توانائی شعبے کے قرضے اتارنے کیلئے اثاثے گروی رکھنا پڑ گئے

0
838

حکومت کو توانائی کے شعبے کے 1300 ارب روپے کے گردشی قرضے اتارنے کیلئے اثاثے گروی رکھنا پڑ گئے، بھاری قرضے کو اتارنے کیلئے کمرشل بینکوں سے مزید قرضے لئے جائیں گے۔

وفاقی حکومت کا گردشی قرضوں سے نمٹنے کیلئے انوکھا منصوبہ، بجلی کی تقسیم کار اور پیداواری کمپنیوں کے اثاثے گروی رکھ کر 200 ارب روپے حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

پاور ڈویژن کی دستاویز کے مطابق کمرشل بینکوں سے ڈسکوز اور جنیکوز کے اثاثوں کے بدلے 100 سے 200 ارب روپے تک حاصل کئے جائیں گے جن سے گردشی قرضوں کی ادائیگی کی جائے گی۔

حکومت نے بینکوں سے 36 ارب روپے کا انتظام کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق گردشی قرضے ریکارڈ 1300 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

حکومت کے پہلے سو روز مکمل ہونے پر پاور ڈویژن نے اپنی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 100 روز میں بجلی چوری کے 6880 واقعات سامنے آئے، بجلی چوروں کے خلاف 1441 مقدمات درج کیے گئے جبکہ1088 بجلی چوروں کو گرفتار کیا گیا۔

پاور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق رپورٹ پنجاب میں سب سے زیادہ 887 اور خیبر پختونخوا میں 201 بجلی چوروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بجلی چوری کے الزام میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انسداد بجلی چوری ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا۔

رپوٹ کے مطابق 100 روز میں لائن لاسز میں 1 اعشاریہ 5 فیصد کمی واقع ہوئی، بجلی تقسیم کمپینوں کی ریکوری میں 1 فیصد اضافہ ہوا۔ لیسکو اور آئیسکو میں سمارٹ میٹرنگ کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سمارٹ میٹرنگ منصوبے کے لیے 40 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم ڈیلیوری یونٹ کو توانائی کے شعبہ سے متعلق 4777 شکایات موصول ہوئیں۔ توانائی کے شعبہ سے متعلق 4358 شکایات کا ازالہ کیا گیا۔

کسٹمر کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے 82189 شکایات موصول ہوئیں، رپورٹ کسٹمر کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے موصول 81174 شکایات کا ازالہ کیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY