مارکسزم اور میرے ذاتی عقائد ۔۔علی شاذف

0
249

سوشلزم انسان کے ساتھ ہمیشہ سے کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے. ہزاروں سال سے مفکرین انسانی آزادی اور فلاح کی خاطر اور ظلم کے خلاف اپنے اپنے انداز میں آواز بلند کرتے رہے ہیں.

یہ اشتراکیت جو آج کے کمیونسٹ جانتے ہیں 200 برس قبل وجود میں آئی تھی. اس کے بانی اور تخلیق کار کارل مارکس اور ان کے ایک دوست فریڈرک اینگلز تھے. ان دونوں افراد کے مطابق دورحاضر میں رائج سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کو معاشی بنیادوں پر دو طبقات میں تقسیم کر دیا ہے. ایک جانب اقلیتی امیر یا حکمران طبقہ اور دوسری طرف اکثریتی غریب اور محنت کش طبقہ ہے. اس نظریے کی رو سے ظلم اور جبر کے اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مزاحمت تیزی سے بڑھ رہی ہے. اس وقت مزدور اور محنت کش طبقہ بھوک، افلاس، ناخواندگی، بیماری اور بےروزگاری جیسی شدید مشکلات سے دوچار ہے. دوسری طرف گنے چنے امرا اپنی تجوریاں ان غریبوں سے لوٹی ہوئی مال و دولت سے بھرتے چلے جا رہے ہیں. سرمایہ داری نے اپنا بھرم قائم اور لوٹ کھسوٹ جاری رکھنے کے لیے لبرل جمہوریت جیسے نظام دیے ہیں. یہ نظام بتدریج یورپی ریاستوں اور کینیڈا وغیرہ جیسی “ویلفیئر اسٹیٹس” میں ناکام ہو چکے ہیں اور وہاں بھی غریب اور امیر کے درمیان خلیج دن بدن بڑھ رہی ہے. اس کے ساتھ ساتھ ان ناانصافیوں کے خلاف عوامی احتجاج میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے. اہل حکم کے سر اوپر بجلی کڑکڑ کر رہی ہے اور محکموں کے پاؤں تلے دھرتی دھڑدھڑ دھڑک رہی ہے. بہت جلد ہمارے عظیم اور جنت نظیر سیارے سے اس گلے سڑے نظام کا وجود ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا.

مارکسزم ہر معاشرتی شے کو مادی نقطہء نظر سے دیکھتا ہے. اس لحاظ سے دنیا میں موجود تمام مذاہب گرجاگھرو‍ں، مندروں اور مسجدوں کی شکل میں اپنا مادی وجود رکھتے ہیں. اس لیے مارکسزم کے نظریے کی رو سے ان کا انکار ناممکن ہے.

میں ذاتی طور پر مولا علی اور ان کے ابوذر جیسے سوشلسٹ ساتھیوں سے عقیدت رکھتا ہوں. میرے مولا علی، جن کی مودت و محبت مجھے اپنے خاندان سے ملی ہے، 1400 برس پہلے اس دنیا میں تشریف لائے تھے. اس لحاظ سے وہ موجودہ رائج مارکسی سائنس کو تسلیم کرنے والے اشتراکی ہو ہی نہیں سکتے تھے. لیکن انہوں نے ہمیشہ ملوکیت اور عرب کے سرداری نظام کے خلاف جدوجہد کی اور اپنے بچوں اور پیروکاروں کو بھی اس کا درس دیا. ہماری تاریخ اور تہذیب ہمارے جسم و جان اور ہماری روح کا حصہ ہے. ہم کس بھی جدید نظریے کو اپنا کر اپنے ساتھ جڑے عقائد کو کاٹ کر نہیں پھینک سکتے، بالخصوص جب کہ وہ جدید نظریہ خود بھی ایسا کرنے کا سبق نہ دیتا ہو. ہمارے مذہب، عقائد اور رسوم و رواج سب ہماری زندگیوں کا جزو لازم ہیں. ہاں اگر کوئی ملا ان عقائد کو لے کر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جنگ میں ہمیں بلیک میل کرے گا اور سرمایہ داروں، جاگیرداروں، ظالموں اور اور جابرو‍ں کا ساتھ دے گا یا انہیں تحفظ دے گا تو اس سانپ کا سر وہیں کچل دیا جائے گا. میں اپنے کمیونسٹ دوستوں کا بےحد احسان مند ہوں کہ آپ نے مجھ جیسے علی کے ملنگ کو کمیونزم سکھایا. باقی آپ مجھے جو بھی کہیں، اپنے ساتھ رکھیں نہ رکھیں، میں اپنی پوری روح اور جسم کے ساتھ ایک مارکسسٹ ہوں.

میں بوذری ہوں، محمد کا نام لیوا ہوں
علی کا ماننے والا ہوں، اشتراکی ہو

علی شاذف

SHARE

LEAVE A REPLY