Published on: 3 Nov 2018
علم شعور بیدار رکھتا ہے ۔ بیدار شعور ضمیر کو سونے نہیں دیتا اور خفتہ ضمیری بے ضمیری کی پہلی منزل ہے ۔ کربلا میں اللہ کے حبیب کے نواسے کو یزید کی فوج کی صورت میں بے ضمیروں کا سامنا تھا۔
تاریخ میں یزید کی فوج میں شامل رسول کے صحابیوں کی تعداد 60 بتائی جاتی ہے اور 600 حفاظ قران تھے ۔ مسلہ تعداد کانہیں ہے ۔ تعداد سے اختلاف ہو سکتاہے لیکن اس سے اختلاف نہیں کہ یزید کی فوج میں صحابی رسول بھی تھے اور حافظ قران بھی ۔ بات سچ یہ ہے کہ بے ضمیری صحابی اور حافظ قران کو بھی قاتلان حسین میں شامل کر دیتی ہے ۔
بس ایک بات طے ہے کہ حسین ع کو ان کے نانا کے صحابی حبیب ابن مظاہر کو چھ ماہ کے بچے علی اصغر کو ، قاسم ابن حسن کو ، عباس ابن علی کو اور ایسے ہی کئی نورانی چہروں کو خون میں نہلانے والے اس وقت کے بے ضمیر مسلمان تھے کوئی ہندو سکھ یا عیسائی نہیں تھے ۔
صد حیف باضمیر لوگوں کو فکر حسینی پر چلتے ہوئے آج بھی بے ضمیر یزیدی نسلوں کا سامنا ہے ۔
طالب دعا
ڈاکٹر نگہت نسیم












