میرے لوگو
یہ تم نے
کیا اپنی حالت بنا لی ہے
ذندہ تو ہو پر جیتے نہیں ہو
بصارت تو رکھتے ہو پر دیکھتے نہیں ہو
کن مسافتوں کے مسافر ہوگئے ہو
رخ روشنی تم دیکھتے ہی نہیں ہو
روشنی باہر سے کب اندر کی جانب اترتی ہے
وہ تو خراماں خراماں اندر سے باہر نکلتی ہے
پھر ۔۔۔ خیاباں خیاباں بکھرتی چلی جاتی ہے
روشنی ہی خدا ہے
تم اسے
جس نام سے بھی پکارو بخدا وہ خدا ہے
سنو ۔۔!
خدا کوئی دنیاوی ضرورت نہیں جو ضروری ہو
پرجو نا ہو تو زمان و مکاں میں کمی ضرور ہو
میرے عزیزو
خدا اس دنیا کی سب سے بڑی آسا یئش ہے
بے کنار محبت کا سلسلہ ہے
لامتناہی ۔۔ سب کو میسر ہے
خدا کی قسم
خدا کے بغیر کچھ بھی خوبصورت نہیں ہے
(ماخوز
ڈاکٹر نگہت نسیم













