احتجاج کے دوران جو کچھ دیکھا اور سُنا اُس نے دل کو بے چین کر دیا ۔ہم مسلمان ہیں الحمدُ للہ ۔لیکن ہم میں صبر نہیں ہے ۔ہمارے اندر وہ دانش نہیں ہے جو معاملات کو سمجھنے میں کام آتی ہے ۔ وہ فہم و فراست جو ہمارے بڑوں کا خاصہ ہونی چاہئے انتہائی معزرت کے ساتھ ہمیں نظر نہپیں آتی ۔ہم تلاش کرتے ہیں اپنے پیارے نبی کی سنتوں پر عمل کرنے والوں کو ۔ہم ڈھونڈھتے ہیں احکاماتِ خداوندی کی پیروی کرنے والوں کو انسان خطا کا پُتلا ہے اور ہم جس دور میں جی رہے ہیں اس میں فتنے پہلے سے کہیں زیادہ ہیں لیکن علم و شعور اور آگاہی کی بھی کمی نہیں ہے ۔ہم اپنے مولانا حضرات کی بہت عزت کرتے ہیں لیکن جب ہم انہیں تو تڑاک اور بد زبانی کرتے دیکھتے ہیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ نہ حکام کی توقیر ہے نہ حکومت کی نہ ریاست کا خیال ہے نہ عوام کا ۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اگر کوئی بات متنازعہ ہے تو عام لوگوں کی املاک جلا دو وہ جن کا اس معاملے میں دور دور کوئی ہاتھ نہیں ۔ لوگوں کو تکلیف دو کاروبار بند کر دو ملک کو سالوں پیچھے لے جاؤ ۔کہاں ہے ہماری سوچ کیا صرف ہم جزبات ہی کی آندھی میں بہتے رہینگے ۔ہم سب مسلمان بھی ہیں اور عاشقَ رسول صلی اللہُ علیہ وسلم بھی ۔ہم سب کی جانیں آپ پر قربان ۔کوئی بھی ایسا شخص ہمیں قبول نہیں جو ہمارے پیارے نبی کی شان میں ایک بھی بات ایسی کرے جو ہمیں پسند نہیں ۔لیکن قانون کو موقعہ دو ۔ انصاف شرط ہے ہر معاشرے کا ۔ہمارے ملک میں ہر مزہب اور عقیدے کے لوگ رہتے ہیں ہمیں تو بہت پھونک پھونک کر قدم اُٹھانا چاہئے ،کہ ہمارا مزہب اور ہمارے پیارے نبی ہمارا اللہ سب کا ہے ۔ہمارے نبی رحمتُ ا للعا لمین ہیں یہ ہم سب کا ایمان ہے ۔
ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ تین دن جن میں اسکول بند ہوئے کیونکہ بچوں کی حفاظت ضروری تھی ۔ مریض اسپتال نہ جاسکے ۔سبزیاں خراب ہو گئیں ۔دوکانوں میں مال سپلائی نہیں ہو سکا ۔لوگ گھروں سے نکل نہیں سکے روز کی دھاڑی لگانے والوں کے گھروں میں فاقے ہوئے ۔ اُس وقت تو دل خون کے آنسو رویا جب ایک چھوٹا بچہ اپنے کیلے بچانے کے لئے اُن بڑوں کے نرغے میں پھنسا جو ہنس ہنس کر اُس کے کیلے مفت میں کھا رہے تھے اور وہ معصوم اپنے گدھے کو ان پڑھے لکھے جاہل گد ھوں سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ہم کیسے کلمہ گو ہیں ہم جن کے نام پر نکلے کیا یہ وہ سب کچھ تھا جو ہونا چاہئے تھا ۔احتجاج حق ہے اور رہے گا لیکن پُر امن احتجاج مخالفت ضرور ہونی چاہئے لیکن جائز مخالفت ہم کب تک ان چکروں میں اپنے ملک اور اسلام کو نشانہ بناتے رہینگے ۔
ہمارا سوال ہے کہ ان تین دنوں میں کسی بڑے گھر میں کھانے پینے کی کمی ہوئی کسی بڑے گھر میں فاقہ ہوا ؟ کسی مولوی کے گھر کوئی کھانے پینے کی کمی ہوئی کسی ملا کے گھر فاقہ ہوا ۔شاید نہیں تو ان معصوموں اکا کیا قصور تھا جنہوں نے کچھ نپہیں کیا ۔کیا ہم کبھی اپنے رویوں پر غور کرینگے ؟ کیا کبھی ہم واقعئی دوسروں کو جینے کا حق دے سکینگے یا اپنی سوچ اور اپنی رائے سے دوسروں کو صرف اور صرف تکلیف ہی دیتے رہینگے ۔ہر کوئی چاہتا ہے کہ حکومت اُس کے حساب سے چلے یہ کیسے ممکن ہے ۔ٹی وی پر پروگرام جس طرح کئے جاتے ہیں وہ اتنا دماغی خلاجان پیدا کرتے ہیں کہ اچھا خاصہ پڑھا لکھا شخص بھیہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کدہر جا رہے ہیں ۔لگتا ہے ہم ڈھلان پر کھڑے ہیں کہ زرا سا پھسلے تو نیچے جا گرینگے ۔ہمارے تجزیہ نگار ہر وقت یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہین کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بس حکومت کے کرنے کا کیام ہے ۔میرا سوال ہے کہ کیا آپ تھنک ٹینکس کی کوئی زمے داری نہین کہ آپ بجائے تیل چھڑکنے کے کچھ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں عوام کو تحریک دیں کہ زمے داری سب کی ہے ۔
قانون سب کے لئےہے اںصاف اس ملک کے ہر شہری کا حق ہے ۔ہمیں تو یہ بھی نہیں لگتا کہ کسی نے بھی اس احتجاج سے پہلے فیصلے کو پڑھا ہوگا ۔ہماری تو انتہائی درد مندانہ گزارش ہے کہ اللہ کے واستے اب اس سوچ کو بھی بدل؛ لو کہ ہر بات پر بس سڑکیں ہی مقدر ہیں ۔ہر ملک میں احتجاج ہوتا ہے لیکن کہیں بھی توڑ پھوڑ اور گھیراؤ جلاؤ کی اجازت نہیں ہے نہ کہ ہم نے تو حد کر دی کہ لوگ کار میں موجود تھے اور اُسے آگ لگا دی گئی ۔یہ کیسی انسانیت ہے یہ کیسا احتجاج ہے کہ املاک اور جانوں سے کھیلا جائے ۔کیا ایک بھی موٹر سائیکل کسی مولانا کی تھی جو جلی ۔؟ ہماری دست بستہ گزارش ہے کہ بہت کھیل لئے اپنے ملک اور اسکی بقاء سے اب بس کرو ۔
قانون کو چلنے دو ۔انصاف ہونے دو فیصلوں پر بات ضرور کرو مگر افرا تفری نہ پھیلاؤ ۔یہ کچے زہن جو ابھی پندرہ بیس سال کے ہیں انہیں اس توڑ پھوڑ اور ھنگامے کا سبق نہ پڑھاؤ کہ آگے آنے والا وقت ان ہی کے ہاتھ میں ہوگا اور یہ جو کچھ ہمیں دیکھ کر کرینگے اُس میں ہمارا حصہ بھی ڈل جائیگا تو اپنی عاقبت کی بھی فکر کرو ۔ہماری دست بستہ گزارش ہے کہ ملک کو استحکام اور اسکی بقاء پر توجہ لازمی ہے ۔
حکومت کو چاہئے کہ جو جو لوگ ان ھنگاموں میں املاک کی تباہی اور لوگوں کی تکلیف کے زمے دار ہیں اُنہیں قرار واقعئی سزا دیں تاکہ آئندہ کوئی احتجاج کی آڑ میں لوگوں کو تکلیف نہ پہنچا سکے ۔
کوئی بھی ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا مسلمان بھی اپنے پیارے نبی کی حُرمت اور ناموس پر قربان ہونے کو پر وقت تیہار ہے لیکن دیکھو تو کہ ہوا کیا ہے ۔ہم سب اللہ کے حضور توبہ کے طالب ہیں کہ ہمیں ایسے فسادات اور پریشانیوں سے محفوظ رکھے ۔ہمارے ملک کو انتشار پھیلانے والوں سے بچائے آمین
ان تین دنوں میں کسی مولوی کے گھر فاقہ ہوا ؟عالم آرا
928
0












