ہر سال ایک نیا صوبیدار آتا۔۔۔پرانا چلا جاتا۔ اور وہ جوڑا صوبیداروں کے تبادلہ سے سالوں کا حساب رکھتا۔ جب چھٹا صوبیدار آیا تو انھوں نے حساب لگایا ان کا بچہ پانچ سال کا ہو چکا تھا۔
ان کا بچہ بے حد چلبلا اور متحرک تھا۔ فوجی راشن پر پل کر وہ اپنی عمر سے تھوڑا بڑا دکھتا تھا۔ وہ سارا سارا دن کھیلتا رہتا۔۔۔اپنی ہی کھیلیں ایجاد کرتا اور کھیلتا رہتا۔ یا پھر قلعہ کے قریب بڑی چھوٹی چٹانوں پر کودتا رہتا۔۔۔یا پھر دوران گشت فوجیوں کا پیچھا کرتا رہتا۔ شام ہونے سے تھوڑا پہلے وہ تھک جاتا اور ماں کی گود گھس کر سو جاتا۔ اسے شام کے کھانے کے وقت ہی جگایا جاتا۔
ایک شام، جب وہ چشموں سے پانی لینے لے کر واپس آیا تو بچہ ماں کی گود میں سو رہا تھا۔ وہ اٹھنے لگی تو وہ بول اٹھا۔” ایسے ہی کچھ دیر اور بیٹھی رہو۔ مجھے تمھیں بچے کو گود میں لے کر اس طرح بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ اس طرح مجھے تمھارے گرد امن اور سکون کی فضا نظر آتی ہے۔ میں یہ بات سوچ کر پریشان ہو جاتا ہوں کہ یہ بڑا ہو کر کیا بنے گا؟” عورت نے کچھ دیر سوچا اور بولی۔ ” یہ اونٹوں کا گلہ بان بنے گا۔۔۔بہت خوبصورت اور شریف انسان، بلکل تمھارے جیسا بنے گا۔” مرد نے جواب دیا۔”اور اپنے سردار کی اور اپنے مالک کی بیوی کے عشق میں گرفتار ھو جاے گا۔” عورت بولی۔” ہاں اور محبت کر کے اسے بھگا لے جاے گا۔” مرد نے ترنت گہرے دکھ میں بھیگی آواز میں جواب دیا۔ ” ہاں ضرور بھگا لے جاے گا لیکن صرف دکھوں، غموں اور مستقل خوف میں مبتلا رکھنے کے لئے۔” عورت بولی۔ “ایسا مت بولو! ان باتوں کو نہ یاد کرو۔۔۔مت دہراو۔”
سویا ہوا لڑکا یک دم اٹھ بیٹھا اور ہنستے ہوے بولا۔” میں سب سن رہا تھا۔ میں سردار بنوں گا۔ میرے پاس اونٹ گھوڑے ہونگے۔ آپ کے دوستوں کی دعوتیں کروں گا اور دشمنوں کو شکست دوں گا۔۔۔جہاں بھی وہ ہونگے۔” عورت نے آہستگی سے لڑکے کو گود سے پرے کر دیا اور شام کا کھانا لگانے لگ گئی۔
سردیوں کی ایک صبح، اچانک ایک ناقہ سوار نمودار ہوا اور سیدھا فوجی پوسٹ کی طرف چلا گیا۔۔۔جبکہ میاں بیوی اپنے کمرے کے سامنے صحن میں بیٹھے ہوے تھے۔ اس کی آمد اتنی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ انھیں صورت حال کا ادراک کرکے چھپنے کا وقت ہی نہ ملا۔ اس لئے وہ خاموش بیٹھے رہے۔ اس اونٹ سوار نے فوجیوں سے کچھ بات چیت کی اور ان پر ایک بھی نظر ڈالے بنا جدھر سے آیا تھا ادھر ہی چلا گیا۔ تاھم، اس کے جاتے ہی وہ بھاگ کر اندر چلے گئے۔ پتہ نہیں کیوں انھیں کمرے کی یخ بستگی باہر کی نسبت زیادہ گرم محسوس ہوئی۔۔۔پناہ کا احساس!!!
تھوڑی دیر بعد ہی صوبیدار ان کے کمرے کے باہر آیا اور مرد کو باہر آنے کا کہا۔ اس نے بنا تمہید کہا۔” ابھی ابھی جو ناقہ سوار آیا تھا وہ سیاہ پاد قبیلے سے تھا (کالے پیروں والے۔۔۔مترجم) وہ تمھارے متعلق سوالات کر رہا تھا۔ اور تمھیں معلوم ہے اس نے کیا کہا ھو گا؟” اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ” اگر تم روانہ ہونا چاہو تو کینٹین سے جو چاھو لے لو۔ سپاہیوں نے بھی تمھارے واسطے کچھ سامان پیک کر دیا ہے۔۔۔۔اور سنو!!! اللہ کو منظور ھوا تو ھم پھر کسی دن ضرور ملیں گے۔”
وہ جوڑا اگلے دن الف صبح اپنے اونٹ پر سوار ہو کر وہاں سے کبھی واپس نہ آنے کے لئے روانہ ہو گیا۔ بچہ اس کے آگے جھولی میں تھا اور عورت پیچھے جم کر بیٹھی ہوئی تھی۔ ایک بار پھر سے وہی خوف کی بو ان کے نتھنوں میں سما گئی۔ عورت نے کوئی سوال نہ کئے۔ اس نے خود گرم کپڑے پینے اور بچے کو پہناے۔ چند بلکل ضروری اشیاء صرف کا ذخیرہ ساتھ رکھا۔ سالہا سال سے جمع ہو جانے والی اشیاء کو سلیقے سے کمرے کے ایک کونے میں ٹکا دیا۔
جہاں پاکستان، ایران اور افغانستان کی سرحدیں کا ملاپ ہوتا ہے، ٹھیک اس جگہ موسموں کی مار کھاے، بھربھرے ہوتے ہوے عجیب ہیت پہاڑوں کے درمیان لگ بھگ چالیس فوجیوں کی ٹکڑی پر مشتمل ایک فوجی پوسٹ تھی۔
ایسی پوسٹیں عموما دوری کی وجہ سے اداسی اور تنہائی کی فضا میں گھری رہتی ہیں۔ لیکن وہ پوسٹ تو تھی ہی بڑی ڈراونی۔ میلوں تک نہ کوئی سبزہ تھا نہ آبادی ماسواے چند جلے بھنے کھجور کے درختوں کے۔۔۔جو بیچارے ایک دوسرے پر جھکے تلخ دشت کی سختیاں جھیلتے رہتے۔۔۔اور پانی؟ شورزدہ چند پتھروں کے درمیان بوند بوند گر کر چھوٹی سی تلوٹی بننے والا چشمہ کہلواتا تھا، اور وہ بھی اکثر خشک پڑ جاتا۔۔۔یہ سب وہاں پر موسمی سختیوں کا غماز تھا۔
فطرت نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا تھا۔ اس زمین میں فطرت نے “باد صد و بست روز” یعنی ایک سو بیس دن کی ہواے خونخوار بھی مسلط کی ہوئی تھی۔ یہ قاتل ہوا سردیوں کے پورے چار ماہ لگاتار چلا کرتی تھی۔ اگر انسان اس ہوا میں گھر جاتے تو انھیں ریت کے ساتھ اٹھنے والے شورزدگی کے بگولوں میں سانس لینا دو بھر ہو جاتا۔ اس لئے یہ قدرتی امر تھا کہ ایسی ویران تنہائی میں زیادہ عرصہ گزارنے پر کوئی بھی انسان اپنا ذہنی توازن کھو سکتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہاں ایک رواجی معمول بنا دیا گیا تھا کہ اس جگہ کوئی بھی فوجی جوان دو سال نہیں رہے گا تاکہ وہ باد سموم کو دو بار نہ دیکھ سکے۔

ایسے ہی ویران خاموشی کے ایام میں پہاڑوں کی پر پیچ وادیوں سے ایک مرد اور ایک عورت کا جوڑا نمودار ہوا۔ ہوا تین دن سے وحشتناک غضب میں چل رہی تھی اور اگر اچانک اس ہوا کی طاقت نہ ٹوٹتی تو وہ مرد اور عورت کبھی بھی اس فوجی پوسٹ تک نہ پہنچ سکتے۔۔۔اور نہ ہی میلوں تک کسی اور پانی کے چشمے تک! بلاشبہ انھوں نے رات ہونے سے پہلے کا فائدہ اٹھایا تھا۔۔۔ایسی رات جس میں شور زدہ صحرائی ریت کا ناقابل عبور پردہ کبھی بھی انھیں چند انجر پنجر کھجوروں کے قریب اس بد وضع فوجی قلعے تک نہ پہنچنے دیتا۔
جونہی ہوا رکی تھی اور آسمان صاف ہوا تھا تو قلعے کے کمروں کے اندر سکڑے پڑے فوجی بھی باہر آ گئے تھے۔ وہ لگاتار تین راتیں اور تین دن بدبودار کمروں کے اندر ٹھنسے رہنے کی وجہ سے بیمار سے اور دل شکن سے لگ رہے تھے۔ اب اپنی جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے بھر بھر کے ہوا بھی اندر کھینچ رہے تھے۔۔۔انھیں مسموم ہوا کے دوبارہ چھڑ جانے سے پہلے پہلے زیادہ سے زیادہ تازہ ہوا کھانی تھی۔
ان فوجیوں میں سے کچھ نے دو انسانی ہیولوں کو بہت دور سے ہی دیکھ لیا تھا، جو اپنے اونٹ کے ساتھ تھوڑے جھجھکتے رکتے قلعے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جوں جوں وہ قریب ہو رہے تھے۔۔۔لگ رہا تھا جیسے دائیں بائیں لڑ کھڑا رہے ہوں۔ عورت اور مرد کے لباس سیاہ تھے لیکن جہاں جہاں پسینہ آیا تھا وہاں وہاں سے لباس سفید پڑ چکے تھے۔۔۔اور باقی ماندہ لباس بھی سیاہ سے سلیٹی رنگ کے ہو چکے تھے۔ حتاکہ مرد کی ٹوپی اور عورت کے لباس پر محبت سے جڑے گئے شیشے بھی ماند پڑ کر اپنی چمک کھو چکے تھے۔
عورت سر تا پا لباس میں ملبوس تھی لیکن قریب آنے پر اس کے سر پر بندھا کپڑا ڈھلک کر گلے میں گر گیا اور چہرہ نمایا ھو گیا۔ اس نے پوری قوت صرف کر کے اسے دوبارہ سر پر جمانے کی کوشش کی پر یوں لگتا تھا نقاہت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ وہ بمشکل وہاں کھڑے فوجیوں کی طرف قدم بہ قدم بڑھتی رہی۔
اس عورت کے چہرے سے نقاب ہٹ جانے کے بعد زیادہ تر فوجیوں نے اپنے رخ پھیر لئے لیکن وہ سب دیکھ چکے تھے وہ کوئی بھر پور عورت نہ تھی بلکہ بلکل ہی بچی سی تھی۔ اگر اس کے ساتھ مرد نہ ہوتا تو اس کی پوشاک اور سرخ پپوٹوں سے ساری کہانی عیاں ہو جاتی۔
وہ ابھی فوجیوں سے تھوڑی دور ہی تھے کہ مرد نے عورت کو رکنے کا اشارہ کیا اور خود فوجیوں کی طرف بڑھا۔۔۔قلعے کے صوبیدار کی طرف۔ صوبیدار لگاتار اس زنگ الودہ بندوق پر نظر رکھے ہوے تھا جو اسکے کندھے پر جھول رہی تھی۔ وہ کسی طور بھی صورت حال خراب نہیں ہونے دینا چاھتا تھا۔
قریب آنے پر اس کے بند گلے اور خون بہاتے ہونٹوں سے ایک زنگ الودہ آواز برآمد ہوئی”پانی۔ خدارا کچھ پانی دیجئیے اور ہماری جان بچائیے”۔ صوبیدار نے خاموشی سے ایک آدھ بھری بالٹی کی طرف اشارہ کر دیا۔ اس آدمی نے وہ بالٹی اٹھائی اور عورت کی طرف مڑا جو اب زمین پر نیم بے ہوش آڑی ترچھی لیٹی پڑی تھی۔
غلام حسین غازی
جاری ہے













