کون کام آئے گا, سانس کے اکھڑنے تک
امتحان لینا ہے ایڑیاں رگڑنے تک
جانتا ہوں یہ میں بھی, موت جیت جائے گی
ساتھ بس کھڑے رہنا, تیرگی سے لڑنے تک
روز ہی مرے بچے بس فریب کھاتے ہیں
صبح آنکھ کھلنے سے نیند کے جکڑنے تک
میں بھی اس قبیلے کا فرد ہوں کہ جس کے لوگ
انتظار کرتے ہیں قسمتیں بگڑنے تک
قسمتوں کے تارے توحوصلوں میں ہوتے ہیں
امتحان ہوتا, آسماں پہ جڑنے تک
اور بھی کئی مقتل راستے میں آئے تھے
مانگ کے اجڑنے سے, گود کے اجڑنے تک
عمر بیت جائے گی, داستان لکھنے میں
رات کی سیاہی سے صبح کو پکڑنے تک
(نقاش عابدی )













