کیا یہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے یا عیاشی ؟ منور حسین

0
1517

کون اس بات پر متفق نہیں کہ ہمارے ملک میں باقاعدہ دو طرح کے قانون ہیں خواہ آئین کی کسی کتاب میں ایسا نہیں لکھا شراب حرام ہے لیکن کلبوں فائیو سٹارز ہوٹلز میں نہیں ایسے ہی جب الیٹ کلاس کو کچھ باقی سہولیات خود کو میسر ہوں تو عوام کا سوچنے کی فرصت کسے ۔

شراب حرام بھی ہے اور ام الخبائث بھی ہمیں نہیں چاہیے لیکن ایک دوسرا ایشو دیکھتے ہیں جو کہ نہ عیاشی ہے نہ کوئی مذہبی قدغن۔

آپ کسی ڈاکٹر سے تصدیق کر لیں شوگر؛ بلڈ پریشر کی ادویات کا استعمال؛ زہنی اعصابی تناو مردانہ قوت پر کتنا برا اثر ڈالتے ہیں اب تقریباَ پوری دنیا میں اس مقصد کیلیے ادویات موجود ہیں جو کہ بلکل ضرررساں نھی ہیں اگر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کیا جائے ظاہر ہے بلاوجہ ڈاکٹر کی بات رد کرنے کا کوئی رسک کیوں لے گا کچھ ممالک میں جیسے نیوزی لینڈ متحدہ عرب امارات میں یہ ادویات اپ ڈسپرین کی طرح خرید سکتے ہیں اب پاکستان میں بہت ایسی ادویات جو کہ پوری دنیا میں بند ہو چکی ہیں ابھی تک استعمال ہو رہی ھیں لیکن اس مقصد کیلیے بنائی گی ادویات کی پاکستان میں پابندی چہ معنی دارد اب ادویات پر پابندی سے ایک تو یہ نقصان ہو رہا ہے کہ یا تو میڈیکل سٹور والا اپنی مرضی کی نکمی سی گولی سو پچاس میں بیچ دیتا ہے جو کہ اس کو ایک دو روپے میں ائی ہوتی ہے دوسرا جو سمگل شدہ یا گھروں میں افیم وغیرہ سے بنائی گی مضر صحت گولی کسٹمر کو دے دیتا ہے جو کہ اس کی صحت کیلیے نقصان دہ ہے۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنسی خواہش فطری ہے ضرورت ہے یا یہ کوئی عیاشی ہے اور کیا یہ خواہش صرف مرد میں ہے یا قدرت نے عورت کے اندر بھی رکھی ہے اب میڈیکل سائنس کا تو ایک ہی جواب ہو گا کہ یہ فطری بھی ہے اور دونوں کے اندر ہے ۔ مرد اور عورت کو بچوں کے علاوہ جو دوسری ضرورت جوڑ کر رکھتی ہے وہ جنسی رشتہ ھے اور اس سے کوئی زی شعور انکار نہی کر سکتا ۔ اب حکیموں کے اشتہارات کس نے نہیں دیکھے جس کاروبار کی پبلسٹی ہوتی ہے اس کے گاہک بھی ہوتے ہیں اب حکیم اپنے مریضوں کو کیا کھلا رہے ہیں اس کا پتہ حکیموں کو بھی نہیں ۔ اب کتنے لوگوں کے گردے حکیموں کی وجہ سے فیل ہوتے ہیں کتنے لوگوں کو فالج ہائی بلڈ پریشر دل کا دورہ عطائی کی دوائی سے پڑھا اس کے اعدادوشمار اس لیے جمع نہی ہو سکتے کہ ظاہر ہے کوئی بھی فیملی کو اعتماد میں لے کر ایسی ادویات استعمال نہیں کرتا
اگر باقاعدہ کمپنی کی بنی ہوئی تسلی بخش دوائی جس کے افیکٹ سائیڈ افیکٹ بھی پتہ ہوں جو کہ سب دوائیوں کے ہوتے ہیں اور وہ ہوں بھی مقابلے کی فضا میں مناسب ریٹ پر تو شائد کتنی زندگیاں بچ سکتی ہیں اور کتنے گھر اجڑنے سے بچ سکتے ہیں ۔
شراب تو حرام ہے اور مضر صحت بھی ، پابندی سمجھ آتی ہے ۔۔
لیکن ان ادویات پر پابندی کی وجہ؟

ووٹ دینے کا حق سب کا یکساں ہیں کسی ٹیکنیکل ایشو پر رائے صرف اس شعبے کے ماہرین ہی دے سکتے ہیں آپ میڈیکل سائنس کے لوگوں کو بلا لیں ماہر نفسیات سماجیات حتیٰ کہ علمائے کرام کو بھی بلا لیں پھر اپ کو پتہ چل جائے گا کہ کیا یہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے یا عیاشی ۔۔؟

الله مجھے معاف کرے اگر میں غلط ہوں تو رسول کریم نے خود اپنے صحابہ کو پیاز کھانے کی تلقین کی کہ یہ مقوی باہ ہے اب اگر مزہب بھی اس کے خلاف نھی تو پھر جن لوگوں نے یہ پابندیاں لگائیں ان کے پاس کیا دلیل ہے خود تو شادیوں پہ شادیاں سارا مقتدر طبقہ کیے جا رہا ہے اب میں تاریخ میں نھی جاتا کہ کس کس کے گھر سے کس وقت ایسی ادویات برآمد ہوئی اور کس کے بارے میں لوگ کیا بد گمانی رکھتے ہیں مانا کہ عیاشی آپ کا زاتی معاملہ ہے ۔ جینے کا حق ، اپنی ضرورت پوری کرنے کا حق تو عام بندے کے پاس بھی رہنے دیں

SHARE

LEAVE A REPLY