نعت نگار:سیدعارف معین بلے
مجھے معلوم ہے اِتنا ،نہیں معلوم کیا تُم ہو
ازل کی ابتداء تُم ہو، ابد کی انتہا تُم ہو
تمھارا ﷺنور ہے جاری و ساری بزم ِ امکاں میں
دِل ِ یزداں کی دھڑکن ، قلب ِ دُنیا کی صدا تُم ہو
نہیں ہے تاج سر پر اور سرتاج ِ دوعالم ﷺہو
ہے مسند بوریا لیکن شہِ ہردوسرا ﷺ تُم ہو
مٹایا ہے بشر کے”شر”کو،جس نے خیرسے آکر
وہی خیرالبشر تم ہو، وہی خیرالوریٰ ﷺ تُم ہو
جُداتھے طور کوہ ِ طُور پر لیکن شب ِ اسریٰ
جوتم پہنچے ،کہا اہلاً وسھلاً مرحبا ، تُم ہو
تمھارے سامنے باندھے کھڑے ہیں ہاتھ پیغمبر
یقیناً اشرف ِ کعبہ، امام الانبیاء ﷺ تُم ہو
مدثر نام ہے لیکن رِدا ہے سر پہ بوسیدہ
لقب اُمّی ہے گرچہ، محرم ِ سِّر عُلی ٰ ﷺ تُم ہو
احاطہ ہو تو کیونکر ہو تمھاری ذات ِ اقدس کا
نہیں ہو تُم خدا لیکن ، سبھی کچھ باخدا تُم ہو
بچھا کر راہ ِ اقدس میں ستارے آسمانوں پر
شب ِ اسریٰ خُدا نے جس کا دیکھا راستہ ، تُم ہو
ہمارا ارتقاء منّت کش ِ معراج ہے عارف
بالفاظ ِ دِگر تحریک ِ تسخیر ِ خلا تُم ہو
سرتاج ِ دو عالم ﷺ
سید عارف معین بلے













