وہ فرشتے کہاں سے لاتے؟۔۔شمس جیلانی

0
147

اس وقت دو گروہ مصروفِ پیکار ہیں ایک نواز شریف صاحب کاحامی ہے وہ ان کے آدمی کہلاتے ہیں دوسرا عمران خان کا حامی ہے وہ ان کے آدمی کہلاتے ہیں ؟ رہے ہم نہ اُنکے ہیں نہ اِنکے اس لیے کہ ہم ہمیشہ سے اللہ کے تھے اللہ کے رہیں گے اگر اس کا ہم پرفضل اسی طرح سایہ فگن رہاجوا نشا ء اللہ ہمیں امید ہے کہ آئندہ بھی رہے گا ہم اسی کے رہیں گے۔ ہمارے اس دعوے کی بنیاد اللہ سبحانہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ “جسے میں ہدایت دوں اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا“ اور اسے راضی رکھنے کے زریں اصول یہ ہیں کہ ً“کھاؤ حلال اور بولو سچ “ یہ دونوں کام آپ زندگی کے جس شعبے سے بھی تعلق رکھتے ہوں کرکے دیکھ لیجئے انشاٰء اللہ کا فضل آپ کے ساتھ بھی شامل ہو جا ئے گا؟ پہچان یہ ہے کہ سچ لکھیں گے سچ کہیں گے کیونکہ کہنے سے پہلے تولیں گے پھر بولیں گے؟اور ضمیر غلط کہنے اور غلط بولنے سے روکدے گا ؟پھر آپ کسی کے آدمی نہیں کہلا سکیں گے سوائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کہ اور رہنمائی کے لیے حضور (ص) کا اسوہ حسنہ آپ کے سامنے ہو گا جس کے بارے میں قرآن میں سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 21 موجود ہے کہ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص)کے اسوہ حسنہ میں بہترین نمونہ ہے۔ یہ ہمارا آزمودہ نسخہ ہے جس کو کہ ہم بہت ہی کامیابی سے 88سال سے آزما رہے ہیں اور ہمیشہ کامیابیاں سمیٹتے آرہے ہیں ۔
اس تمہید کے بعد اب آگے بڑھتے ہیں؟ اور موجودہ صورت حال کو حضور(ص) کے اسوہ حسنہ میں ہی تلاش کرتے ہیں؟کیونکہ ہمارا معاشرہ اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے جو کہ اسلام سے پہلے عرب کا معاشرہ تھا؟ لیکن اس وقت بھی مکہ معظمہ میں ایک چھوٹا ساسہی مگر ایک گروہ ایسا مووجودتھا جو مسلمان ہوکر اولین میں شامل ہوا کیونکہ انہوں نے بت پرستی کبھی قبول ہی نہیں کی تھی؟ باقی لوگ انسانیت کو پہلے سے ہی ستاتے آرہے تھے اور حضور (ص)کے اصول ان کے مفاد آڑے آئے؟ لہذا جو کل تک صادق اورامین کہتے تھے وہی ان (ص)کے سب سے بڑے دشمن بن گئے؟
لیکن وہ (ص) مایوس نہیں ہوئے انہوں (ص) نے ہمت نہیں ہاری، اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ا نہیں مکی اور مدنی لوگوں میں سے کچھ کے دل پتھر سے موم کردیئے اور وہ ایسے بن گئے جن کو فرشتے بھی سلام کر نے لگے اور دنیا کی تاریخ میں ان کے (ص)جیسے ساتھی کسی نبیؑ کے بھی نہیں ہوئے؟ اگر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان پر توبہ کے دروازے نہ کھولے ہوتے اور نبی(ص) نے انہیں یقین نہ دلا یا ہوتا کہ اگر تم اسلام لے آؤگے تو تمہا رے سب گناہ معاف ہوجائیں گے تو وہ مسلمان کیوں ہوتے؟ اور آج اسلام ہم تک کیسے پہونچتا۔یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوا کہ پہلے سے ہی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے توبہ کے دروازے کھولے ہوئے تھے؟اور جواسلام لے آئے دوسرے مسلمانوں کو ان کے بارے میں بنی(ص) نے منع فرما دیا کہ ان کوکبھی انکا پرانا کردار یاد نہ دلایا جائے کہیں ان میں ردِ عمل کے طور پر پرانی باتیں پھر عودنہ کر آئیں ؟جبکہ یہ کام اسلام کے دشمنوں کا تھا کہ وہ کوشش کرتے رہتے تھے کہ ہم انہیں انکا ماضی یاد دلا کر پھر سے لڑا دیں، کئی دفعہ وہ کامیابی کے قریب تک پہنچ گئے؟ لیکن حضور (ص) نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہارفرمایا کہ “تم لوگ میری(ص) موجود گی جہالت کی طرف پھر لوٹ گئے میرے (ص)بعد کیا کروگے ؟ صحابہ کرام (رض) کو ہوش آگیا اور معاملہ رفع دفع ہوگیا۔
اب آئیے اس کی روشنی میں پاکستان کے موجودہ حالات پربات کریں کہ عمران خان کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور توبہ کی توفیق دی نیز ان کے دل میں یہ بات جاں گزیں کردی کہ پاکستان بنا اللہ کے نام پر تھا؟ بنانے والوں کا مطمح نظر مدینہ جیسی ریاست بنانا تھا اور میں اس مشن کو پورا کروں؟
انہوں نے ا للہ کا نام لیکر تحریک شروع کردی اور جب برائیوں پر نگاہ ڈالی تو انہیں پاکستان کی نمایاں بیماریوں میں جھوٹ، بد عہدی ، چوری اور رشوت خوری نظر آئیں ؟ نہوں نے عہد کرلیا کہ یہ نہ میں خود کرونگا اورنہ کسی اپنے ساتھی کو کر نے دونگا ؟جو لوگ اس تحریک شامل ہوئے ظاہر ہے کہ وہ بھی توبہ کرکے اور باقی چیزیں چھوڑ کر ہی آئے ہونگے کیوونکہ ووہ بھی انسان تھے ہر آدمی کچھ کرنے سے پہلے سوچتا ہے پھر کرتا ہے ؟جو اس سے ثابت ہے کہ وہ ہر بات پر سورہ فاتحہ کی آیت نمبر4 “ایاک نعبدو و ایاک نستعین“ سے شروع کرتے ہیں یعنی (ہم صرف تیری ہی صرف عبادت کرتے ہیں اورصرف تجھی سے مدد چاہتے ہیں )، جب کہ وہ عمران خان کا پختونخوا کا پانچسالہ دور دیکھ کر آئے ہیں، کہ عمران نے اپنے سا تھیوں کو بھی معاف نہیں کیا؟ تو اب کیوں وہ معاف کریں گے؟ جبکہ توبہ کی قبولیت پہچان حضور (ص) نے یہ ہی بتائی ہے کہ توبہ کرنے والے میں وہ بری باتیں نہ رہیں جو پہلے تھیں؟ جوکہ آج وہ اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں ۔ کہ عمران پہلے والے عمر خان نہیں جن کی تعلیم اور تربیت یوکے میں ہوئی تھی؟ اور ہمیں بحیثیت مسلمان یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے مسلمان بھا ئیوں سے حسنِ ظن رکھو؟ اور یہ ہی قانوں ان کے ساتھیوں کے بارے میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کون کیسا تھا اس کو زیر بحث لا نے کی اجازت اسلام نہیں دیتا؟ البتہ کوئی اس کا پھر بھی مرتکب ہو تو وہ سزا کا مستحق ہے؟ اس سے پہلے نہیں؟ اس کے باوجود، اگر کوئی کسی کے بارے میں بات کریگا اور اس میں وہ خرابی ہوئی بھی تو وہ غیبت میں آئے گی؟ جس کی حضور (ص) نے سخت مذمت فرمائی ہے اور اگر سچ نہ ہوئی تو تہمت میں شمار ہو گی جس پر حد لاگو ہوتی ہے۔ اس پیمانے پر پرکھ کر دیکھئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیا کر رہے ہیں ؟ اور خاص طور سے حزبِ اختلاف کے وہ لوگ سوچیں جو کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمارے جیسے نہیں بلکہ ہم میں سے کچھ لوگ لے گئے ؟معاشرے کی جو بگڑی ہوئی شکل ہے اس میں متقی ملیں گے کہاں سے؟ اِنہیں کو ہی سدھار نا پڑے گا؟ لہذا عوام نے ووٹ دیا ہے تو کام کرنے کا پورا موقعہ بھی دیں؟ اگر عوام نے بقول حزب اختلاف انہیں مینڈیٹ ہی نہیں دیا ہے تو اسی الیکشن سے وہ بھی جیتے ہیں ان کے پاس مینڈیٹ نہیں ہے، تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ ورنہ حزب ِ اختلاف یہ ثابت کرنا پڑیگا کہ یہ کس طرح ممکن ہوا کہ ایک ہی طریقہ سے سب گزریں اور نتائج مختلف ہوں؟ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن پہلے جیسے نہیں ہوئے ورنہ 2013 کی طرح پرانی جماعت کی دوتہائی اکثریت آتی؟

SHARE

LEAVE A REPLY