آفتابِ لکھنو شہنشاہِ غزل میر تقی میر..آفتاب احمد‎

0
254

مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے

درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوا ن کیا

اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انہیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔

ریختہ كے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ

کہتے ہیں اگلے زمانے ميں كوئى مير بھی تھا

دنیائے اردو ادب کے بے تاج بادشاہ ، غزل کی دنیا کے شہنشاہ میرتقی اکبر آباد میں 1722 ء میں پیدا ہوئے طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود میرؔ دنیائے ادب پر آج بھی حکمرانی کر رہے ہیں اور زندہ و تابندہ ہیں۔ میرؔ ان استاد الاساتذہ میں سے ہیں کہ جن کو اردو شاعری کے بڑے بڑے شاعروں نے نہ صرف سراہا بلکہ ان کی شاعری کی برملا تعریف و تو صیف میں کنجوسی سے کام نہیں لیا۔ شعرائے متاخرین نے انہیں ’’خدائے سخن‘‘ کا خطاب دیا۔ ایک عالم میرؔ کی شاعری کا مُعتَرف و معتقد رہا اور یہ سلسلہ تا حال جاری و ساری ہے۔مرزا غالبؔ جیسے استاد شاعر نے بر ملا میرؔ کے معتقد ہونے کا اقرار کیا

اپنا تو عقیدہ ہے بقول ناسخ

آپ بے بہرہ ہیں جو معتقدِ میر نہیں

پھر غالبؔ نے میرؔ کے معتقد ہونے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ دنیا کو یہ باور بھی کرایا کہ غالب ؔ ہی ریختے کے استاد نہیں ، ان سے پہلے میرؔ بھی زبان و بیان کے استاد رہ چکے ہیں۔ غالب ؔ کا یہ شعر بہت معروف ہے ؂

ریختے کے تُم ہی استاد نہیں ہو ، غالبؔ

کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

’ذکرِ میر ‘ میر تقی میرؔکی خود نوشت سوانح حیات ہے۔جو ان کی نجی زندگی کے واقعات ، ان کی شخصیت پر تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہے۔ اس خود نوشت کو میرؔ پر معلومات کا اَساسیِ ماخذ تصور کیا جاتا ہے۔ میرؔ کی شاعری اور ان کی زندگی پر گزشتہ دوصدیوں سے کام ہورہا ہے۔ بے شمار مورخین ،محققین و مصنفین نے میر ؔ کو اپنا موضوع بنایا اور تحقیق کی، شاعروں نے میرؔ پر شاعری کی اور نظم میں میرؔ کو خرجِ تحسین پیش کیا۔ دنیا کا شاید ہی کوئی شاعر ایسا ہوگا کہ جس نے میرؔ کی غزل گوئی کا مطالعہ نہ کیاہو۔

مير تقی میر ایک ایسے عہد میں پیدا ہوئے جو سیاسی ، سماجی ، ملکی اور معاشی اعتبار سے سخت انتشار اور افراتفری کا دور تھا۔میر اپنے اس دور کے احساس زوال اور انسانی الم کے مظہر ہیں۔ ان کی شاعری اس تما م شکست و ریخت کے خلاف ایک غیر منظم احتجاج ہے۔

میر تقی میر جب لکھنؤ چلے تو ساری گاڑی کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ ناچار ایک شخص کے ساتھ شریک ہوگئے تو دلی کو خدا حافظ کہا۔ تھوڑی دور آگے چل کر اس شخص نے کچھ بات کی۔ یہ اس کی طرف سے منہ پھیر کر ہو بیٹھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر اس نے بات کی میر صاحب چیں بجبیں ہوکر بولے کہ صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے۔ بے شک گاڑی میں بیٹھے۔ مگر باتوں سے کیا تعلق! اس نے کہا۔ حضرت کیا مضائقہ ہے۔ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔

میر صاحب بگڑ کر بولے۔ کہ خیر آپ کا شغل ہے۔ میری زبان خراب ہوتی ہے۔ لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا کہ مسافروں کا دستور ہے ایک سرائے میں اترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں مشاعرہ ہے۔ رہ نہ سکے۔ اسی وقت غزل لکھی۔ اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔ ان کی وضع قدیمانہ تھی۔ کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، جس کے عرض کے پائیچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخل محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنؤ ، نئے انداز ، نئی تراشیں، بانکے ٹیڑھے جوان جمع، انہیں دیکھ کر سب ہنسنے لگے، میرؔ صاحب بیچارے غریب الوطن، زمانے کے ہاتھ سے پہلے ہی دل شکستہ اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے، شمع ان کے سامنے آئی، تو پھر سب کی نظر پڑی۔ بعض اشخاص نے سوچھا! حضور کا وطن کہاں ہے؟ میرؔ صاحب نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا

کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو

ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

میر کا زمانہ شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ ہر طرف صعوبتوں کو برداشت کرنے کے بالآخر میر گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنو روانہ ہو گئے۔ اور سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کے بعد لکھنو پہنچے ۔ وہاں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ نواب آصف الدولہ نے تین سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا۔ اور میر آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔ لیکن تند مزاجی کی وجہ سے کسی بات پر ناراض ہو کر دربار سے الگ ہو گئے۔

میر نے فارسی میں ’نکات الشعرائ‘ نام سے ایک تذکرہ 1165ءمیں لکھا جو اردو کا سب سے پہلا تذکرہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دو تصانیف ہیں ’ذکر میر‘ اور ’فیض میر‘ جو فارسی میں ہیں۔

میر کے چھ دیوان ہیں۔ انہوں نے غزلوں کے علاوہ قصیدے، مرثیے اور سلام بھی لکھے۔ ان مثنویات میں خصوصاً ’دریائے عشق‘ اور ’شعلہ عشق‘ بہت مشہور ہیں۔ میر کو خدائے سخن کہا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک تو وہ اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ ان کے معاصرین ہوں یا بعد کے شعرائ، سب میر کی عظمت کے آگے سر نگوں ہوئے ہیں۔

میر کا تصور، زندگی کے بارے میں بڑا واضح ہے کہ ان کا زندگی کی بارے میں نقطۂ نظر حزنیہ تھا۔ حزن ایک ایسے غم کا نام ہے جو اپنے اندر تفکر اورتخلیقی صلاحیتیں بھی رکھتا ہے۔ یہ غم ذاتی مقاصد اور ذاتی اغراض کا پرتو نہیں رکھتا۔ اس غم میں تو سوچ، غور و فکر اور تفکر کو دخل ہے۔ میر کے متعلق یہ کہنا بھی درست نہیں کی میر قنوطی شاعر ہیں یا محض یاسیت کا شکار ہیں۔ محض یاس کا شاعر ہونا کوئی بڑی بات نہیں، اصل بات تو یہ ہے کی انسان یاس و غم کا شکار ہونے کے باوجود زندگی سے نباہ کیسے کرتا ہے۔ یہی نباہ اس کا تصور زندگی کی تشکیل دیتا ہے۔ میر کا تصور ِ زندگی مایوس کن نہیں صرف اس میں غم و الم کا ذکر بہت زیادہ ہے۔ مگر یہ غم و الم ہمیں زندگی سے نفرت نہیں سکھاتا بلکہ زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کر تا ہے۔ اس میں زندگی کی بھرپور توانائی کا احساس ہوتا ہے۔

میر کا تصور غم تخیلی اور فکری ہے۔ یہ قنوطیت پیدا نہیں کرتا۔ اس کے ہوتے ہوئے میر کی شاعری میں توازن اور ٹھہراؤ نظر آتا ہے۔ شکستگی کا احساس نہیں ہوتا اور ضبط، سنجیدگی اور تحمل ملتا ہے۔ وہ غم سے سرشار ہو کر اسے سرور اور نشاط بنا دیتے ہیں۔ مجنوں گورکھپوری ان کے تصورات غم سے بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ” میر نے غم عشق اور اس کے ساتھ غم زندگی کو ہمارے لیے راحت بنا دیا ہے۔ وہ درد کو ایک سرور اور الم کو ایک نشاط بنا دیتے ہیں۔ میر کے کلام کے مطالعہ سے ہمارے جذبات و خیالات اور ہمارے احساسات و نظریات میں وہ ضبط اور سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ جس کو صحیح معنوں میں تحمل کہتے ہیں۔ ہر صبح غموں میں شام کی ہے میں خونابہ کشی مدام کی ہے میں نے یہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر مر مر کے غرض تمام کی ہے میں نے

میر کے ہاں دردمندی ان کے فلسفہ غم کا دوسرا نام ہے۔ اگرچہ لفظ فلسفہ انہوں نے استعمال ہی نہیں کیا، مگر اس سے مراد ان کی یہی ہے۔ دردمندی سے مراد زندگی کی تلخ حقیقتوں کا اعتراف و ادراک اور مقدور بھر ان تلخیوں کو دور کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ یہ دردمندی ان کی زندگی کے تضادات سے جنم لیتی ہیں۔ دردمندی کا سرچشمہ دل ہے۔ میر کے یہ اشعار ذہن میں رکھیے: آبلے کی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہے دردمندی میں کٹی ساری جوانی اپنی نہ دردمندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ قدم قدم پہ تھی یاں جائے نالہ و فریاد چشم رہتی ہے اب پرُ آب بہت دل کو میرے ہے اضطراب بہت اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا لوہو (لہو) آتا ہے جب نہیں آتا

ان کے طنز میں غالب کی تیزی کی جگہ ایک عجب پرکیف نرمی ہوتی ہے۔ ہوگا کسو دیوار کے سائے تلے میں میر کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو عشق کرتے ہیں اس پری رو سے میر صاحب بھی کیا دوانے ہیں حال بد گفتنی نہیں میرا تم نے پوچھا تو مہربانی ہے

میر کی عظمت کا راز شاید یہی ہے کہ انہوں نے سیدھے سادے انداز میں اور بول چال کی زبان میں اپنے درد کا اظہار کر دیا اور جس کسی نے انہیں پڑھا، اپنے کرب کو ان کے کرب کے مماثل پایا۔ اس لئے جس کسی کے بھی دل میں درد تھا میر ان کا محبوب شاعر بن گیا۔ اسی لئے کہا گیا کہ ”میر نے آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا۔

میر تقی میر کے ایک منہ بولے چچا تھے جن کو امان اللہ کہا جاتا تھا۔ وہ میر کے والد کے بہت مرید تھے اور میر سے بھی بے پناہ محبت کرتے تھے۔ میر کے والد امان اللہ کی مریدی دیکھ کر ان سے بے حد خوش رہتے تھے اور انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ امان اللہ بھی میر کو لے کر صوفیوں کی خانقاہوں پر حاضری دیتے تھے۔ میر کی سوانح لکھنے والوں کا یہ ماننا ہے کہ میر کے مزاج میں بد دماغی کی حد تک جو بے نیازی تھی اس میں ان خانقاہوں کی تربیت کا بڑا حصہ تھا۔

میر اپنی عمر کے گیارہ سال مکمل کرتے کہ اس سے قبل والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ منہ بولے چچا سے شفقت کی امید تھی مگر بدقسمتی کہیں یا کچھ اور کہ وہ بھی نہ رہے۔ اب میر بالکل بے سہارا تھے۔ بس ایک سوتیلے بھائی محمد حسن سے حسن سلوک کی امید تھی، تو مصیبت میں جس طرح سایہ ساتھ چھوڑ دیتا ہے اسی طرح انہوں نے بھی مکمل طور پر میر سے آنکھیں پھیر لیں۔ بے سہارا اور بے یار و مددگار پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے میر نے آگرہ سے دہلی کا سفر کیا اور کچھ دنوں تک انتہائی کسمپرسی میں گزارا۔ بالآخر صمصام الدولہ نے ایک روپیہ روز وظیفہ مقرر کر دیا مگر کچھ ہی دنوں بعد صمصام الدولہ کا انتقال ہو گیا اور وظیفہ ختم ہو گیا۔ روزی نہ ملنے سے مایوسی آئی اور وہ آگرہ لوٹ گئے۔ اب دوبارہ دہلی کا رخ کیا اور خان آرزو کی خدمت میں حاضر ہوئے جو ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن کے ماموں تھے۔ ان کی توجہ سے میر نے بہت کچھ سیکھا۔ نکات الشعراءمیں انہوں نے انہیں ’استاد پیر و مرشد بندہ‘ کہا ہے۔ سعادت اور امروہوی کے مشورے پر شعر تو پہلے ہی کہنے لگے تھے مگر خان آرزو کی توجہ نے ان کے فن شعر گوئی میں نکھار پیدا کیا اور وہ محمد تقی سے میر بن گئے۔

میر تقی میر سرتاج شعرائے اردو ہیں ان کا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائے گا جیسے سعدی کا کلام فارسی میں، اگر دنیا کے ایسے شاعروں کی ایک فہرست تیار کی جائے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا تو میر کا نام اس فہرست میں ضرور داخل ہوگا۔

میرؔ کے اجداد کا وطن ’حجاز‘ تھا ، وہ حجاز سے ہجرت کر کے ہندوستان کے شہر دکن سے ہوتے ہوئے گجرات میں پناگزیں ہوئے،جہاں سے وہ اکبرآباد آئے جو اس وقت ہندوستان کا مرکزی شہر اور دارالخلافہ بھی تھا، میرؔ کا خاندان نسلاً ایک اعلیٰ خاندان تھا، عربی ہونے کے ناطے ان میں عرب کے باسیوں کی اعلیٰ روایات اور خاصیتیں بدرجہ اتم موجود تھیں۔غیض و غضب،غصہ،قہر،، شدت، گرمی، جوش، ولولہ، شدت پسندی ، غیرت، ندامت ، حمیت ، شرافت ، ثابت قدمی، برداشت، درگزر، ایثار ، قربانی،ندامت ، اضطراب ، کَسَمساھَٹ، بے چینی و بے کلی ان کی شخصیت اور شعری میں نمایاں نظر آتی ہے۔خاندانی اثرات کے ساتھ ساتھ میرؔ پر حالات اور واقعات جو ان کی زندگی میں گزرے کے اثرات بھی ان کے کلام میں نمایاں ہیں۔ میرؔ کے مطابق ’ان کے دادا نے فوج میں ملازمت اختیار کی لیکن وہ جلد ہی ہندوستان کے شہر گوالیار جاکر انتقال کرگے‘۔ میرؔ کے والد محمد علی ’علی متقی‘ کے نام سے معروف تھے وہ اپنے اس خطاب کی مناسبت سے پرہیز گار ، متقی اور درویش صفت انسان تھے۔ میرؔ کا کہنا ہے کہ ان کے والد روز و شب یاد الٰہی میں مصروف رہا کرتے۔قدرت کا نظام بھی خوب ہے کہ باپ درویش، متقی و پرہیز گار اور بیٹا بلا کا غزل گو۔

میرؔ کا خاندان مالی اعتبار سے مستحکم نہ تھا بلکہ غربت کا دور دورہ ہی رہا۔ میرؔ نے بھی غربت ہی دیکھی۔ میرؔ کی ابتدائی تربیت اپنے درویش صفت والد کی زیر سایہ ہوئی لیکن وہ تو دنیا سے دور کی دنیا کے مکین تھے۔ میرؔ سات سال کی عمر میں سید امان اﷲ کے سپرد کردئے گئے جنہیں میرؔ نے ’عم بزرگوار‘لکھا ہے۔ بہت جلد میرؔ اپنے والد اور اپنے ان بزرگوار سے محروم ہوگئے۔ اب میرؔ کی نجی زندگی مشکلات و مصائب کا شکار ہوگئی، سوتیلے بھائیوں نے میرؔ کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہ کیا۔میرؔ کا یہ دورغربت، تنگ دستی ، افلاس کا دور تھا۔ میرؔ میں اپنے والد کی ایک خصوصیت خود داری بھی تھی۔ وہ انتہا درجہ کے خود دار واقع ہوئے تھے۔ تلاش معاش کے سلسلے میں شہر شہر نگر نگر گئے، اس وقت میرؔ صرف دس برس کے تھے۔ آگرہ میں کوشش کی کہ معاش کاکوئی ذریعہ بن جائے لیکن ناکامی ہوئی مجبوراً دلی کا رخ کیا۔ یہاں بھی میرؔ کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ حد سے زیادہ پریشانی، بے بسی، غربت نے گویا میرؔ کو چاروں جانب سے گھیر لیا تھا۔ دوبارہ آگرہ چلے گئے لیکن پھر مجبور ہوکر دلی واپس آگئے اور اپنے سوتیلے ماموں سراج الدین خان آرزوؔ کے یہاں رہنے لگے۔یہاں بھی میرؔ کی مشکلات کم ہونے کے بجائے زیادہ ہی ہوگئیں۔ یعنی خاندانی مصائب نے بھی گھیرا تنگ کردیا۔ انسان مسلسل پریشانیوں اور مشکلات میں گھرا رہے تو وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوہی جاتا ہے۔ شکر ہے کہ میرؔ نے اپنے آپ کو ذہنی دباؤ سے محفوظ رکھا ، میرؔ کے خاندان میں ذہنی مریض ہونے کے آثار پائے جاتے تھے، ان کے چچا ذہنی طور پر مفلوج تھے۔

حالات کے ہاتھوں میرؔ مجنو ٔ ں ضرور ہوگئے تھے، تنگ آکر اپنے خاندان کے احباب سے لاتعلق ہوگئے اور دلی میں معاش کی غرض سے کئی جگہ ملازمتیں بھی کیں۔ان حالات میں بھی شاعری جاری رہی۔

طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نے

آشوب بلا آنکھوں دکھائے تو نے

رونے سے ترے رو سی چلی آئی ایک

یہ دو دریا کہاں سے پائے تو نے

اب وہ دور آچکا تھا کہ میرؔ کی شاعری نے اپنا سکہ جما لیاتھا، ہر جانب میرؔ کی غزل گوئی کے چرچے عام تھے۔ دوسری جانب دلی کے حالات ابتری کی جانب رواں دواں تھے، مغلیہ سلطنت روبہ انحطاط تھی، ابدالیوں نے دلی پر حملہ کرکے اس کا حال برا کردیا تھا،مرہٹوں نے انتشار کی فضاء پیدا کی، روہیلوں نے مظالم در مظالم کرکے ظلم کی تاریخ رقم کردی تھی، نادر شاہ دلی پر حملہ آور ہوا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، اس کے بعد احمد شاہ ابدالی نے رہی سہی کثر پوری کرکے دلی کو تاراج کرلیا ، دلی کو خوب لوٹا گیا، سارا نظام درہم برہم کردیا گیا،یہی وقت تھا جب دلی کے اجڑنے کی داستان رقم ہوئی۔ 1857 ء کے غدر نے مغلیہ سلطنت کے ساتھ قدیم تہذیب و تمدن کی بساط الٹ کر رکھ دی۔اس طرح درانیوں، ابدالیوں، مرھٹوں، جاٹوں اور روھیلوں نے یکے بعد دیگرے دلی کو خوب خوب لوٹا اور قتل و غارت گری سے دلی کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ یہاں تک کے مغل حکمراں انگریزوں کے ملازم بن کر رہ گئے۔ میرؔ دلی کی کاھِش پزیری کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ وہ ایک حساس دل لیے ہوئے تھے ان واقعات سے الگ تھلگ کیسے رہ سکتے تھے۔ دلی کے اجڑنے کی داستان رقم کی۔ میرؔ نے کہا ؂

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں اُنھیں

تھا کل تک دماغ جنھیں تاج و تخت کا

دلی کے ابتر حالات نے وہاں کے باسیوں کو دلبرداشتہ کردیا تھا، شاعروں کی اکثریت نے دلی سے لکھنؤ کا رخ کیا ۔ میر تقی میرؔ نے بھی دلی کو خیر باد کہنے کا ارادہ کیا ۔ میرؔ شاعر کی حیثیت سے اپنی شہرت کا ڈنکا بجوا چکے تھے۔ نواب وزیر الملک آصف الدولہ بہادر نے میرؔ کو لکھنؤ بلوا بھیجا۔ میر نےؔ بھی اس پیش کش کو غنیمت جانا اور دلی کو چھوڑ لکھنؤ جا بسے۔ اس وقت میرؔ ساٹھ کے ہوچکے تھے۔ یہاں آکر اطمینان کا سانس لیا اور پھر لکھنؤ سے واپس مڑکر نہ دیکھا ۔ گو وہ لکھنؤ میں اداس ضرور تھے لیکن اس کے باوجود لکھنؤ کو اپنی آخری پناہ گاہ و آرام گاہ بھی بنا لیا اور زندگی کے اختتام تک لکھنؤ ہی کو آباد کیے رکھا ۔ وہ لکھنؤ گئے تو اپنی دلی کیفیت اور اداسی کا اظہار کچھ اس طرح کیا ؂

لکھنؤ دلی سے آیا یاں بھی رہتا ہے اُداس

میرؔ کی سرگشتگی نے بے دل و حیراں کیا

دبستان ِدہلی کا اپنا رنگ ہے ، دہلی اسکول آف اردو غزل کی وسعت اور اثرات اردو شاعری پر ہمیشہ سایہ فگن رہیں گے۔دبستانِ دلی کی شاعری داخلیت پسندی کے گرد گھومتی ہے جس میں سوز وگداز، درد مندی، غم والم، تصوف، حسن و جمال، احساسات ِ حسن، خوبصورت تشبیہات، شفتگی و ترنم،خلوص، سادگی، صداقت، خطابیہ انداز پایا جاتا ہے۔دبستان دہلی نے میر تقی میرؔ،سوداؔ، دردؔ، مصحفیؔ، انشاءؔ، میرحسن، داغؔ دہلوی، بیخودؔدہلوی اور بے شمار عظیم شاعر پیدا کیے۔میرؔ کا انداز اور شاعری سب سے جد ا، گفتگو کا انداز مختلف اور سخن نرالا ہے، جس کا اعتراف خود میرؔ نے اس شعر میں کیا ؂

نہیں ملتا سخن اپنا کسو سے

ہماری گفتگو کا ڈھب جُدا ہے

ایک اور جگہ اپنی بات کے مستند ہونے اور سارے زمانے میں بلند و بالا ہونے کا فخریہ انداز اس طرح سے کیا ؂

سارے عَالم پر ہوں مَیں چھایا ہوا

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

دلی اور لکھنؤ شاعروں کے شہر تھے، اردو کی ترویج و ترقی کے شہر ، ادیبوں اور دانشوروں کا منبع و مرکز، اردو تہذیب و تمدن کے گڑھ تصور کیے جاتے تھے۔ ہندوستان کی تاریخ میں لکھنؤ کے شعرا اپنے نام کے ساتھ لکھنؤ ی اور دہلی یا دلی کے شعرا اپنے نام کے ساتھ دہلوی فخریہ طور پر لگایا کرتے تھے۔ ’دہلی‘

اور’ لکھنؤ‘شعرا کی پہچان تھا۔دہلی اجڑی تو لکھنؤ میں اردو کے چرچے تیز ہوئے۔ کسی شاعر نے لکھنؤ کے حوالے سے کہا ؂

دعویٰ زبان کا لکھنؤ والوں کے سامنے

اظہار بوئے مشک غزالوں کے سامنے

میرؔنے ’ذکر میر‘کے علاوہ ایک کتابچہ ’فیضِ میر‘ کے عنوان سے لکھا۔ یہ کتابچہ میر ؔ کے مذہبی عقائد و خیالات کا پتا دیتا ہے۔ساتھ ہی ان کی بعض مختلف قسم کی دلچسپیوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتاہے۔ مورخین نے میرؔ کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کی اہمیت و ضرورت کو بنیاد قراردیا ہے۔ اردو تذکرہ نگاری میں بھی میر تقی میرؔ کانام سرِ فہرست ہے۔ میرؔ نے اردو شاعروں کا پہلا تذکرہ ’’نکات الشعراء‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا تھا جو 1751 ء میں منظر عام پر آیا ۔ کہا جاتا ہے کہ ا س تذکرے میں ستر یا بھتر(70-72) معروف و غیرمعروف شعراء کا تذکرہ ہے۔ ہر شاعر کی شخصیت اور اس کا منتخب کلام ساتھ ہی اس پر اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ تذکرہ اس دور کے شعراء کے تذکرے کے ساتھ ساتھ اس میں خود میرتقی میرؔ کی شخصیت اور اس دور کے شاعرانہ ماحول کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے۔

میر کا دور شدید ابتری کا دور تھا۔ زندگی کے مختلف دائروں کی اقدار کی بے آبروئی ہو رہی تھی۔ انسانی خون کی ارزانی، دنیا کی بے ثباتی اور ہمہ گیرانسانی تباہی نے انسانوں کو بے حد متاثر کیا۔ میر اس تباہی کے محض تماشائی نہ تھے بلکہ وہ خود اس تباہ حال معاشرہ کے ایک رکن تھے۔ جو صدیوں کے لگے بندھے نظام کی بردبادی سے تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر کر رہ گیا تھا۔ اوراب اس کو جوڑنا ممکن نہ رہا تھا۔ میر نے اس ماحول کے اثرات شدت سے محسوس کیے ہیں۔ ان کی غزلوں میں اس تباہی کے نقوش ملتے ہیں۔ لٹے ہوئے نگروں، شہروں اور اجڑی ہوئی بستیوں کے حالات، بجھے ہوئے دلوں کی تصویریں، زمانے کے گرد و غبار کی دھندلاہٹیں، تشبیہوں اور استعاروں کی شکل میں میر کے ہاں موجود ہیں۔ روشن ہے اس طرح دل ِ ویراں میں داغ ایک اُجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ ایک پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے

باغ تو سارا جانے ہے

دل کی ویرانی کا کیا مذکور

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

میر نے اپنے شیوہ گفتار کو زیادہ موثر اور دلکش بنانے کے لیے تشبیہ و استعارے کا بڑے سلیقے سے استعمال کیا ہے۔ یہ تشبیہات مردہ نہیں بلکہ ان کے اندر زندگی دوڑتی ہوئی نظرآتی ہے۔ اس لیے کہ ان کے خالق کے خون میں گرمی اور حرارت ہے اور وہ پوری صداقت اور پورے فنی خلوص سے اپنی زندگی بھر کے تجربات و تاثرات کو ان تشبیہات و استعارات کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ ان میں کہیں بھی تصنع یا بناوٹ کا احساس تک نہیں ہوتا۔ شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے دل ہوا ہے چراغ مفلس کا نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے میر ان نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے

اُس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے بس اے میر مژگاں سے پونچھ آنسوؤ ں کو تو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا

میر کے شاعرانہ انداز کی غنائیت اور موسیقیت اپنے اندر فنی دلکشی کے بہت سے پہلو رکھتی ہے۔ میر کے اندازکی نغمگی اور ترنم مسلم ہے۔ اور یہی میر کی عظمت کا راز ہے۔ ان کا کمال فن یہ ہے کہ وہ مختلف خیالات کے اظہار کے لیے مختلف بحروں کا انتخاب کرکے نغمگی پیدا کرتے ہیں۔ فارسی مروجہ بحروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ میر نے ہندی کے پنگل کو اردو غزل کے مزاج کا حصہ بنا کر ہم آہنگی کی صورت دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ا س کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی شاعری میں بڑی کیف آور اور اثر انگیز غنائیت و موسیقی پیدا ہوتی ہے۔ پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے چلتے ہو تو چمن کو چلیے سنتے ہیں کہ بہاراں ہے پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے

میر کی شاعری کے فکری عناصر میں متصوفانہ رنگ خاص طور پرقابل ذکر ہے۔ ان کے باپ اور چچا صوفیانہ مزاج کے مالک تھے اور رات دن جذب و مستی کی کیفیات میں سرشار رہتے تھے۔ میر نے ان بزرگوں کی آنکھیں دیکھی تھیں۔ وہ بھلا کس طرح صوفیانہ تجربہ سے الگ رہ سکتے تھے۔ ان کے ہاں تصوف کا تجربہ محض روایتی نہیں ہے یہ رسمی بھی نہیں ہے، اس تجربے نے میر کے ذہن و فکر کی تہذیب پر گہرے اثرات مرتسم کیے ہیں۔ وہ زندگی کو کسی عام انسان کی طرح نہیں دیکھتے، ان کی نظر صاف دل صوفی کی نظر ہے۔ موت اک ماندگی کا وقفہ ہے یعنی آگے چلیں گے دم لے کر سرسری تم جہان سے گزرے ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا

ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری

ہر شام نئی ایک مصیبت گذری

پامال کدورت ہی رہا یاں دن رات

یوں خاک میں ملتے مجھ کو مدت گذری

یہ بات تو طے ہے کہ میر نے ایک گوشت پوست کے زندہ و متحرک محبوب سے عشق نہیں، بھرپور عشق کیا تھا۔ اور محبوب سے ان کے احساسِ جمال، قوتِ تخیل او ر تصو ر حسن پر روشنی پڑتی ہے۔ ان کا محبوب خود حسن و نور کا منبع ہے اور روشنی کی طرح شفاف۔ میر کا محبوب صرف روشنی ہی نہیں بلکہ جسم، خوشبواور رنگ و بو کا پیکر بھی ہے۔ وہ مادی کثافتوں سے منزہ اور حسن محض ہے۔ ان گل رخوں کی قامت لہکے ہے یوں ہوا میں جس رنگ سے لچکتی پھولوں کی ڈالیاں ہیں کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے اس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوا چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

اک مرتبہ دل پہ اضطرابی آئی

یعنی کہ اجل میری شتابی آئی

بکھرا جاتا ہے ناتوانی سے جی

عاشق نہ ہوئے کہ اک خرابی آئی

میر کی شاعری میں جو تشبیہیں اور استعارے استعمال کئے گئے ہیں وہ اتنے پرکشش ہیں کہ دلوں کو مسخر کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں موسیقیت ہے اور ان کا نرم لہجہ درد سے نڈھال انسان کو تھپکیاں دیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں خود کلامی پائی جاتی ہے۔ گویا شاعر خود سے باتیں کر رہا ہو۔ میر کے یہاں استفہام یعنی سوال کا انداز بہت لطف دیتا ہے اور تقریباً دو سو برس سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان کے اشعار دل کو تڑپا دیتے ہیں۔ جیسے

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

میر کے یہاں بے یقینی کی کیفیت ہے اور قاری کو اس کا فیصل بناتے ہیں۔ مثلاً

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

یہ نمائش سراب کی سی ہے

میر بہت آسان زبان میں بہت بڑی باتیں کہتے ہیں جو دل کو محظوظ بھی کرتی ہیں اور حسن کو مغرور بھی کرتی ہیں۔ مثلاً

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

میر کو خطاب اور گفتگو کا انداز بڑا پسند ہے۔ کبھی وہ خود سے مخاطب ہو کر ”باتیں “ کرتے ہیں اور کبھی کسی دوسرے شخص سے۔ کبھی ان کا تخاطب بلبل سے ہے اور کبھی شمع و پروانہ سے۔ ان تمام حالتوں میں شعر میں بات چیت اور بے تکلفی کا رنگ بہر حال قائم رہتا ہے۔ ایک مانوس اور محبت بھری آواز کانوں سے ٹکراتی ہے جو اپنے پیرایہ ادا کی کشش سے قاری یا سامع کو فوراً اپنے حلقہ اثر میں لے لیتی ہے اور وہ خود بخود میر صاحب کی ان بے ساختہ اور پر خلوص ”باتوں“ سے لطف اندوز ہونے لگتا ہے۔ چلتے ہو تو چمن کو چلیے سنتے ہیں کہ بہاراں ہے پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا میں جو بولا کہا کہ یہ آواز اُسی خانہ خراب کی سی ہے بارے دنیا میں رہو غمزدہ یا شاد رہو ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

میر کا طنز ان کی طبیعت کا آئینہ ہے۔ جب کوئی بات طنز کے ساتھ کہتے ہیں تو اس سے محض بے تکلفی نہیں ٹپکتی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس عالم یا اس تجربہ سے گزر چکے ہیں۔ ان کا طنز اس شدید اور عمیق تعلق کا نتیجہ ہے جو بے تکلفی کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے اور پھر عمر بھر قائم رہتا ہے۔ ان کے طنز میں ایک مدہم سی تلخی ہوتی ہے جو پختہ مغزی کی علامت ہوتی ہے۔

میرؔ کی شاعری احساسِ حسن اور ذوقِ جمال کے گرد گھومتی ہے ، زندگی میں جن حادثات و واقعات سے وہ دوچار ہو ئے ، اگر وہ نہ ہوئے ہوتے، ان کے دل پر پتھروں سے وارنہ کیے جاتے، وہ غموں سے چور چور نہ ہوئے ہوتے، وہ اپنوں اور پرائیوں کی بے اعتنائیوں کا شکار نہ ہوئے ہوتے، انہیں در در کی ٹھوکرے کھانے کو نہ ملتیں، غربت اور افلاس کی چکی سے نہ گزرے ہوتے، ان کے جذبات کو پاؤں تلے نہ روندا گیا ہوتا، دلی سے لکھنؤ اور پھر لکھنؤ سے دلی کے چکر نہ لگانے پڑتے، ان کی خواہشوں کا، آروزؤوں کا خون نہ ہوا ہوتاتو وہ میرتقی سے میرؔ نہ بنتے۔میر نے اردو کے علاوہ فارسی میں بھی شعر کہے۔ انہیں عربی

کے علاوہ فارسی پر بھی عبور حاصل تھا۔ میر ؔ جب کِبر سِنی کو پہنچے تو انہوں نے اپنی شعری کیفیت کا حال اپنے اس شعر بیان کیا ؂

لُطفِ سخن بھی پیری میں رہتا نہیں ہے میرؔ

اَب شعر ہم پڑھیں ہیں تو وُ ہ شد و مد نہیں

غزل گوئی میں میر ؔ کی بلندی کو اب تک کوئی نہ چھو سکا۔ ان کی غزلوں کے بعض بعض اشعارضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرؔ کے کلام سے چند اشعار ؂

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا، اس بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیا

آفتابِ لکھنو بروز جمعہ21ستمبر 1810ء عدم کی بے کراں وادیوں میں اوجھل ہوگیا ۔بعض روایات کے مطابق میر تقی میر صاحب کے جسدِ خاکی کو اکھاڑ بھیم لکھنو کے اک گوشے میں سپردِ خاک کیا گیا ۔اسکے بعد قبر کا نشاں بھی مٹ گیا ۔مجھ جیسا بھی اک حسرت لیکر دنیا سے چلا جائے گا کہ کا ش میں میر کی لحد کے سر ہانے بیٹھ کر آہستہ آہستہ تحت الفظ میر کی شاعری پڑھتا اپنے جذبات حزیں کا اظہار کرتا اور اِس لافانی تخلیق کار کے حضور آنسوؤں اور آہوں کا نذرانہ پیش کرتا ۔

ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے

خونابہ کشی مدام کی ہے ہم نے

یہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر

مر مر کے غرض تمام کی ہے ہم نے

تحریر آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY