جاہل کی ہمنشینی تمہیں تھکا دے گی

0
45

جاہل کی روِش یہ ہے کہ اگر اس کی ہمنشینی اختیار کرو گے تو تمہیں تھکا دے گا ۔ ۔ ۔ اگر اس سے کنارہ کش رہو گے تو تمہیں گالی دیگا ۔ ۔ ۔ اگر اس سے اختلاف کرو گے تو تمہاری تذلیل کرے گا ، تم پر طنز کرے گا ، تمہاری حُرمت پامال کرے گا اور تم سے بغض و کینہ رکھے گا ۔ ۔ ۔ اگر کچھ تمہیں عطا کریگا تو تم پر احسان جتائیگا اور اگر تم اسے کچھ دو گے تو ناشکری کریگا اور احسان فراموش ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ اگر رازداں بناؤ گے تو خیانت کریگا ، اگر وہ تمہیں رازداں بنائے گا تو تم پر الزام لگائے گا اور اپنے وعدے سے مکر جائے گا ۔ ۔ ۔

اگر بے نیاز ہو جائیگا تو اِترائیگا اور نہایت بد اخلاقی و سخت کلامی سے پیش آئیگا اور اگر فقیر ہو جائیگا تو بے جھجک خدا کی نعمتوں کا انکار کرے گا ۔ ۔ ۔ اگر خوش ہوگا تو اسراف اور سرکشی کریگا ، اگر محزون ہوگا تو ناامید ہوجائیگا ، اگرہنسے گا تو قہقہہ لگائے گا ۔ ۔ ۔ اگر گریہ کرے گا تو بیتاب ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ اگر اسے راضی کرو گے تو تمہاری تعریف کرے گا اور تمہارے اندر جو خوبیاں نہیں پائی جاتی ہیں ، ان کی بھی تمہاری طرف نسبت دے گا اور اگر تم سے ناراض ہوگا تو تمہاری تعریف نہیں کرے گا اور جو برائیاں تمہارے اندر نہیں ہیں ان کی بھی تمہاری طرف نسبت دے گا ۔ ۔ ۔

وقت کی قیمت کا انکار کرے گا اور حکمت سے خالی بے فائدہ باتیں کرتا رہے گا ۔ ۔ ۔ خاموشی سے وحشت محسوس کرے گا اور تفریح کیلئے مذاق کرے گا ۔ ۔ ۔ ایسی بات کرے گا کہ اپنی بھی حُرمت برباد کرے گا اور تمہاری بھی خطرے میں ڈال دے گا ۔ ۔ ۔

اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس سے کیا کہا جائے گا اور وہ دوسروں سے کیا کہتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ اپنی امیدوں اور آرزوؤں پر بھروسہ کرتا ہے اور ایسی چیز کی کوشش کرتا ہے جس کے متعلق یقین نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔ اور ایسی بات کرتا ہے جس کے متعلق جانتا نہیں ۔ ۔ ۔ جاہل اپنی بے حیائی کو آشکارا کرتا رہتا ہے چاہے وہ لوگوں کے درمیان اچھا ہی کیوں نہ سمجھا جاتا ہو ۔ ۔ ۔

یہ سُننے سے پہلے جواب دیتا ہے ، کسی بات کو سمجھنے سے قبل ہی جھگڑنے اور رائے قائم کرنے لگتا ہے ، اور جن چیزوں کے متعلق نہیں جانتا ان کے متعلق رائے قائم کرتے ہوئے فیصلہ کرتا ہے ۔ ۔ ۔ جاہل منافق ، اپنی رائے پر فدا اور اپنی تعریف سے خوش ہوتا ہے اور تعریف کرنے والے کے فریب میں آجاتا ہے ۔ ۔ ۔

یہ نہ خود کو جانتا ہوتا ہے نہ ہی اپنی قدر کو پہچانتا ہے ۔ ۔ ۔ بات سُن کر زبان پر جاری کر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اور جو کچھ جان لیتا ہے فوراََ سب کا سب بیان کر دیتا ہے اور راز رکھنے کی حکمت سے بے خبر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ہر بے فائدہ اور بنا کسی مقصد کے گفتگو کرتا اور مذاق کر کے خوش ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ عقل کی بات کو مذاق میں اڑا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اپنی ہی رائے کو حرفِ آخر جانتا ہے اور حق کہنے والے کی قبول نہیں کرتا چونکہ دعویٰ کرتا ہے کہ خود ہی حق جانتا ہے سو جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور عقل کی بات کرنے والے سے بیزار رہ کر اس طرح فرار اختیار کرتا ہے جیسے اندھیرا روشنی سے ۔ ۔ ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــ
جسٹن سنو ۔ ۔ ۔
انتخاب۔فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY