سابق وزیرریلوے اور مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ احتساب کے نام پر انتقام نہ رکا تو یہ سب لے ڈوبے گا۔

پیراگون اسکینڈل میں ضمانت میں توسیع نہ ہونے پر گرفتار ہونے والے خواجہ سعد رفیق پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کی۔

ایک صحافی نے سعد رفیق سے سوال کیا کہ اسپیکر نے آپ کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے، کیا آپ ان کا شکریہ ادا کریں گے؟

خواجہ سعد رفیق نے انہیں جواب دیا کہ 6 دن ضائع کرنے کے بعد پروڈکشن آرڈرز جاری کیے گئے، اپنے لیے آواز اٹھانے پر اپوزیشن جماعتوں کا شکر گزار ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیب کا کالا قانون لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرانے کے لیے بنایا گیا تھا، احتساب کےنام پر انتقام نہ رکا تو یہ سب لے ڈوبے گا۔

خواجہ سعد رفیق کا یہ بھی کہناہے کہ نیب کے کالے قانون نے معیشت، معاشرت، سیاست اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اپنی گرفتاری کے بعد پہلی بار قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئےہیں۔

گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے پر سعد رفیق کو لاہور سے پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد لایا گیا اور پارلیمنٹ لاجز میں ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا ۔

سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعدنیب نے ان کاراہداری ریمانڈ بھی حاصل کر لیا تھا، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خواجہ سعد رفیق کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے طلب کیا ہے۔

اسپیکر اسد قیصر نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں شرکت کےلیے سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر قواعد 2007ء کے قاعدہ 108 کے تحت جاری کئے، قاعدہ 108 کے تحت اسپیکر کسی بھی زیر حراست رکن اسمبلی کو طلب کر سکتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY