بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا سمیت مزید 5 ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان

0
1018

رانس، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے بڑے ممالک کے بعد بیلجیئم، لکسمبرگ اور مالٹا سمیت مزید 5 ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔

لکسمبرگ، بیلجیئم، موناکو، اینڈوورا اور مالٹا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

بیلجیئم کے وزیراعظم نے غزہ تک مکمل اور آزادانہ رسائی دینے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ غزہ کا بحران دو ریاستی حل کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

وزیراعظم لکسمبرگ نے جنرل اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل ہی امن کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

مالٹا کے وزیر اعظم نے کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کی فتح کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، پرتگال کے بعد فرانس نے بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرلیا

اب تک اقوام متحدہ کے 193 میں سے 147 رکن ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں، اس طرح دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ ممالک فلسطین کی ریاستی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں تاہم غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں اور خطہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض علامتی نہیں بلکہ ایک عملی دباؤ ہے تاکہ جنگ کو روکا جا سکے اور امن کی نئی راہیں کھل سکیں۔

واضح رہے کہ اس ہفتے فرانس، برطانیہ ، آسٹریلیا، پرتگال اور کینیڈا نے بھی فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر وائٹ ہاؤس نے ردعمل دیا کہ یہ حماس کو انعام دینے کے مترادف ہے۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ پرامن مستقبل کے لیے فلسطینی ریاست کو شراکت داری کی پیشکش کرتے ہیں، اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں مسلسل غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور غزہ میں جاری حملوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر اور ہزاروں شہریوں کو قتل کیا ہے، یہ سب اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور امریکا نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا، اسرائیلی مندوب نے اس اجلاس کو سرکس قرار دیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس اقدام کو حماس کے لیے انعام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔

امریکا نے اشارہ دیا کہ وہ سلامتی کونسل میں اپنی ویٹو پاور استعمال کرکے فلسطین کی مکمل رکنیت کی راہ روک سکتا ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد پرتگال نے بھی فلسطین کو باضابطہ طور پر خود مختار ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔

نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پرتگالی وزیر خارجہ نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کو پرتگال کی خارجہ پالیسی کی ایک بنیادی اور مستقل سوچ قرار دیا۔

پرتگال کے وزیر خارجہ پاولو رینجل نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی خطے میں پائیدار اور مستقل امن کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا غزہ میں جاری انسانی بحران کو ختم نہیں کرتا، انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ناگزیر ہے۔

یاد رہےکہ اس سے قبل برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY