امریکا میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں مسلمان عسکریت پسند کم ہی ملوث پائے گئے ہیں۔ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ کے ایک جائزے کے مطابق 2018ء کے دوران دہشت گردی کا صرف ایک ہی ایسا واقعہ تھا، جس میں کسی مسلمان کا ہاتھ تھا۔
دوسری جانب اس دوران دائیں بازو کے انتہاپسندوں نے انچاس افراد کی جان لی۔ 1995ء میں اوکلوہاما سٹی میں ہوئے حملے کے بعد یہ کسی ایک سال میں دائیں بازو کی شدت پسندی کا نشانہ بننے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی اور ٹرائنگل سینٹر کے مطابق امریکی محکمے مسلم شدت پسندوں کے پر تشدد واقعات پر غیر معمولی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔










