سرخ خون والی کی طرف سے سفید خون والے کے نام۔جسٹن سنو

0
856

تب سے اب تک ۔ ۔ ۔ ہمیشہ سے ہمیشہ کی طرح ۔ ۔ ۔ صوفے پر براجمان ۔ ۔ ۔ بایاں ہاتھ اپنی سرخ و سفید جبیں پر جمائے ۔ ۔ ۔ دائیں ہاتھ میں قلم تھامے ہوئے ۔ ۔ ۔ سفید و کورے کاغذ کو اپنی پتھر نما بنجر و شوخ نگاہوں سے عذاب میں مبتلا کیے جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی ۔ ۔ ۔ اُس نے زرا دیر کو کاغذ کو عذابِ نگاہ سے بَری کرتے ہوئے اپنی مجرم نگاہیں اٹھائیں ۔ ۔ ۔ کھلے ہوئے دروازے کی دہلیز پر اُس کا ایک وفادار ہاتھ میں ایک لفافہ لیے کھڑا اُس کی پلکوں کی جنبش کا منتظر تھا ۔ ۔ ۔ اس کی مثلِ پنکھِ مور پلکیں دروازے پر نامہ بَر کو دیکھ چکنے کے بعد جھک کر دوبارہ کاغذ کو غضبِ نگاہ کی منتقلی میں مصروف ہو گئیں ۔ ۔ ۔ نامہ بَر پلکوں کا اشارہ پاتے ہی بِنا کوئی آواز پیدا کیے بے حد احتیاط و حرمت کے ساتھ قدم رکھتا ہوا آ کر لفافہ میز پر رکھ کر واپس چلا گیا ۔ ۔ ۔ اُس نے حُسن کو روک کر عشق کو وارداتِ جنون پر اُکسانا بند کر کے لفافہ اٹھا کر کھولا جس میں سے ایک کاغذ برآمد ہوا ۔ ۔ ۔ اُس پر کچھ یوں تحریر تھی ۔ ۔ ۔
_________________________________
سُرخ خون والی کی طرف سے سفید خون والے کے نام
_________________________________

” تمہارا حُسن مجھ خدا پرست کو کافر کیے جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ شاید تمہارے حُسن و خوبروئی کی خدا نے کوئی مقدار ہی مقرر نہیں کی ۔ ۔ ۔ جب بھی تمہیں دیکھتی ہوں لگتا ہے جیسے اب مری کہ تب مری ۔ ۔ ۔ تمہاری دید کے وقت سانسیں یوں ساتھ چھوڑ جاتی ہیں جیسے تاریکی میں سایہ ۔ ۔ ۔ میں کیا کروں کہ تمہارے جسم تک تو رسائی ممکن نہیں تو روح کا تو ذکر ہی کُجا ۔ ۔ ۔ تمہیں دیکھ کر سجدے کرنے کو دل کرتا ہے ۔ ۔ ۔ کافر کر دیا ہے تم نے ۔ ۔ ۔ شاید تمہیں خدا نے بنایا ہی ایمان والوں کی آزمائش کیلئے ہے ۔ ۔ ۔ تو تمہیں دیکھنے سے میری جان اور میرا ایمان دونوں خطرے میں ہیں ۔ ۔ ۔ اس لیے تمہارے چائے کے کپ میں ، میں نے زہر ملا دیا ہے ۔ ۔ ۔ اپنے جان و ایمان کی خاطر ۔ ۔ ۔
لیکن جب سوچتی ہوں کہ تم نہ رہو گے تو اس لمحے مجھ پر وہ کرب گزرتا ہے جو موت کے وقت کے وقت گزرتا ہے ۔ ۔ ۔ اب دیکھو نہ ۔ ۔ ۔ یہ سوچتی ہوں تو یوں موت کا درد محسوس ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ایسا ہو گا تو جانے کیا ہوگا ۔ ۔ ۔ اور یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ دنیا میں میرے چین و سکون اور زندہ ہونے کا سبب ہی تم ہو ۔ ۔ ۔ سبب نہ رہے گا تو وقوع کیونکر ہو پائے گا کچھ ۔ ۔ ۔ اس لیے تمہارے بعد موت سے بھی گہرے کرب سے بچنے کیلئے ، اور تمہارے نہ ہونے سے یقینی طور پر لگ سکنے والی دیوانگی کی رسوائیوں سے بچنے کیلئے ۔ ۔ ۔ میں خود بھی زہر پی رہی ہوں ۔ ۔ ۔
اب بات رہ گئی ملنے کی ۔ ۔ ۔ تو تم نے اپنے حُسن سے جتنوں کو قتل کیا ہے اُن کے قصاص میں تمہارا جہنم جانا تو پکا ہی پکا ہے ۔ ۔ ۔ اور میں نے چونکہ تم جیسے کو قتل کیا ہے اس لیے مجھے تو جہنم جانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ۔ ۔ ۔ تو بس میری جان پہلے گئے تو انتظار کرنا ، ورنہ منتظر ہوں ۔ ۔ ۔
________
تمہاری ہمنشیں
تمہاری قاتل
________
خط تمام شد ۔ ۔ ۔
.

خط پڑھ کر اُس نے موت کے منتظر بوڑھے انسان کی طرح اِک سرد آہ بھری ۔ ۔ ۔ اور قلم کی نوک میز پر رکھے اُس صاف و سفید و کورے کاغذ پر پھیر کر کرب کی لڑی میں آہوں کی تسبیح کچھ یوں پھیرو دی ۔ ۔ ۔
ــــــــــــــــــــ
” چائے ٹھنڈی کر کے پینے والے کافر کی طرف سے سرد خون والی لڑکی کے نام ، جس کا خون سُرخ تھا ” ۔ ۔ ۔
ــــــــــــــــــ
۔جسٹن سنو۔ ۔ ۔

انتخاب۔ ۔ ۔فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY