وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز کہا کہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو ،جنہوں نے نو سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد آنے والے مہینوں میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے ، امریکہ کے ایک مخلص دوست تھے ۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرن یاں پئیر نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’’ وزیر اعظم ٹروڈو کینیڈا کی حکومت کی عشرے پر محیط اپنی قیادت کے دوران ، امریکہ کے مخلص دوست رہے ہیں ، ہم نے ہر قسم کے معاملات پر قریبی طور پر مل کرکام کیا ہے ۔‘‘
ترجمان نے مزید کہا، ’’ صدر وزیر اعظم کی اس تمام شراکت داری اور نارتھ امریکہ کا اکیسویں صدی کے جیو پولیٹیکل خطرات سے دفاع کرنے سے ان کی وابستگی پر ان کے شکر گزار ہیں ۔”
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر کو اپنی قیادت پر بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کے پیش نظر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا کے وزیر خزانہ کی اچانک رخصتی کے بعد ٹروڈو کے استعفے کو ان کی حکومت میں بڑھتے ہوئے اندرونی خلفشار کے اظہار کے طور پر لیا جارہا ہے۔
اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ٹروڈو نے کہا کہ موجودہ صورت حال نے ان پر واضح کر دیا ہے کہ وہ “اندرونی لڑائیوں کی وجہ سے اگلے انتخابات کے دوران قیادت نہیں کر سکتے۔”
ٹروڈو کے مطابق وہ لبرل پارٹی کے نئے رہنما کے انتخاب تک وزیر اعظم رہیں گے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا، “میں آسانی سے کسی لڑائی میں ہار نہیں مانتا، خاص طور پر جب یہ لڑائی اپنی جماعت اور ملک کے لیے اہم ہو۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی خبرساں ایجنسی کے مطابق جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ وہ حکمران جماعت لبرل پارٹی کی جانب سے نیا سربراہ چنے جانے کے بعد عہدہ چھوڑدیں گے۔
53 سالہ جسٹن ٹروڈو نے 2015 میں کینیڈا کی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا اور وہ اس کے بعد بھی مسلسل 2 انتخابات جیت چکے ہیں۔
جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے متبادل کا انتخاب نہیں ہوجاتا وہ بطور پارٹی سربراہ اور وزیر اعظم اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔
یوں جسٹن ٹروڈو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت کے ابتدائی مہینوں میں کینیڈا کے وزیر اعظم ہوں گے۔












