امریکی ریاست کیلیفورنیا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ سے مرنے والوں کی تعداد 25 ہو گئی، مزید 14 لاشوں کو جنگل سے نکال لیا گیا، درجنوں افراد تا حال لاپتہ ہیں۔ حکام نے اسےکیلی فورنیا کی تاریخ کی بدترین آگ قرار دے دیا۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں لگنے والی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا، حکام کے مطابق آگ بجھانے میں ابھی تین ہفتے لگ سکتے ہیں، آگ سے کئی ہزار ایکڑ پر موجود درخت جل کر راکھ ہو گئے۔
آگ کے شعلوں نے شوبز ستاروں کے رہائشی علاقے اگورا ہلز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، کئی اداکاروں کے مہنگے ترین گھر جل کر راکھ ہو گئے۔ آگ پھیلنے سے پہلے علاقے کو خالی کرا لیا گیا تھا، مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ آگ جمعرات کو بوٹے کاؤنٹی میں پھیلنے لگی جس نے دیکھتے دیکھتے سب کچھ تباہ کر دیا، اس کے بعد جمعے کو ایک دوسری جگہ ساحلی ریزارٹ کے امیر علاقے میں آگ لگ گئی جو پھیل کر دگنی ہو چکی ہے۔
جن شہروں اور قصبوں کو خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے ان میں تھاؤزینڈ اوکس بھی ہے جہاں بدھ کو ایک مسلح شخص نے گولی مار کر 12 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
محکمہ موسمیات کے حکام نے کہا ہے کہ یہ خطرناک صورت حال اگلے ہفتے تک قائم رہے گی لیکن آگ بجھانے والے عملوں کا کہنا ہے وہ ہوا کی تیزی میں جز وقتی طور پر آنے والی کمی کا فائدہ اٹھا کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔ خیال رہے کہ ہوا کی وجہ سے شعلے بھڑک رہے ہیں۔
پیراڈائز میں لوگ اپنی کاروں کو چھوڑ کر پیدل ہی جان بچانے کے لیے نکل پڑے، رہائشیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا اور تقریباً سات ہزار گھر اور کاروباری مقامات اس آگ میں تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے اس آگ کو ریاست کی تاریخ کی سبب سے تباہ کن آگ کہا جا رہا ہے












