اکتیس مارچ دوہزار تئیس کو جاری ہونے والے احکامات کے مطابق وزارت اطلاعات کی سیکرٹری شاہیرہ شاہد کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور انکی جگہ اکیسویں گریڈ کے ایڈیشنل سیکرٹری سہیل علی خان کو اگلے احکامات تک انکی جگہ سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے کو کہا گیا ہے

Published on: 26 Sep 2018
سابق وفاقی سیکرٹریز برائے اطلاعات نے حکومت کی جانب سے ریڈیو پاکستان کی عمارت کو لیز پر دیئے جانے کے فیصلے پر مایوسی اور عدم اطمینان کا اظہار کیاہے۔ تفصیلات کے مطابق پانچ سابق وفاقی سیکرٹریز برائے اطلاعات جو کہ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں نے حکومت کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کی ہے۔
سابق سیکرٹریز خواجہ اعجاز سرور، سید انور محمود، سلیم گل شیخ، اشفاق گوندل اور منظور سہیل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی یہ پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ریڈ یو پاکستان کی عمارت کو لیز پر دینے سے حاصل ہونے والی رقم ریڈیو کے مالی معاملات کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دس سالوں میں سابقہ حکومتوں کی جانب سے میڈیا یونیورسٹی قائم کرنے کیلئے جامع غور و خوص قائم کیا گیا جسے ایک امریکی یونیورسٹی کی جانب سے قائم کیا جانا تھا تاہم اس کیلئے ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کی عمارت کو لیز پر دینے یا فروخت کرنے کی کبھی بھی بات نہیں ہوئی۔
انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ وزارت اطلاعات میں موجود مذکورہ دستاویزات پر غور کیا جائے جو کہ میڈیا یونیورسٹی قائم کرنے کیلئے معاون ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کی جانب سے بھی ریڈیو پاکستان کے معاملات کو بہتر کرنے کیلئے تجاویز دی گئی ہیں جس میںنیشنل یونیورسٹی برائے کمیونیکیشن سائنسز کا قیام بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ریڈیو پاکستان کی عمارت میں موجود نشریاتی آلات اور جدید انجینئرنگ کی ٹیکنالوجی کو ریڈیو پاکستان کی اکیڈمی میں کسی بھی طرح منتقل کرنا ناممکن عمل ہے،دنیا بھر میں بی بی سی، وائس آف امریکہ اور آل انڈیا جیسے ریڈیو جیسے کبھی بھی منافع بخش چینل نہیں رہے اور انہیں ہمیشہ ریاستی معاونت سے ہی چلایا جاتا ہے۔












