زندگی میں تین مواقع پر شدید ندامت،نیلما ناہید درانی

0
1454

زندگی میں تین مواقع پر مجھے اس بات پر شدید ندامت کا احساس ھوا کہ میں نے اپنی زندگی کے 33 برس ایسے محکمے میں گزارے۔۔۔جہاں انسان نما درندے کام کرتے ھیں ۔۔۔۔
پہلی مرتبہ یہ احساس اس وقت ھوا ۔۔۔جب۔سیالکوٹ میں کرکٹ کھیل کر گھر جانے والے دو بھائیوں منیب اور مغیث کو ڈاکو کہہ کر پولیس کی سربراھی میں بےدردی سے مار کر ان کی لاشوں کو بےدردی سے سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔۔۔۔ اور پولیس کے سربراہ ذولفقار چیمہ کو اس واقعہ کے بعد ترقی دے دی گئی۔ ۔۔۔
دوسری مرتبہ شرم اور ندامت تب محسوس ھوئی جب ماڈل ٹاؤن لاہور میں منہاج القرآن کی تجاوزات ختم کرنے کے لیے بے گناہ خواتین کو گولیاں ماری گئیں 11 سے زائد افراد کو ہلاک کرنے کے انعام میں مشتاق سکھیرا کو پنجاب کا آئی جی بنا دیا گیا۔
تیسری بار ساھیوال کا حالیہ واقعہ۔۔۔۔معصوم یتیم بچوں کی آنکھوں کے سوال مجھے سونے نہیں دے رھے۔۔۔۔وہ پوچھ رھی ھیں کہ انھیں کس جرم کی سزا دی گئی۔۔۔ان کے سامنے ان کے والدین اور بہن کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔۔۔۔یہ درندے کون تھے۔۔کون سی ڈیوٹی کا فرض نبھا رھے تھے۔۔۔ایسے درندوں کو سر عام پھانسی دی جانی چاھیے۔۔ان واقعات کے زمہ دار وہ سب سابقہ حکمران ھیں جنہوں نے اپنے مفادات کے لیے پولیس مقابلوں کی طرح ڈالی۔۔۔سی ٹی ڈی کے ان ملازمین کو جو اس واقعہ کے زمہ دار ھیں کو اسی طرح پولیس مقابلے میں مارا جائے۔۔۔تاکہ آئندہ کوئی کسی انعام کے لالچ میں بے گناہ لوگوں کو ہلاک نہ کرے۔۔۔
نیلما ناہید درانی

SHARE

LEAVE A REPLY