خان صاحب سبکو ریفریشر کورس کی ضرورت ہے۔ شمس جیلانی

0
107

ساڑھے چودہ سو سال گزرچکے ہیں، اور عملی طور پر اسلامی ریاست آج کہیں موجود نہیں ہے؟ جبکہ تمام دنیا کے مسلمان بھول بھی چکے ہیں کہ کیا خوب تھا ور کیاناخوب ہے؟ دوسرے انکااب یہ مسئلہ بھی نہیں ہے ؟ لیکن پاکستانیوں کو ہر کچھ سالوں کے بعد یہ یاد دلانا پڑتا ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا ۔شروع میں تو اسی سے حکمرانوں کا کام چلتا رہا کہ کہ علما ء جب مطالبہ کرتے توانہیں یہ کہہ کر سرکاری حلقے چپ کرا دیا کرتے تھے کہ مولانا ! پہلے بتائیں تو سہی کہ کونسا اسلام نافذ کریں؟اور وہ چپ ہوکر چلے جاتے ؟آخر تنگ آکرانہوں نے اس کا حل تلاش کرنا شروع کیا اور مختلف مکاتیبِ فکر کے 51 علما ء ایک اسلام پر جمع ہوگئے اور اس کو قراردادِمقاصد کانام دیکر دستور ساز اسمبلی میں وزیر اعظم کے حضور پیش کردیا، اتفاق سے وہ شیلف میں رکھ کر بھول گئے ۔ مگر شیخ الاسلام حضرت مولاناشبیر احمد عثمانی ؒ نے انہیں یاد دلانا نہیں چھوڑا آخرا سی حسرت میں کہ وہ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے نافذ ہوتا دیکھلیں دونوں ہی دنیا سے چلے گئے اور بعد میں دستور ساز اسمبلی بھی چلی گئی؟ مگر اس کے بعد جو بھی آیا وہ یہ ہی نعرہ لگاتا ہوا آیا کہ جانے والوں نے تو کچھ نہیں کیا،مگر میں اسلامی نظام قائم کرونگا؟ لیکن وہ کیا کسی نے بھی نہیں؟ کچھ انکی مجبوریاں رہی ہونگی، ویسےاسلامی جمہوریہ میں ہر بات عوام کو بتا نے ضرورت نہیں ہو تی ہے۔ کاروانِ سیاست چلتا رہا حتیٰ کہ جناب ضیا ء الحق صاحب کا دور آگیا اور وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن کر آگئے؟ا نہیں جب اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ یہ نعرہ کہ “میں“ اسلام لاؤنگا لیڈروں کے غلط استعمال کی وجہ سے اپنی مقبولیت کھو بیٹھا ہے؟ تو انہیں دوسرے نعرے کی تلاش لاحق ہوئی؟
خدا کا کرنا یہ ہواکہ قرارداد مقاصد انہیں کسی شیلف میں رکھی ہوئی نظر آگئی ، اورانہوں نے اس کی روشنی میں قوم کو نیا نعرہ دیا کہ اور تو صرف باتیں کر تے رہے اور چلے گئے، مگر اس کو نافذ کر کے دکھاؤنگا؟ ایک قانون حدود آرڈینس کے نام سے نافذ بھی کردیا مگر وہ بھی بعد میں کسی مجبوری کا شکار ہو گئے اور گیارہ سال تک وہ حکمراں رہے مگر وہ وہیں رکھا رہا جہاں پہلے رکھا تھا؟
اب نیا خون بہت عرصہ کے بعد عمران خان کی شکل میں آیا ہے اور انہوں نے اپنے پیشروؤں کی پرانے نعروں میں پھر نیا نعرہ لگایا اور وہ ہے“ میں مدینہ جیسی ریاست پاکستان کو بنا کر دکھاؤں گا اور سب کا احتساب بھی کرونگا “ مگر مجبوریاں ان کا بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہیں؟ مسئلہ و ہی کہ وہ دنیا میں کہیں بھی نافذ نہیں ہے جس کو دیکھ وہ نافذ کردیں؟ دوسری طرف مدینہ جیسی مشینری بھی پاکستان میں موجود نہیں ہے جو حضور(ص) نے مدنی ریاست کو چلانے کے لیے اپنی بے مثال اکملیت کی بنا پر صحابہ کرام (رض) کا تزکیہ نفس کر کے پہلے سے مدینہ منورہ کے لیے فراہم کرلی تھی؟
لہذا عمران خان کے ساتھیوں اکثریت قدم قدم پر کنفیوژد ہوجاتی ہے کہ بندوں کو خوش کریں، مفاد پرستوں کو خوش کریں یا بیرونی طاقتوں کو خوش کریں؟ جبکہ مدنی مسلمانوں کو صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کو خوش کرنا مقصود ہوتا تھا۔اور یہ ہی انکی اولین تر جیح بھی؟ حضور (ص) نے صرف چند سالوں میں مدنی ریاست بنا کر اسے مضبوط کردیا، جبکہ انکا (ص)بقیہ کام ان کے جانشینوں (رض) نے ان کے اسوہ حسنہ(رض) روشنی میں آگے بڑھایا؟ ہم اسے اٹھاکر دیکھتے ہی نہیں ہیں۔ اور چلنا چاہتے ہیں ان کے اسوہ حسنہ(ص) پر جبکہ انکا دربار ایسا تھا کہ وہاں سے عالم ،فاضل اور جا ہل سب ہی مطمعن ہوکر جا تے تھے۔ اگر کوئی بدو آکر کہتا میں تو جاہل آدمی ہوں ،اوراتنا یاد بھی نہیں رکھ سکتا ہوں کیونکہ میری یادداشت اتنی اچھی نہیں ہے مجھے صرف چند باتیں بتائیے جو میں یاد رکھ سکوں۔ حضور (ص) اس کو چند باتیں ہی بتا کر اور مطمعن کر کے واپس لوٹا دیتے تھے کہ“ بس تم یہ کرلو اور میں تمہاری جنت کاضامن ہو “ میں اس کی تفصیل میں اس لیئے نہیں گیا کہ وہاں (ص) سے ہر ایک کو اس کی صلاحیت دیکھ کر جواب عطا ہو جاتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ علم کا خزانہ تھے۔ جو کہ ہمارے لیے ورثہ میں قرآن اور اپنے اسوہ حسنہ (ص) کی شکل میں چھوڑ گیئے ہیں، کہ ان میں سےصرف ایک چھوٹی سی سورت “والعصر“ دین کے طالب کو اتنا علم فراہم کردیتی ہے جس کے بارے میں امام شافعیؒ نے فرمایا کہ اگر “ اللہ سبحانہ تعالیٰ اس اکیلی صورت کو بھی اتار دیتے تو یہ کافی تھی۔ اس میں کیا ہے !آئیے دیکھتے ہیں۔ اللہ وقت کی قسم کھاکر فرماتا ہے وہ سب خسارے میں ہیں۔ جن لوگوں نے اپنا وقت ان کاموں کے سوا دوسرے کاموں میں صرف کیا؟ وہ کام کیا ہیں جن میں وقت کا صحیح استعمال ہے ،پہلے ایمان لانا ،پھرعمل صالح کر نا اور اس کے بعد لوگوں کو حق اور صبر کی تلقین کرنا؟ اگر مومن صرف وقت کی اہمیت جان جائیں اور ان کاموں کے سوا وقت اور کہیں ضائع نہ کریں ؟ تو ان کے پاس پتنگ اڑانے کے لیے وقت ہی کہاں بچے گا ؟ اگر کچھ بچے گا تو وہ بھی جس نے انہیں پید کیاہے اور جس مقصد کے لیئے بھیجا ہے؟ کہ تم دنیا میں جاکر اپنی کھوئی ہوئی جنت ہمیشہ کے لیے حاصل کرکے اپنے لیے پکی کر لو؟ اگر ان میں یہ سوچ پیدا ہوجا ئے تووہ اس میں اتنا کھو جائں گے جیسے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جنکا فرمان ہے کہ“ میں گر سورہ فاتحہ کی تفسیر کروں تو وہ اتنی ضخیم ہو گی کہ اسی اونٹوں پر لادنا پڑیگا۔ یا پھر تاریخ اسلام کے وہ چاروں“ عبد اللہ “ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین جیسا بن جائے گا۔ جن کے بارے میں علامہ اقبال ؒ فرما گئے ہیں کہ“ تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا ورنہ گلشن میں علاجِ تنگئی داماں بھی تھا “ انہیں اتنی فرصت ہی کہاں ہوگی کہ وہ کچھ اور سونچیں۔ اللہ ہم سب کو ان جیسا بنادے (آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY