برطانیہ کی جانب سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کو 51.7 ملین پاؤنڈ کی امداد بھیجی گئی۔
گذشتہ سال ناقابل دفاع امداد کے خاتمے کے وعدوں کے باوجود برطانیہ کی جانب سے چین کو 50 ملین پاؤنڈ سے زائد کی امداد بھیجی گئی تھی۔
برطانوی خارجہ آفس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امدادی بجٹ میں بھاری کٹوتیوں کے باوجود بھی گذشتہ سال برطانیہ کی جانب سے چین کو 51.7 ملین برطانوی پاؤنڈ کی امداد بھیجی گئی تھی۔
برطانیہ کی جانب سے بھیجی گئی رقم کے اخراجات کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکی تاہم برطانوی امداد کلائمٹ چینج سے نمٹنے، جنگلی جانوروں کے غیر قانونی خرید و فروخت کی روکتھام اور انسانی حقوق جیسے شعبوں کیلئے بھیجی جاتی ہے۔
گذشتہ سال سابق برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈومینک روب نے چین کو دی جانے والی امداد میں 95 فیصد کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب برطانیہ کی جانب سے چین میں صرف 9 لاکھ پاؤنڈ کی رقم انسانی حقوق کے شعبوں میں جاری پروجیکٹس کو دی جائے گی۔
اعداد و شمار کے مطابق اعلان کردہ 95 فیصد کٹوتی کے تحت چین کو ملنے والی امداد میں 64.1 ملین پاؤنڈ کی رقم کے مقابلے میں صرف 19 فیصد کمی کی گئی اور چین کو گذشتہ سال 51.7 ملین پاؤنڈ کی امدادی رقم بھیجی گئی۔
برطانیہ کی جانب سے چین کو دی جانے والی یہ امداد ہمیشہ سے برطانوی امدادی بجیٹ میں ایک متنازعہ معاملہ رہا ہے، سابق بین الاقوامی ڈیولپمنٹ سیکرٹری اینڈریو مشیل نے پہلی مرتبہ 2010 میں یہ امداد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔












