زینب امیرِ قافلہ ء کربلا بنی ۔ صفدر ھمدانی

0
1364

زندہ وفا کا نام ہے زینب کے نام سے
آگاہ اب بھی شام ہے زینب کے نام سے
مجلس کا اہتمام ہے زینب کے نام سے
یہ کربلا دوام ہے زینب کے نام سے

زینب کا ہر بیان ہے تفسیر کربلا
زینب کا امیتاز ہے تشہیرِ کربلا
(صفدر ھمدانی)

بنت علی تسلسلِ کرب و بلا بنی
انسانیت کے ننگے سروں کی ردا بنی
زینب امیرِ قافلہ ء کربلا بنی
دربارِ شام میں وہ علی کی صدا بنی

دشمن سماعتوں میں زہر گھولتے رہے
زینب کے بازؤں کے رسن بولتے رہے
(صفدر ھمدانی)

آیات میں جوں آیہء تطہیر ھے بلند
ایسے بلند بھائی سے ھمشیر ھے بلند
ذینب تری دعا کی یہ تاثیر ھے کہ آج
قریہ بہ قریہ پرچم شبیر ھے بلند
(صفدر ھمدانی)

SHARE

LEAVE A REPLY