زیون ہاروے کے بازوؤں میں کسی اور بچے کی جانب سے عطیہ کیے گئے ہاتھوں کو 2 سال قبل 2015 میں سرجری کے ذریعے لگایا گیا، تاہم اب وہ پہلی بار دوسرے کے ہاتھوں سے کوئی کھیل کیھلنے یا کام کرنے کے قابل ہوا ہے۔
زیون ہاروے امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں ایک صحت مند بچے کے طور پر پیدا ہوئے، مگر 2 سال کی عمر میں انہیں ’سیپسٹ انفیکشن‘ نامی بیماری لاحق ہوگئی، اور ان کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔
اس بیماری میں انسان کے کئی عضوے ختم ہوجاتےہیں، یا پھر انسان کی زندگی بچانے کے لیے کئی عضووں کا کاٹنا یا جسم سے الگ کرنا پڑتا ہے۔
زیون ہاروے کی زندگی بچانے کے لیے ڈاکٹرز نے ان کے ہاتھ کاٹ دیے، جب کہ ان کے گردے بھی فیل ہوگئے، اور ساتھ ہی ان کے پاؤں بھی شدید متاثر ہوئے۔
ڈاکٹرز نے فوری طور پر زیون ہاروے کو بچانے کے لیے ان کے گردوں کا ڈائلاسز شروع کردیا، بعد ازاں انہیں اپنی والدہ کی جانب سے عطیہ کیا گیا گردہ لگایا گیا۔
ڈاکٹرز نے طویل محنت اور سرجری کے بعد ان کے گردے کا ٹرانسپلانٹ کیا، جس کے 4 سال بعد انہیں کسی کی جانب سے دونوں ہاتھ عطیہ کیے گئے۔
زیون ہاروے کو 8 سال کی عمر میں چلڈرنز ہاسپیٹل آف فلاڈیلفیا کے ڈاکٹرز نے طویل سرجری کے بعد دونوں ہاتھ لگادیے۔
زیون ہاروے کے لیے 40 ڈاکٹرز پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا گیا، جس میں 10 سرجن بھی شامل تھے، ڈاکٹرز کی ٹیم نے آپریشن سے پہلے بچے کے تمام ٹیسٹیں کںے، جس کے بعد اس کی سرجری کی گئی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نیوز کے مطابق ہاتھوں کی سرجری کے 2 سال بعد زیون ہاروے عطیہ کیے گئے ہاتھوں سے کھیلنے اور کوئی کام کرنے کے قابل ہوگئے۔
ڈاکٹرز نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیون ہاروے دنیا کا پہلا بچہ ہے، جسے کے دونوں ہاتھ اپنے نہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق انہیں خدشہ تھا کہ زیون ہاروے کا ذہن اور جسم ’غیر ہاتھوں‘ کو قبول نہیں کرے گا، لیکن شکر ہے ایسا نہیں ہوا۔













