ذوالحجہ،8 جسے یومُ الترویہ کہا جاتا ہے، حج کے مبارک ایام کا باقاعدہ آغاز ہے۔ اس دن دنیا بھر سے آنے والے حجاجِ کرام Mina کی طرف روانہ ہوتے ہیں، جہاں لاکھوں سفید خیمے اسلامی اخوت، مساوات اور اجتماعیت کا حسین منظر پیش کرتے ہیں۔ منیٰ کے یہ خیمے جدید سہولیات سے آراستہ ہوتے ہیں تاکہ حجاج کو آرام، تحفظ اور عبادت کا سازگار ماحول میسر آ سکے۔ حجاج اس دن نمازیں ادا کرتے، تلبیہ پڑھتے اور ذکر و دعا میں مشغول رہتے ہیں، جبکہ ہر طرف “لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں روحانی کیفیت کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔ 8 ذوالحجہ دراصل بندۂ مومن کو دنیاوی مصروفیات سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت، قربانی اور روحانی تیاری کی طرف لے جانے کا عظیم پیغام دیتا ہے۔
ذوالحجہ8 (یومُ الترویہ)
حجاج مکہ سے منی جاتے ہیں اور وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور 9 ذوالحجہ کی فجر ادا کرتے ہیں۔
9 ذوالحجہ
سورج نکلنے کے بعد حجاج میدان عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔
وقوفِ عرفات
9 ذوالحجہ کو زوال کے بعد سے غروبِ آفتاب تک عرفات میں ٹھہرنا حج کا سب سے اہم رکن ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“الحج عرفہ”
یعنی حج کا اصل رکن عرفات میں ٹھہرنا ہے۔
عرفات میں حجاج:
نمازِ ظہر و عصر جمع کرکے ادا کرتے ہیں
دعا، توبہ، ذکر اور استغفار میں مشغول رہتے ہیں
غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ روانہ ہوتے ہیں۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
گلوبل وارمنگ سے سمندروں کا رنگ تبدیل۔ زاہدہ خوشی
دنیا بھر کے درجہ حرارت میں اضافہ یعنی گلوبل وارمنگ کا ایک اور نقصان سامنے آگیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ سمندروں کا رنگ بھی تبدیل کررہا ہے۔
گلوبل وارمنگ اور کلائمٹ چینج جہاں دنیا بھر میں نقصانات کی تاریخ رقم کر رہا ہے وہیں سمندر بھی اس سے محفوظ نہیں۔
حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق گلوبل وارمنگ کی وجہ سے نیلے سمندروں کا رنگ مزید نیلا جبکہ سبز سمندروں کا رنگ مزید سبز ہورہا ہے۔
رنگوں کی یہ تبدیلی سمندروں کے ایکو سسٹم کو متاثر کر رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق سمندروں کو رنگ دینے کی ذمہ دار ایک خوردبینی الجی (کائی) ہے جسے فائٹو پلینکٹون کہا جاتا ہے۔
یہ الجی سورج کی روشنی کو جذب کرتی ہے اور آکسیجن پیدا کرتی ہے۔ جن سمندروں میں زیادہ فائٹو پلینکٹون موجود ہے وہ سبز جبکہ کم فائٹو پلینکٹون رکھنے والے سمندر نیلا رنگ رکھتے ہیں۔
سورج کی روشنی میں اضافے کی وجہ سے زمین کے کچھ حصوں کے سمندر گہرے نیلے جبکہ کچھ گہرے سبز ہوتےجارہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رنگوں کی یہ تبدیلی فوڈ چین کو متاثر کرے گی۔ یہ جنگلی حیات اور ماہی گیری پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔












