ایران نے امریکا کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کیمیائی ہتھیاروں کے عالمی ادارے کے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘امریکا، ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے کی عادت بنا چکا ہے جس کو سختی سے رد کیا جاتا ہے’۔

ایران نے واضح کیا کہ ‘اس طرح کے الزامات ایرانی قوم سے دشمنی ہے اور اپنی وعدہ خلافیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے’۔

امریکی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ الزامات ‘صہیونی حکومت کی کیمائی ہتھیاروں کی حمایت جاری رکھنے اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش ہے’۔

خیال رہے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے رواں سال کے اوائل میں ایران سے 2015 میں ہونے والے معاہدے کی تنسیخ کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی سے متعلق رکھتے تازہ الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

امریکا نے گزشتہ روز ایران کے کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کیمیائی ہتھیارروں کے حوالے سے عالمی ادارے کو مطلع کرنے میں ناکام رہا ہے جو عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کی عالمی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے لیے امریکی نمائندے کینتھ وارڈ نے کہا تھا کہ ایران جارحانہ مقاصد کے لیے قاتل ایجنٹس کی تلاش میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے وعدہ کیا تھا کہ ان کا وفد او پی سی ڈبلیو کو تفصیلی جواب دے گا لیکن امریکا پر الزام عائد کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY