مُلّا فری جمہوریت چاہیے، سلیم کاوش

0
905

ملا کے اشتراک کے بغیر ہمیں صرف ایوب خان کا مارشل لاء “خالص” ملا۔

۔۔۔۔1971 سےے آج تک ہمیں مارشل لا خالص ملا نہ جمہوریت خالص ملی

بسم اللہ پڑھنے کے باوجود جرم کرنا اور استغفراللہ کہہ کر جرم سے انکار کرنے کا ماحول ملا۔

ملائیت جمہوریت کیلیے ایک کثافت بن کر رہ گئی ہے۔
لیکن اکثر اوقات کچھ عاقبت نا اندیش ملاؤں نے ملائیت کو جمہوریت کے دعویداروں کیلیے ایک کرائے کی داشتہ بنا دیا۔
پیسہ پھینک تماشا دیکھ کا ماحول بنا دیا ۔

مذہب اور دین کا وقار جمہوریت میں قائم رہ سکتا ہے اگر مذہب اور جمہوریت کو کھیل نہ بنایا جائے۔

جتنے بھی مولوی پاکستان کے نام نہاد جمہوری نظام کی گندگی ختم کرنے کیلیے اس نظام میں داخل ہوئے وہ اس نظام کو مزید گندہ کرنے کا باعث بنے ۔

کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا۔

پارلیمان کو کرپشن اور دیگر برائیوں سے پاک کرنے کی بجائے اسے مزید ناپاک کرنے کا باعث بنے۔

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھرے نہیں حادثہ دیکھ کر

پاکستانی مسلمانوں کیلیے یہ المیہ ثابت ہوا کہ سیاست میں ملائیت شامل ہونے سے ایک متجنس نظام ملا۔

سیاستدانوں اور ملاؤں کی رسہ کشی میں اب ملاؤں کی گالی اور سیاستدانوں کی گولی کی جائز گنجائش نظام میں پیدا کر دی گئی ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور بطور دین ایک مکمل سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام دیتا ہے۔

جب ہمارے لوگ اسلام کو سمجھے بغیر اسلامی سزاؤں پر اعتراض کرتے ہیں اور ملزموں اور مجرموں کے تحفظ کیلیے متجنس نظام کا سہارا لیتے ہیں تو ہمارے مسائل کا حل تو صرف اسلامی نظام میں ہے
بصورت دیگر ملکی انتظام کیلیے مکمل مغربی جمہوری نظام مناسب ہے ۔
جہاں پر مذہبی آزادی ہو۔
مذہبی منافرت پھیلانے والے کو سخت سزا ہو۔

مغربی جمہوریت کے ساتھ خالص اسلامی نظام کی خواہش ایسے ہی ہے جیسے گرل فرینڈ کے ناجائز رشتے کے ساتھ حلال کھانے کا آرڈر دے کر آخر میں الحمد للہ کہہ دیا جائے۔

سلیم کاوش

SHARE

LEAVE A REPLY