سپریم کورٹ آف پاکستان نے کوہستان ویڈیو اسکینڈل کیس میں گرفتار ملزمان کی جانب سے اعتراف جرم کیے جانے کے بعد وکیل درخواست گزار کو کیس ٹرائل کی ایبٹ آباد منتقلی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اسے نمٹادیا۔
کوہستان ویڈیو اسکینڈل کیس کی آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی جس میں نمائندہ صوبائی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ویڈیو جعلی نہیں تھی ، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے بتایا کہ ا س معاملے میں 3لڑکیوں کو قتل کیا گیا 2 ابھی زندہ ہیں اور تمام 9 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے بتایا کہ زندہ بچ گئی 2 لڑکیوں نے ملزمان کے خلاف بیان دیا، ایک ملزم شمس الدین قتل ہو چکا ہے۔
دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے نام ایف آئی آر میں نہیں ہیں، جبکہ ملزمان نے سارا ملبہ ہلاک ہونے والے ساتھی پر ڈال دیا ہے۔
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے لڑکیوں کی لاشیں نالے میں بہہ گئیں، دوسری جانب پولیس کو تدفین کی جگہ بتائی لیکن وہ وہاں نہیں گئی۔
درخواست گزار وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کا ٹرائل کوہستان سے ایبٹ آباد منتقل کیا جائے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ٹرائل منتقلی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کریں۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس میں کہا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کے لیے بھی ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے کوہستان ویڈیو اسکینڈل کیس نمٹا دیا،













