صبح اٹھی تو بہت سے کام کرنے تھے۔۔آرگوس سے جا کر کچھ چیزیں لینی تھیں جو کچھ دن پہلے آرڈر کی تھیں۔۔۔ڈبل روٹی، انڈے،دودھ خریدنا تھا۔۔۔۔کلارک پر جا کر جوتے واپس کرنے تھے۔۔۔اور مارکس اینڈ سپنسر کی سیل دیکھنی تھی۔۔
جلدی سے ناشتہ کیا۔۔۔مسور کی دال چاول بنائے اور تھیلا پکڑ کر بازار کی طرف چل دی۔۔۔
جلدی جلدی سارے کام نپٹائے۔۔اور آخر میں کواپریٹو سٹور جا کر چرچ کے ڈبے میں ڈبل روٹیاں ڈالیں۔۔میں ھر جمعرات کو چرچ کے ڈبے میں ڈبل روٹیاں ضرور ڈالتی ھوں۔۔کبھی کبھی روزمرہ ضرورت کی دیگر اشیا اور پانی کی بوتلیں بھی۔۔۔آج بازار میں۔۔۔رومانیہ کی ونیزہ نہیں آئی تھی۔۔۔وہ روزانہ چند رسالے پکڑ کر مانگنے کے لیے نکڑ پر ھوتی ھے۔۔۔چند ماہ پہلے وہ حاملہ تھی۔۔۔۔کافی شاپ والے اس کو کرسی دے دیتے ھیں جس پر وہ بیٹھی رہتی ھے۔۔۔میں اس کے لیے ریزگاری بچا کر رکھتی ھوں۔۔مجھے دیکھتے ھی وہ مسکرانےلگتی ھے میں اس کا حال پوچھتی ھوں اور ریزگاری اس کے ھاتھ میں تھما دیتی ھوں۔۔۔۔وہ چند دن دکھائی نہیں دی۔۔۔۔پھر نظر آئی تو اس نے بتایا ۔۔اس کا بیٹا پیدا ھوا ھے۔۔۔اس نے اپنے موبائل پر سرخ و سفید گول مٹول بچے کی تصویر بھی دکھائی۔۔۔۔
میں واپسی پر کچھ دیر ایک بنچ پر بیٹھ کر تسبیح پڑھتی ھوں۔۔۔اور پھر گھر چلی جاتی ھوں
آج بنچ پر ایک سیاہ فام خاتون بیٹھی سویٹر بن رھی تھی۔۔۔۔میں اس کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔۔اس نے مسکرا کر مجھے دیکھا ۔۔۔پھر گویا ھوئی
“میں جمیکا میں رھتی ھوں۔۔۔یہاں بیٹے سے ملنے آئی ھوں۔۔۔جمیکا ویسٹ انڈیز کے پاس ایک جزیرہ ھے۔۔وھاں سارا سال گرمی پڑتی ھے۔۔سویٹر، ٹوپی کی ضرورت نہیں ھوتی۔۔۔لیکن یہاں تو ان کے بغیر گزارا نہیں ”
” جی ھاں ” میں نے اس کی ھاں میں ھاں ملائی۔۔۔
” آپ کا تعلق کس ملک سے ھے؟” اس نے پوچھا
“میں پاکستان کی رھنے والی ھوں ”
“وھاں کیسا موسم ھوتا ھے؟” اس نے سوال کیا۔۔
ھمارے ملک میں ایک سال میں پانچ موسم ھوتے ھیں۔۔۔سردی، گرمی، بہار، خزاں اور برسات”
“کیا وھاں برف باری ھوتی ھے؟”
“ھاں ھمارے پہاڑوں پر برف باری ھوتی ھے۔۔اور کچھ چوٹیاں تو سارا سال برف سے ڈھکی رھتی ھیں۔۔۔ھمارے ملک میں پہاڑ، سمندر، میدان، صحرا،جھیل، دریا سب کچھ ھے ”
وہ حیرت سے میری باتیں سن رھی تھی۔۔۔پھر بولی۔۔۔” میں روزانہ اس وقت لائبریری میں جا کر بیٹھتی ھوں۔۔۔آج لائبریری بند ھے۔۔۔اس لیے یہاں بیٹھی ھوں ”
یہ سنتے ھی میں نے اس سے رخصت چاہی اور الوداع کہہ کر گھر کے راستے پر چل پڑی۔۔۔۔
مجھے خدشہ تھا کہ کہیں وہ یہ نا پوچھ لے کہ آپ کے ملک میں کتنی لائبریریاں ھیں۔۔۔اور ان میں بچوں، بڑوں اور عورتوں کے لیے کیا سہولیات ھیں۔۔۔۔۔۔
میں سارا راستہ یہ ھی سوچتی رہی کہ ھم کتاب سے دوری کا رونا تو روتے ھیں۔۔۔لیکن محلوں میں لائبریریاں نہیں بناتے۔۔۔جہاں مقامی آبادی کے بچے،عورتیں اور بزرگ اپنے فارغ وقت میں جا کر مطالعہ کر سکیں۔۔۔۔جب سے مشینی ریڈی میڈ کپڑوں کا فروغ ھوا ھے۔۔۔خواتین کے ھاتھوں سے اون سلائیاں بھی غائب ھو گئی ھیں۔۔۔بھلا بازاری اور مشینی سویٹروں اور ٹوپیوں میں وہ گرمی اور اپنائیت کہاں۔۔۔جو ماں اور بہنوں کے لمس بھرے سویٹروں میں ھوتی تھی۔۔۔جن کے ایک ایک خانے میں ھزاروں دعائیں پروئی ھوتی تھیں

نیلما ناھید درانی

SHARE

LEAVE A REPLY