آئے بھی نہیں تھے کہ روپیہ جو تحت السرا کی ڈبکی لگا رہا تھا یعنی اس کی قیمت روز بروز نیچے کی طرف جا رہی تھی ابھی خود بخود مناسب سطح کی طرف آنے لگی ؟ اس سے جو چیز مجھے نظر آئی وہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نصرت ان کے ساتھ ہے؟ میں اپنے گزشتہ کالم میں یہ لکھ چکا ہوں کہ اگر وہ کسی کو کامیاب کر نا چاہتا ہے تووہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈالدیتا ہے۔ جس پر کوئی گواہ اور کوئی شاہد نہیں ہو تا اس لیئے کہ دنیا والوں کو اس کا کوئی لشکر مدد کے لیے آتا ہوا کہیں نظر نہیں آتا؟ کیونکہ قرآن میں سورہ یٰسین کی آیت نمبر 82میں اس نے فرما دیا ہے کہ اللہ کو ئی کام کرنے کے لیے بس ارادے کی دیر ہوتی ہے اور جو کچھ وہ چاہتا ہے خود بخود فوراً وقعو ع پذیر ہوجاتا ہے؟ وہ کام بڑا ہویا چھوٹا، اس کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ اس لیے اس کی نہ تو فوجیں چلتی ہوئی دکھا ئی دیتی ہیں نہ ہی لڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں،البتہ فتح ہوتی ضرور دکھائی دیتی جو زمانہ دیکھ رہاہوتا ہے؟ آپ نے بھی تاریخ میں پڑھا ہوگا کہ تین سو تیرہ نہتے مسلمان ایک ہزار بہترین اسلحہ سے لیس لشکر کے لیے مقابل ہوئے اور فتحیاب بھی ہوئے ۔ اور اسی طرح اس دور میں جتنی بھی جنگیں لڑیں گئیں مسلمان ہمیشہ قلیل تعداد میں ہوتے ہوئے بڑی بڑی فوجوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے؟ اس لیئے کہ وہ اس وقت ان سے راضی تھا کیونکہ وہ ہر کام اس کی مرضی کے مطابق کرتے تھے اور مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے تھے؟ ان کے خلاف بہت سے اتحاد بنے مگر سب ناکام رہے ؟ کیوں! اس لیے کہ وہ اس کی ہر بات مانتے تھے اور اس شرط کو پورا کرتے تھے۔ کہ“ میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں ہوں! صرف میری بات مان لیاکرو“ جبکہ اب مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ اسکی بات مانتے ہوئے جان جاتی ہے۔ اس کے بجا ئے وہ دوسروں کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔جبکہ اس کا حقدار وہ تنہا ہے اور شرک اسے کسی شکل میں بھی گوارہ نہیں ہے؟ رہ گیا کام لینا وہ جس سے چاہے جو کام لے؟ اس کے لیے وہ راہیں آسان کردیتا ہے۔ اگر کوئی بگڑ ی ہوئی قوم عذاب دیکھ کر سدھر جائے تو اس پر سے عذاب بھی ٹالدیتا ہے۔ میرے خیال میں اب آپ میری پوری بات کوسمجھ گئے ہونگے؟ کہ میں نے کیوں کہا کہ ا للہ سبحانہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔اور اپنی اس دعا پر میں بات ختم کرتا ہوں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نئے حکمرانوں اور پاکستانی قوم دونوں کو ہدایت دے تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھاسکیں( آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY