وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری پر احتجاج کو سیاسی رنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے، اگر شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے تو کیس چلنے دیں۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ماضی میں سیاسی انتقام کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا لیکن سیاسی انتقام نہ ہمارا مقصد تھا نہ ہے۔ سیاسی گرفتاریوں کی پہلے بھی اور آج بھی مذمت کرتے ہیں۔ تاہم شہباز شریف کی گرفتاری کو سیاسی انتقام کہنا مناسب نہیں، ان کی گرفتاری پر دونوں رخ سامنے آنے چاہیں، انھیں نیب نے گرفتار کیا جو ایک خود مختار ادارہ ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ملک کو بے دردی سے لوٹا گیا، ہم اپوزیشن کا موقف سننا چاہتے ہیں، اپوزیشن بھی ہمارا موقف سنے۔ اپوزیشن کو احتساب پر کیوں اعتراض ہے؟ حزب اختلاف میں بات سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں رسہ کشی ایک دن،ایک سال نہیں سترہ سال پرانی کہانی ہے، آج دنیا بھی پاکستان کے موقف کو تسلیم کر رہی ہے، افغان مسئلے کا حل طاقت نہیں ہے۔ زلمے خلیل زاد پہلی مرتبہ پاکستان نہیں آ رہے، ان کا نقطہ نظر سن کر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میز پر بیٹھنے سے کترا رہا ہے، داخلی سیاست بھارت کے آڑے آ رہی ہے، بھارت نے اقرار کر کے پھر انکار کیا۔ بھارتی رویے سے دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ کو بھی مایوسی ہوئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY