پینٹنگ بنانا چھوڑ دو ، ورنہ نہ رہ سکو گے ، نہ مر سکو گے

0
1260

ایک دفعہ مجھ سے کسی نے سوال کیا کہ عزت کیا ہے ۔ ۔ ۔ ؟
تو میں نے پوچھا کہ آپ کونسی عزت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ، انسانی عزت یا حیوانی عزت ۔ ۔ ۔ ؟
انہوں نے کہا عزت تو عزت ہوتی ہے ، لیکن اب آپ نے دو عزتیں بنا دی ہیں ، تو دونوں کے بارے میں بتائیں ۔ ۔ ۔
تو میں نے انہیں بتایا کہ پہلی عزت یعنی انسانی عزت کا مطلب یہ ہے کہ آپ انسانی حُرمت کو پامال نہ کریں اور حیوانی عزت یہ ہے کہ حیوانی طلب کو پامال نہ کریں ۔ ۔ ۔
۔
وضاحت کیلئے یوں عرض کیا ، کہ سچا انسان محترم ہے کیونکہ وہ سچائی اسے انسان بنائے رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ اور جھوٹ اسے انسانیت سے خارج کر دیتا ہے ، سو وہ جب اپنی انسانی حُرمت یا انسانیت کھو دیتا ہے تو بے عزت ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ تو انسانی حُرمت کا پاس رکھنا انسانی عزت ہے ۔ ۔ ۔
۔
حیوانی عزت کیلئے یہ چھوٹی سی کہانی سنیں ۔ ۔ ۔
میں ایک مقام پر گیا وہاں پر ایک شخص کو دیکھا جو رنگ آمیزی یعنی پینٹنگ کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ اس کا کینوس دنیا کا دماغ تھا ۔ ۔ ۔ وہ دنیا کے دماغ پر اپنی تصویر بنا رہا تھا ۔ ۔ ۔ لیکن اس کی بنایا ہوا عکس تو بڑا ہی خوبصورت تھا ۔ ۔ ۔ اور خود کینوس پر بنے عکس جتنا خوبصورت نہیں تھا ۔ ۔ ۔ بلکہ یوں لگ رہا تھا جیسے کہ کسی اور کا ہی عکس بنا رہا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن وہ بضد تھا کہ یہ اسی کا عکس اور اس ہی کی تصویر ہے ۔ ۔ ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اسے معلوم نہیں تھا ۔ ۔ ۔ وہ یہ کام غیر محسوس انداز میں لاشعوری طور پر کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ یعنی اس کا ارادہ تو اپنا ہی عکس بنانے کا تھا لیکن غیر محسوس انداز سے کوئی دوسرا ہی خوبصورت سا عکس بن رہا تھا لیکن اسے اس کا احساس نہیں تھا ، وہ بے خبر تھا ۔ ۔ ۔
عکس بن گیا تو دنیا اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے لگی ، اور اس ٹھنڈک سے اُس بنانے والے کو شہرت کی خوراک ملنے لگی ۔ ۔ ۔ شہرت میں اسے بڑی لذت محسوس ہوئی ۔ ۔ ۔ سو اس نے سوچا کہ جب تک دنیا اس عکس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتی رہے گی ، اور دنیا کی آنکھوں کو ذائقہ ملتا رہے گا تو اسے بھی شہرت کا سکون اور لذت کی خوراک ملتی رہے گی ۔ ۔ ۔ تو اُسے چاہیے کہ دنیا کا خیال کرے اور اس عکس میں ان کی پسند کی چیزیں بھی شامل کرے ، تاکہ اس عکس میں ان کیلئے لذت بھی برقرار رہے اور لذت بڑھتی بھی رہے ۔ ۔ ۔ اس طرح اسے بھی شہرت کی خوراک اور لذت کا احساس ملتا رہے گا اور بڑھتا رہے ۔ ۔ ۔
یہ انسان چاہتا تو یہ تھا کہ لوگ اسے اس کی رنگ آمیزی کی صلاحیتوں کی وجہ سے سراہیں ، نہ کہ اس کے بنائے ہوئے عکس سے آنکھوں کو ملتے ذائقے کیلئے ۔ ۔ ۔ لیکن آنکھ تو ذائقہ ہی لیتی ہے ، سراہتا تو دل ہے ۔ ۔ ۔ سو یہ انسان بھی غیر محسوس انداز سے دنیا کے ساتھ ہو لیا ۔ ۔ ۔ یہ سمجھ رہا تھا کہ لوگ اسے اس کی صلاحیتوں کیلئے سراہتے ہیں لیکن لوگ اس سے ذائقے لیتے رہے ۔ ۔ ۔ سو ذائقوں سے ملتی شہرت کے خوراک سے انہیں بھی لذت ملنے لگی اس لیے انہوں نے لوگوں کے ساتھ نباہ کر ہی لیا ۔ ۔ ۔
یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا ۔ ۔ ۔ جس جگہ اس انسان کی پینٹگ رکھی ہوئی تھی وہاں کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اپنی پینٹنگ رکھنا چاہی ، لیکن اس کی پینٹنگ میں زیادہ ذائقہ تھا ، سو اس کے عکس کے سامنے دوسروں کے عکس نظر اندازکر دئیے جاتے ۔ ۔ ۔ دوسروں کو تو بھڑکنا ہی تھا ۔ ۔ ۔ سو وہ اس انسان سے حسد کرنے لگے اور اس کے خلاف ہو گئے ۔ ۔ ۔ اور درپردہ اس کے خلاف سازشیں کرنے لگے ۔ ۔ ۔ اکثر اس کے خلاف تھے اور کچھ اس کے حامی ۔ ۔ ۔ سو سازشوں کے نتیجے میں ان کو مجبوراََ دلبرداشتہ ہو کر وہاں سے اپنی پیٹنگ اُٹھا کر دوسری جگہ لانی پڑی ۔ ۔ ۔ کچھ حامی وہیں رہ گئے ، کچھ ان کے ساتھ دوسرے مقام چل دئیے ۔ ۔ ۔
لیکن یہاں جب لوگوں کا ذائقہ لینا بند ہوا اور انہیں شہرت کی مسلسل خوراک ملنا بند ہوئی تو انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ وہ تو یہ سمجھتے تھے کہ لوگ انہیں ان کی صلاحیتوں کی وجہ سے سراہتے ہیں جبکہ لوگ تو ذائقہ لیتے تھے ۔ ۔ ۔ اور یہ بھی کچھ حد تک معلوم ہو گیا کہ لاشعوری طور پر وہ بھی ان کے ذائقوں کے بدلے خوراک خریدتا اور اسے شوق سے کھاتا رہا ۔ ۔ ۔
سو اس دوسرے مقام پر اس انسانن نے اپنے عکس پر شعوری طور پر لوگوں کا ذائقہ بڑھانے کا کام شروع کیا ۔ ۔ ۔ کچھ تو ماضی میں دنیا کی زبان پہ ان کے عکس کا ذائقہ تھا اور کچھ یہاں اور بھی بڑھا دیا گیا ۔ ۔ ۔
آخر کار معاملہ یہ ہوا کہ اب وہ دنیا کے دماغ کے کینوس پر اپنا عکس بھی بناتی اور ساتھ میں شعوری طور پر اس عکس میں دنیا کی پسندیدہ چیزیں بھی شامل کرنے لگی ۔ ۔ ۔ دنیا پھر سے ذائقہ لینے لگی ، اس بار انہیں معلوم بھی تھا کہ دنیا ان کا عکس اپنے ذائقہ کیلئے پسند کرتی ہے اور یہ بھی معلوم تھا کہ انہیں شہرت کی خوراک پسند بھی ہے اور اس ہی خوراک کیلئے شعوری طور پر کام بھی کرتا ہیں ۔ ۔ ۔
اس طرح دنیا میں ان کی عزت بننے لگی ۔ ۔ ۔ یہ ہے حیوانی عزت ۔ ۔ ۔ یعنی دنیا کے دماغ کے کینوس پر اپنا من پسند عکس بننا کر شہرت کی خوراک وصول کرتے رہنا ۔ ۔ ۔
بعد میں چونکہ انسان خوگر ہے ، جلد ہی عادی ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور جس چیز کی عادت ہو جائے وہ عام لگنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ سو دنیا اُکتانے لگی اور عکس کی تعریفیں کم ہوئیں ، دنیا کو ذائقہ عام سا لگنے لگا اور انہیں خوراک بھی زیادہ نہیں مل رہی تھی اور جو مل رہی تھی اس کی لذت بھی کم ہوتی جا رہی تھی اور عام سی محسوس ہونے لگی تھی ۔ ۔ ۔ سو وہ اُکتا گیا ، گویا بور ہو گیا ۔ ۔ ۔ اور سوچنے لگا کہ اس عکس کو ختم ہی کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ لیکن اس انسان کو اس عکس کے ساتھ کی عادت تھی اور عادتیں اتنی آسانی سے تھوڑی چھوٹتی ہیں ۔ ۔ ۔
یہ واقعہ حقیقت ہے ۔ ۔ ۔
یہ ساری کہانی سُنا کر میں نے اُنہیں یہ نصیحت کی کہ ۔ ۔ ۔
جو شخص تمہیں نہیں جانتا ، پھر چاہے تم سورج ہی کیوں نہ بنو ، اس کے لیے تم گویا وجود ہی نہیں رکھتے ۔ ۔ ۔
ایسا انسان اگر تمہارے پاس کسی ایسی خاص شے کو دیکھے گا جو تمہارے پاس تو ہے اور تمہاری فضیلت کا باعث بھی ہے ، لیکن اس کے پاس نہیں ہے ۔ ۔ ۔ تو تم سے حسد و بغض کرے گا اور تمہارا دشمن ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ پھر چاہے خدا تمہیں نفسِ ذکیہ ہی کیوں نہ بنا دے ۔ ۔ ۔ یہ تمہاری تذلیل و تحقیر کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا ، تمہاری خوبی کو بھی عیب بنا کر بیان کرے گا ، تمہاری بلندی کو پستی بنانے میں اپنی قوتیں خرچ کرے گا ، تمہارے آفتابی وجود کو چراغِ سحر بنا کر پیش کرے گا ۔ ۔ ۔ اگر اس کا دل تمہاری شرافت کا سورج بھی روشن ہو ، تب بھی یہ چاہے گا کہ اسی سورج کے عذاب میں تمہیں درگور کر دے ۔ ۔ ۔ تمہیں گرانے کو اگر اسے تم پر قربان ہی کیون نہ پڑے ، یہ ہو جائے گا ۔ ۔ ۔
تم صرف اس ہی کی نظر میں خاص ، اچھے اور خوبصورت ہو جو تمہیں جانتا ہے ۔ ۔ ۔ اور جو تم سے محبت کرتا ہے وہ تو تمہارے عیبوں کے باوجود بھی تم پر قربان ہونے کو مکمل تیار رہے گا ۔ ۔ ۔
سو دنیا کے دماغ میں اپنے خود ساختہ عکس کی رنگ آمیزی میں اپنا وقت اور صلاحیتیں ضائع نہ کرتے پھرو ۔ ۔ ۔ اور یہ پینٹنگ کرنا چھوڑ دو ۔ ۔ ۔ اس سے دل بہلتا نہیں ، آخر کار اُکتا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ پھر نہ اس عکس کے ساتھ رہا جا سکتا ہے نہ اسے چھوڑا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ گویا نہ رہا جا سکتا ہے ، نہ مرا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جسٹن سنو ۔ ۔

انتخاب فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY