جنگ سے متاثر عراق میں‌ بچوں‌ کے لیے ’بس اسکول‘ کا قیام

0
742

جنگ سے شدید متاثر عراق میں بچوں میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے بس کو اسکول بنادیا گیا ہے، بے گھر بچے حصول تعلیم کے لیے پرجوش ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کے لیے بس میں اسکول بن گیا ہے، غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے بے گھر بچوں کے لیے چلتے پھرتے اسکول عراق کا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔

اسکول بس میں پڑھنے والے بچوں کو آٹھ ماہ بعد سرکاری اسکولوں میں داخل کرایا جاسکتا ہے، جھونپڑیوں میں رہنے والے بچوں کے لیے تعلیمی سلسلے کے ساتھ غیرنصابی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بس کا نام ’دی ہوپ بس‘ رکھا گیا ہے جبکہ بس کی سیٹوں کو ہٹا دیا گیا ہے اور اس کی جگہ 20 اسکول ڈیسک رکھ دیا گیا ہے جس میں 50 سے زائد بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

اسکول بس میں پردے لگائے ہیں اور بچوں کے لیے کھلونے، ٹیلی ویژن سیٹس سمیت بلیک بورڈز لگائے گئے ہیں، اسکول میں زیادہ تر بچے اسٹریٹ چلڈرن ہے جنہوں سے اس سے قبل تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔

ایک طالبہ سارا باسم نے کہا کہ ’اس بس اسکول میں آنے سے قبل میں کبھی اسکول نہیں گئی، میں یہاں سے ابتدائی تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں۔‘

ایک اور طالب علم علی نے کہا کہ میری عمر سات سال ہے، میں شہر کے مختلف علاقوں سے کچرا اکٹھا کرکے گزر بسر کرتا تھا لیکن اب اس بس اسکول میں آکر تعلیم حاصل کررہا ہوں۔

بس اسکول بنانے کا خیال فراس ال بیاتی کے ذہن میں‌ آیا جو وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ جسٹس این جی او سے وابستہ ہیں۔

فلاحی تنظیم کی جانب سے بس اسکول کا پہلا اسٹاپ ’رشید کیمپ‘ کو بنایا گیا ہے، تنظیم کی جانب سے غریب اور پسماندہ لوگوں کے لیے شیلٹر ہومز بھی بنائے جائیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY