روس نے اعلیٰ افغان سیاستدانوں کو دعوت دی ہے کہ وہ ماسکو میں طالبان کی نمائندہ قیادت سے ملاقات کریں۔ روس نے بظاہر اس مذاکراتی عمل کے لیے صدر اشرف غنی کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا ہے۔
افغان سیاستدانوں کو دعوت نامے ایک روسی سفارت کار نے گزشتہ دو ماہ کے دوران مختلف اوقات میں تقسیم کیے۔ جن آٹھ سیاستدانوں کو یہ دعوت نامے دیے گئے ہیں، اُن میں سے چھ نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو اس مذاکراتی عمل میں شریک ہونے کی دی گئی دعوت کی تصدیق کی ہے۔
کابل میں روسی سفارتخانے نے اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ رواں برس اگست میں روس نے ایسے ہی مذاکراتی عمل کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔












