اس سے تو کوئی خار نکالا نہیں جاتا .امین کنجاہی

0
104

اس عمر میں بھی دل یہ سنبھلا نہیں جاتا
اس دل کا کروں کیا کہ یہ ٹالا نہیں جاتا

تُو چاند کی ماند ہے مرے دل کے فلک پر
جاں دل سے ترے پیار کا ہالہ نہیں جاتا

یاروں نے بہت زور لگایا ہے قسم سے
مگر دل سے ترا پیار نکالا نہیں جاتا

آؤ کہ مرے ساتھ چلو بن کے میسحا
ہاں ہجر کا یہ روگ اب پالا نہیں جاتا

یہ دل کی زمیں بھی بڑی زرخیز زمیں ہے
اس سے تو کوئی خار نکالا نہیں جاتا
امین کنجاہی

SHARE

LEAVE A REPLY