ہمیں ہر روز عید میلاد النبی منانا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
حضور پاک سرور کائینات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” کائینات میں یہ دنیا بس اتنی سی ہے جیسے کسی جنگل میں ایک انگوٹھی (چھلا) ہو” یعنی اتنی سی جگہ پر ہماری دنیا قائم ہے یعنی ریگ زاروں میں ایک زرہ ہے ۔ اس قید خانے میں انسان خود کو کتنا معزز سمجھتا ہے ۔۔ خود کو عقل کل سمجھ لیتا ہے ۔۔ اور ایسا سمجھنے والا ” تکبر” کرتا ہے ۔ تکبر ہر انسان کے منفی جذبات میں ہوتا ہے اور اسی تکبر سے بچنے اور نجات کی سبیل کرنے کو بار بار اللہ پاک نے قران مجید میں اور حضور پاک نے احادیث میں بار بار تلقین فرمائی ہے ۔۔۔۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جو انسان تکبر کا ارتقاب کرتے ہیں ان سے ” مقام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ” اوجھل ہو جاتا ہے ۔
یعنی تکبر کرنے والا دائرہ اسلام سے ہی باہر ہو جاتا ہے کیونکہ اللہ پاک نے خود فرمایا کہ دین اسلام کے دو بنیادی اصول ہیں جن کو ماننا ہرفرد پر لاذم ہے سو جو جو مانے گا وہ دائرہ اسلام میں آجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ پہلی بات خدائے واحد کی وحدانیت کا اقرار ۔۔۔یعنی اس کی ربویت کا مکمل شعور اور اس کی صفات سے آگہی مطلوب ہے ۔۔ دوسری بات ” محبت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ” کو ہر چیز ہر رشتے پرترجیع دینا ۔۔۔۔
عید میلاد النبی کو منانا یعنی خوشی کرنا ایک ادنی سا انداز و اظہار محبت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔
اب سوال یہ ہے یہ خوشی کیسے منائی جائے ؟
یہاں آکر اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ خوشی کیسے منائی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
میں عید میلاد النبی کو “ عید “ کی طرح منانا چاہونگی اور حضور پاک ص پر اٹھتے بیٹھتے درود بھیجنا چاہونگی ۔۔ اپنے گھر ، بہن بھایئوں کے درمیان ۔۔اپنے دوستوں کے درمیان حضور پاک صلیہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پاک پر جتنی باتیں یاد آیئں گی کرنا چاہونگی ۔۔ اللہ پاک کا کڑوڑوں بار شکر ادا کرونگی کہ اس نے نبی پاک کو ہماری بخشش کا وسیلہ بنایا ۔۔۔ ہیں ایسا عظیم راہنما عطا کیا جو ہم سے خفا نہیں ہوتے بلکہ خیر ہی خیر کی باتیں کرتے ہیں ۔۔ آسانیاں عطا کرتے ہیں ۔۔ اللہ پاک سے ہمارے لئے درگزر اور معافی کی برات مانگتے ہیں ۔۔۔ اور بہت کچھ اپنے نبی پاک کے بارے میں جاننا چاہوں گی جو ابھی تک بصارت و سماعت سے محروم رہا ۔۔۔۔ (ان شاءاللہ )
جو سچ پوچھئے تو ہمیں ہر روز عید میلاد النبی منانا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کچھ احباب اسے بدعت سمجھتے ہیں ۔۔گناہ مانتے ہیں تو ہمیں ان کا احترام ہے ۔۔۔ اور اسی طرح ہم ماننے والے بھی عزت و احترام چاہتے ہیں ۔۔ ایسے ہی مواقعوں کے لئے قران پاک میں ہدایت ہے کہ کہہ دو ” تم کو تمہاری راہ اور مجھ کو میری راہ “ ۔۔۔۔۔ بحث اور ضد کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتی ۔۔۔۔!
ڈاکٹر نگہت نسیم













