عشق و محبت میں فرق ۔ ۔ جسٹن سن

0
3755

اس کائنات میں کوئی بھی موجود ایسا نہیں ہے جو انسان سے زیادہ تشریح و توضیح کا محتاج ہو ۔ ۔ ۔ چونکہ انسان میں ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جو غیر انسان میں موجود نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ اس میں ایسی پیچیدگیاں بھی پائی جاتی ہیں جن کی تشریح آسان کام نہیں ہے ۔ ۔ ۔ اور یہی وجہ ہے کہ انسان کو عالمِ صغیر یعنی چھوٹی کائنات سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔یعنی انسان بذاتِ خود ایک کائنات ہے ۔ ۔ ۔عرفاء اس چیز کو قبول نہیں کرتے ۔ ۔۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل میں باقی کائنات عالمِ اصغر یا عالمِ صغیر ہے ہے اور خود انسان ایک عالمِ اکبر ہے ۔ ۔ ۔
عشق انسان کے اندر خود ایک تشریح طلب چیز ہے ۔ ۔ ۔ انسان میں عشق کا ظہور خود ایک عجیب و غریب اور دشوار مسئلہ ہے ۔ ۔ ۔
بعض عشق کو ایک طرح کی شہوت سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور کہتے ہیں کہ عشق جنسی جبلت کی ایک ہیجانی کیفیت کا نام ہے ۔ ۔ ۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ ۔ ۔ یعنی اس کی ابتداء جنسی جذبہ ہے اور ابتداء بھی یہی ہے ۔ ۔ ۔
ایک دوسرے نظریے کے قائل فلاسفہ کہتے ہیں کہ عشق جنسی جذبے سے شروع ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ اور بعد میں لطیف احساس میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور جنسی جذبہ ختم ہو کر ایک روحانی کیفیت اختیار کر لیتا ہے ۔ ۔ ۔
تیسرے نظریے کے حامل اہل فلسفہ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر عشق دو قسم کا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ایک جسمانی ۔ ۔ ۔ جس کی ابتدائ اور انتہاء دونوں جسمانی ہی ہیں ۔ ۔ ۔ اور دوسرا روحانی جس کی ابتداء و انتہاء دونوں روحانی ہیں ۔ ۔ ۔
عشق خصوصن کہاں عبادت و پرستش کے ہمراہ ہو ۔ ۔ ۔ بلکہ ہر وہ شخص جو حقیقی عشق کے مرحلے تک پہنچ جائے۔۔۔پرستش کے مرحلے تک پہنچ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ یعنی یہ دونوں حقیقیت میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔۔۔اور آپس میں لازم و ملزوم ہیں ۔ ۔ ۔
بحرحال انسان میں عشق و عبادت کا مرحلہ بہت زیادہ تشریح و توضیح طلب ہے۔۔۔تحقیق کرنی چاہیئے کہ واقعی اس کے عوامل کیا ہیں ۔ ۔ ۔ ؟
آیا قدیم زمانے سے یہ بات جو افلاطون سے منسوب کی گئی ہے اور آج کل بھی عشقِ افلاطونی کے نام سے جانی جاتی ہے درست ہے یا نہیں ۔ ۔ ۔ ؟
کیا واقعی انسان میں عشق کے کوئی غیر مادی اور غیر جسمانی عوامل موجود ہیں یا نہیں ۔ ۔ ۔ ؟
آیا انسان میں عشقِ روحانی بھی پایا جاتا ہے اور اگر ہاں تو وہ کونسا جذبہ ہے ۔ ۔ ۔ ؟
یہ سوالات سامنے رکھنے سے پہلے یہ واضح کرتا چلوں کہ ۔ ۔ ۔ انسان میں ایک ایسی صلاحیت موجود ہے جسے ہم عشق کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ عشق محبت سے ایک بالاتر چیز کا نام ہے ۔ ۔ ۔ عام طور پر جذبہ محبت ہر انسان میں پایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ انسان میں کئی طرح کی محبتیں موجود ہیں ۔ ۔ ۔ مثلاََ دوستوں کے درمیان باہمی محبت ، استاد کی شاگرد سے محبت ، مرید کی مرشد سے محبت ، بیوی اور شوہر کے درمیان محبت ، والدین اور اولاد کے درمیان محبت وغیرہ ۔ ۔ ۔
ان کا شمار معمول کی محبتوں میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن انسان میں ایک اور چیز کی صلاحیت موجود ہے ۔ ۔ ۔ جسے عشق کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔
عشق کا لفظ عربی کے لفط عشقہ سے لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ عربی اُس بیل کو کہتے ہیں کہ فارسی میں جسے پیچک کہتے ہیں اور اردو میں شاید امر بیل ۔ ۔ ۔ اسے آکاس بیل بھی کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ یہ بیل جس چیز تک پہنچتی ہے اس کے گرد لپیٹ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مثلاَ جب کسی درخت تک پہنچتی ہے تو اس کے اردگرد لپٹ جاتی ہے اور اُسے اپنے چُنگل میں جکڑ کر اس پر مکمل قابو پا لیتی ہے ۔ ۔ ۔ اس درخت کا سارا سلالہ چھین لیتی ہے اور نتیجتہََ وہ سوکھ کر ختم ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔
اس طرح کی ایک حالت انسان میں بھی بیدار ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ معمول کی محبت کے برعکس انسان کو اس کی روزمرہ کے معمولاتِ زندگی سے روک یا مکمل خارج کر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مثلاََ اس کی نیند حرام کر دیتا ہے ، کھانا پینا چھوٹ جاتا ہے ، غم و اندوہ اسے گھر لیتا ہے ۔ ۔ ۔ اس کی تمام تر توجہ کا مرکز محبوب و معشوق بن جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ان کے درمیان میں ایک طرح کی وحدت و یکتائی وجود میں آ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ وابستگی کا احساس قایم ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ عشق اسے ہر چیز سے کاٹ دیتا ہے اور اس کی تمام تر توجہ ایک چیز کی طرف مرکوز کرا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اس طرح کے اس کیلئے سب کچھ معشوق کی ذات ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ایسی شدید حالت کو اہلِ فلسفہ عشق سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
ــــــــــــــــــــــــــ
 جسٹن سنو
انتخاب… فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY