چنیوٹ میں شیعہ مسلک کی خاتون کا جنازہ پڑھنے پر مولوی خالد نے 40 دیہاتیوں کا نکاح دوبارہ پڑھا دیا۔مولوی خالد کا کہنا تھا کہ تم لوگ کافر ہو گئے ہو،اس لئیے دوبارہ کلمہ پڑھ کے نکاح کی تجدید کرواو۔تفصیلات کے مطابق یہ حیران کن واقعہ چنیوٹ میں پیش آیا جہاں زرینہ بی بی نامی خاتون انتقال کر گئی ،جس پر خاتون کے لواحقین نے مولوی خالد کو درخواست کی کہ اس خاتون کا جنازہ پڑھا دیا جائے تاہم مولوی نے شیعہ مسلک سے تعلق
رکھنے والی خاتون کا جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا ، جس پر علاقہ میں موجود ایک اور قاری نے اس خاتون کا جنازہ پڑھا یا۔جس پر مولوی خالد نے فتویٰ دیا کہ جن جن لوگوں نے زرینہ بی بی کا جنازہ پڑھا ہے وہ کافر ہو گئے ہیں۔انکو چاہیے کہ وہ دوبارہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوں اور تجدید نکاح کروائیں ۔بعد ازاں مولوی خالد نے 40 افراد کو دوبارہ کلمہ پڑھوایا اور ان کے نکاح کی تجدید کروائی اور از سر نو جنازہ پڑھایا۔اس موقع پولیس کو اس عمل کی اطلاع ملی تو اس نے کاروائی کرتے ہوئے فتویٰ دینے والے مولوی اور اس کے ساتھ موجود 10دیہاتیوں کو گرفتار کر لیا۔اس موقع پر دیہاتیوں کا موقف تھا کہ مولوی خالد نے ہم سے کہا کہ ہم کافر

ہیں اور ہمیں کلمہ پڑھ کر دوبارہ مسلمان ہونا ہے اور نکاح بھی دوبارہ کروانے ہیں ۔اس موقع پر جنازہ پڑھنے والے قاری نے کہا کہ میں نے خاتون کا جنازہ پڑھایا جس پر مولوی خالد نے ہمارے کافر ہو کا فتویٰ دیا۔

پڑھوانے والے چک نمبر 137 کے امام مسجد سید کاشف عمران شاہ کا کہنا ہے کہ ’میں نے یہ نماز جنازہ پڑھوائی اور اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ جو مولانا میاں خالد بشیر نے کہا ہے کہ نکاح ٹوٹ گیا ہے اور دوبارہ نکاح کروا کر رہے ہیں اس طرح سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔‘

واضح رہے کہ ملک میں قومی ایکشن پلان میں اشتعال انگیز تقاریر کرنے، لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال کو روکنے اور نفرت پر مبنی مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی لازمی قرار دی گئی ہے۔

جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 153 اے اور بی کے تحت اگر کوئی شخص اپنے زبان و بیان سے یا کسی حرکت سے عدم برداشت، دشمنی، مختلف مذاہب اور نسلوں کے درمیان نفرت کو ہوا دے یا ان کی عبادت گاہ، رہائش، کمیونٹی کو زبان یا کسی بھی دوسرے طریقے سے نقصان پہنچائے تو وہ قابلِ سزا جرم کا مرتکب قرار پائے گا۔

اسی معاملے پر علاقے کے لوگوں کے مطابق مقامی افراد پولیس کے پاس درخواست بھی لے کر گئے تھے۔ بی بی سی کے پاس موجود دستاویز کے مطابق پولیس نے ابتدائی درخواست کے بعد مولوی سمیت بعض لوگوں کو گرفتار بھی کیا۔

فریقین پولیس کی موجودگی میں آپس میں گتھم گتھا ہوئے تھے جس کے بعد انہیں نقصِ امن کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا تاہم اشتعال انگیزی پھیلانے اور نکاح کا معاملہ پیچھے ہی رہ گیا اور پھر علاقہ مجسٹریٹ نے لڑنے کی وجہ کا تعین نہ ہونے کے باعث یہ مقدمہ ہی خارج کر دیا۔

ڈی پی او چنیوٹ کے مطابق ان کے پاس ایسی کوئی درخواست نہیں آئی۔ انھوں نے کہا کہ وہ ان خبروں کی تصدیق کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اشتعال انگیز یا نفرت آمیز بیانات جیسے معاملات کو انسدادِ دہشت گردی کا محکمہ یعنی سی ٹی ڈی دیکھتا ہے۔’

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ‘اگر کسی گاؤں میں تیس چالیس افراد نے دوبارہ نکاح پڑھوایا ہے تو کیا یہ جرم ہے؟ ہمارے نوٹس میں یہ واقعہ نہیں، تاہم میں اس کو ضرور چیک کروں گا۔’

کچھ عرصہ پہلے ایسا ہی واقعہ فیصل آباد میں نھی پیش آیا تھا

SHARE

1 COMMENT

  1. in jesy jahil mula hi hein jin k sabab islam ki taleemat ko manfi andaz mein peish kea ja raha,
    Sad haeif k in jesy jahil molvion ka taleemi mayar na hony k barabar hy, yehi wajha hy jahalat ki tarveej sy ibham ko deen ka hisa bana dea gya, aj ki ic khabar ny tasdeeq kr di hy k jahalat ka hal abhi tk nhi kea ja saka,

LEAVE A REPLY