زندہ وفا کا نام ہے زینب کے نام سے
آگاہ اب بھی شام ہے زینب کے نام سے
مجلس کا اہتمام ہے زینب کے نام سے
یہ کربلا دوام ہے زینب کے نام سے
زینب کا ہر بیان ہے تفسیر کربلا
زینب کا امیتاز ہے تشہیرِ کربلا
(صفدر ھمدانی)
بنت علی تسلسلِ کرب و بلا بنی
انسانیت کے ننگے سروں کی ردا بنی
زینب امیرِ قافلہ ء کربلا بنی
دربارِ شام میں وہ علی کی صدا بنی
دشمن سماعتوں میں زہر گھولتے رہے
زینب کے بازؤں کے رسن بولتے رہے
(صفدر ھمدانی)
آیات میں جوں آیہء تطہیر ھے بلند
ایسے بلند بھائی سے ھمشیر ھے بلند
ذینب تری دعا کی یہ تاثیر ھے کہ آج
قریہ بہ قریہ پرچم شبیر ھے بلند
(صفدر ھمدانی)













