ہم نہ جانے کس دنیا میں رہ رہے ہیں ۔جہاں نہ ماضی کچھ سبق دیتا نظر آتا ہے ،نہ کہیں کوئی بھلائی دکھاتا نظر آتا ہے، نہ ہی ہم مستقبل کی فکر کرتے نظر آتے ہیں ۔صرف اور صرف طعنے اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا ہی سیاست سمجھ لیا گیا ہے ۔نہ عوامی مسائل کہیں سا منے ہیں نہ ملک کی فکر ہے۔ نہ تعلیم کسی کی ترجیح ہے اور نہ ہی صحت کسی سیاست دان کا مسئلہ ہے ۔بلکہ لگتا یہ ہے کہ صرف اور صرف اپنے پارٹی لیڈر کی بچت ہی سب کی ترجیح ہے کہ اگر وہ نہ ہوا تو سب کچھ ختم ہو جائیگا ۔۔۔ایسا کیوں ہے کہ ہم سب شخصیت پرستی کی طرف گامزن ہیں بغیر سوچے سمجھے ۔علم ہم سے کوسوں دور ہوگیا ہے ،یا کر دیا گیا ہے۔کیونکہ جو لوگ لا شعوری طور پر بھی علم دیا کرتے تھے وہاں بھی اب صرف پائنٹ اسکورنگ ہی رہ گئی ہے ۔یہ ادارے تھے ریڈیو اور ٹی وی ۔ جو آج کل شاید ہر ایک کی دسترس میں ہیں ۔ بلکہ ہاتھوں میں ہیں فون کی صورت میں ۔ہم نے ان وسائل سے بھی فائدہ نہ اُٹھانے کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔بلکہ انہیں بھی صرف اور صرف بھٹکانے اور غلط اور بے بنیاد خبریں دینے کا زریعہ بنا دیا ہے ۔ایک دو دن کی ہی بات کر لیتے ہیں جن میں کچھ خبریں غلط دی گئیں ۔لیکن نہ خبریں دینے والوں نے اور نہ انہیں شائع کرنے والوں نے کہیں کوئی معزرت کی شاید یہ اب ہمارا کلچر بنتا جا رہا ہے ۔۔۔۔
ہم نے جس طرح مدینہ کی ریاست کو طعنہ بنا دیا ہے اللہ ہمیں معاف فرمائے وہ بھی ایک دکھ کی بات ہے۔ اگر کوئی اس ریاست کی تقلید کرنا چاہتا ہے تو ہم مسلمان ہیں ہمیں تو بہت سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے اُن موقعوں پر جہاں ہمارے مزہب کا معاملہ آجائے ۔لیکن ہم کہیں بھی نہیں چوکتے بلکہ اپنی جہالت کا پر زور ثبوت دیتے ہیں ۔کہ ہم علم سے کتنے دور پَرے ہیں
ہماری اقدار کس طرح ختم ہو رہی ہیں ۔ہم اُن باتوں پر بھی بے لاگ تبصرے کرتے ہیں جو ہمارے مزہب کی بنیاد ہیں استغفراللہ وہ ریاست جس نے دنیا کو اندھیروں سے نکال دیا تھا جس نے علم کے خزانے لُٹائے تھے ۔جہاں غریب امیر ایک جیسے عدل کا حق دار تھا ۔جہاں امیروں سے لے کر غریب کی مدد لازم تھی ۔جہاں غریبوں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی ۔جہاں انسانی حقوق کی پامالی کو غلط قرار دیا گیا تھا ۔جہاں محبت کو عام کرنے ،اپنے منہ کا نوالہ دوسروں کو کھلانے کا درس دیا گیا تھا ۔جہاں دولت کے ارتکاز کو منع فرمایا گیا تھا جہاں مظلوم کو ظالم کے پنجے سے بچانے کا قانون تھا ۔جہاں ظلم اور جبر اور بے ایمانی سے روک دیا گیا تھا ۔جہاں بڑے چھوٹے کا لحاظ سکھایا گیا تھا عمل کر کے بتایا گیا تھا ۔اگر ہم اُن نقشِ قدم کو اپنانا چاہتے ہیں تو کیا یہ بات طعنے کی طرح استعمال کی جا سکتی ہے ؟؟؟؟؟؟ تنقید ضرور کریں مگر خدا را جائز تنقید کریں کیونکہ ایسی باتوں سے ہم اپنا وزن خود کم کرتے ہیں ۔کسی دوسرے کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔
ہماری سوچ ہے کہ اگر ہمارے ملک کا پڑھا لکھا طبقہ جن کی ڈگریوں پر اب ہمیں شک ہو چلا ہے ۔جس کی ہم معزرت چاہتے ہیں کیونکہ پڑھا لکھا انسان نہ تو غلط باتوں کا ساتھ دے سکتا ہے نہ ہی غلط لوگوں کو بچانے کے لئے ان کا سایہ بن سکتا ہے ۔اس لئے کہتے ہیں کہ جاہلوں نے اتنا نقصان پاکستان کو نہیں پہنچایا ،جتنا اِن پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ۔ہم سب اچھے پڑھے لکھے لوگوں سے معزرت چاہتے ہیں وہ اِن لوگوں میں کہیں دور دور نہیں ہیں ۔اور اُن لوگوں کی ہمارے ملک میں کوئی کمی نہیں ہے مگر خاموش ہیں اپنی عزت کو کیونکہ جب بے اعتدالیاں عروج پر ہوں تو اعتدال پسند اپنے خول میں بند ہو جاتے ہیں اور یہ ہی کچھ آج کل دیکھنے میں آرہا ہے ۔ہم مثال دیتے ہیں جاہل بیچارہ تو کچھ چرا کر تھوڑئ سی بے ایمانی کر کے اپنا گزارہ کرلیتا ہے اور زیادہ تر پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے ۔لیکن پڑھا لکھا طبقہ جس بے شرمی اور بے حیائی سے اپنی بے ایمانی کو چھپاتا اور اُس سے لوگوں کے مال پر ڈاکہ ڈالتا ہے کہ پیسے کا گورکھ دھندا کسی کے سامنے آہی نہیں سکتا وہ جعلی اکا ؤنٹ ۔جعلی کمپنیاں بنا کر لوگوں کو پھنسا کر اُن کی کمزوریوں کا فائدہ اُٹھا کر جس طرح ملک اور قوم کی تقدیر سے کھیلتا ہے وہ ایک جاہل نہیں کر سکتا ۔ جس طرح قومی دولت کو دوسرے ممالک میں منتقل کرتا ہے وہ کوئی جاہل نہیں کر سکتا ۔وہ کوئی بے عہدہ شخص کی بساط نہیں ہے ۔کیونکہ وہ اتنے بڑے بڑے رابطے نہیں پیدا کر سکتا جو اُسے سہارا دیں ۔
اِن پڑھے لکھے جاہلوں نے جس طرح ملک کو خراب کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں کاش کبھی سوچیں کہ کیا جواب دیں گے اللہ کو ۔جب وہ فرماتا ہے سورہ الزلزال میں ،مفہوم “زمین اپنے اندر کا بوجھ نکال دے گی ۔اور کہے آدمی اسے کیا ہوگیا ہے ۔آگے فرمایا ۔سو جس نے کی زرہ بھر بھلائی وہ دیکھ لے گا اُسے ۔اور جس نے کی زرہ بھر برائی وہ دیکھ لے گا اُسے ۔“ یعنی سب کچھ سامنے رکھ دیا جائیگا کہیں جائے فرار نہیں ہوگی ۔پھر سورہ القاریہ میں فرمایا مفہوم سو جس کی بھاری ہوئیں تولیں وہ رہے گا مَن مانے گُذران میں اور جس کی ہلکی ہوئیں تولیں اُس کا ٹھکانہ گڑھا ہے اور تو کیا سمجھا وہ کیا ہے آگ ہے دھکتی ہوئی “ اللہ ہم سب کو معاف کردے ہم سب کو بچا لے کہ ہم سوچیں کہ ہمیں اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے ۔سچائی کی طرف راغب ہوں ہمارے پڑھے لکھے لوگ چاہے آکسفورڈ سے پڑھ کر آئے ہوں یا بیکن ھاؤس سے پڑھے ہوں سارے یہاں آکر اگر کسی پارٹی سے متعلق ہوں تو سارے ایک لائن میں آجاتے ہیں ۔ہمیں دکھ ہوتا ہے ۔علم تو کردار بناتا ہے ہمارا علم صرف اور صرف بے ایمانی سکھا رہا ہے ،جھوٹ بلوا رہا ہے غلط بیانی کو فروغ دے رہا ہے ۔خدا را سوچو ۔
ہماری سوچ ہے کہ اگر ہمارا پڑھا لکھا طبقہ یہ عہد کر لے کہ غلط باتوں کا ساتھ کسی صورت نہیں دے گا تو ہم بہت جلد ان تمام مشکلوں سے نکل سکتے ہیں جن میں ہمیں پھنسا دیا گیا ہے۔ ہمارے عُلما ء بجائے سیاست کے اگر لوگوں کو سچا علم بانٹنے لگیں تو شاید ہم سچائی اور ایمانداری کی طرف راغب ہو جائیں ۔بات صرف سوچنے اور سمجھنے کی ہے جو لوگ خود کو منوانا چاہتے ہیں علم سےتقدیر بدلتے ہیں لیکن سچا اور کھرا علم ۔جھوٹ کو ختم کرنے کے لئے خود جھوٹ بولنا چھوڑنا پڑے گا ۔چاہے جج ہوں یا وکیل ،سیاست دان ہوں یا قانون دان ،تجزیہ نگار ہوں یا اینکرز، صحافی ہوں یا مصنف۔ امیر ہو یا غریب ۔عام آدمی ہو یا خاص جب تک سب مل کر سچائی کی راہ پر نہیں آئینگے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا ،
نیب کی درخواست خارج کر دی گئی ۔ہمیں نہیں معلوم کہ اچھا ہوا یا برا لیکن اتنا جانتے ہیں کہ ملک کی تقدیر سے کھیلنے والوں کو خوب موقے ملتے ہیں بچنے کے ۔نیب کا ادارہ کیا کر رہا ہے ہمیں نہیں پتہ لیکن جس طرح وقت بر باد کیا جارہا ہے کہ کوئی نہ قانون کی دسترس میں آتا ہے نہ ہی نیب کی پھر ان اداروں کی ضرورت ہی کیا ہے بس بقول ایک صحافی سب کچھ جائز قرار دے دو تاکہ سب ہی سکون سے ہو جائیں ۔جعلی کاغزات پیش کرو کوئی بات نہیں کیونکہ خاتون کا معاملہ ہے ۔جعلی دستخط ہوں کو مضائقہ نہیں کیونکہ محترمہ شامل ہیں لیکن کہتے ہیں کہ احتساب بلا امتیاز ہو رہا ہے ۔یہ کیسا بلا امتیاز ہے جو دل میں نہیں اُتر رہا ۔جو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ کیا واقعئی احتساب ہو رہا ہے ؟؟
ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ جب تک قانون بلا امتیاز حرکت میں نہیں آئیگا وقت دینا نہیں چھوڑے گا یہ ہی ہوتا رہے گا کہ بڑا پکڑا نہیں جائیگا اور چھوٹا چھوڑا نہیں جائیگا ۔ایک بار ضرور اپنے قانون پر بھی توجہ دیں کہ اسے اتنا طول نہ دیں کہ انصاف دیکھنے کی خواہش میں لوگ بوڑھے ہو جائیں اور مقدمے وہیں لٹکے رہیں ۔اگر عدلیہ نے اپنے اندر تیزی پیدا نہ کی تو شاید لوگوں کے صبر کا پیمانہ بھی چھلک پڑے گا ۔کیونکہ ہم اکثر لوگوں کو سنتے ہیں جو کہتے ہیں اس ملک میں کسی کو سزا نہیں ہو سکتی اور بڑے کو تو ہو ہی نہیں سکتی ۔یہ وہ تکلیف ہے جو آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے کہیں زیادہ ہو گئی تو ملک کے قانون سے لوگوں کا اعتماد نہ صرف اُٹھ جائیگا بلکہ لوگ عدالتوں کا رُخ ہی نہیں کریں گے ۔سب کو ہی سوچنا ہوگا اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے قوانین پر عمل لازمی کرانا ہوگا ۔لیکن جب جھول نظر اآئینگے تو کوئی بھی مطمئن نہیں ہوگا ۔کیونکہ ہم سب ہی دودھ کے جلے ہیں ۔۔۔
اللہ میرے ملک کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین
یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے.عالم آرا
840
0












